| 71175 | طلاق کے احکام | بچوں کی پرورش کے مسائل |
سوال
مجھے یہ معلوم کرنا ہے کہ طلاق کے بعد بچے کو اُس کے والد سے ملانے کا کیا طریقہ کار ہوتا ہے؟ کیا ہر ہفتے یا ہر مہینے ملوانا ضروری ہے؟ اور اگر نہ ملوائیں تو کیا کوئی گناہ ہوگا؟ کیونکہ مجھے یہ لگتا ہے کہ وہ میرے بچے کو اُس کے نانا اور نانی کے خلاف ورغلائے گا۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
میاں بیوی میں طلاق ہوجانے کے بعد باپ کو اُس کی اولاد سے ملنے سے نہیں روکا جاسکتا۔ لہذا جب بھی بچوں کا باپ بچوں سے ملنا چاہے گا تو اُسے اُن سے ملنے کی اجازت ہوگی، بچوں کو باپ سے نہ ملنے دینا گناہ ہے۔
حوالہ جات
قال العلامۃ ابن عابدین رحمہ اللہ تعالی: ويؤيده ما في التتارخانية: الولد متى كان عند أحد الأبوين لا يمنع الآخر عن النظر إليه وعن تعهده. اهـ. ولا يخفى أن السفر أعظم مانع. (قوله: كما في جانبها) أي كما أنها إذا كان الولد عندها لها إخراجه إلى مكان يمكنه أن يبصر ولده كل يوم.(رد المحتار: 5/275)
قال جماعۃ من العلماء رحمھم اللہ تعالی: الولد متى كان عند أحد الأبوين لا يمنع الآخر عن النظر إليه وعن تعاهده، كذا في التتارخانية ناقلا عن الحاوي. (الفتاوی الھندیۃ: 1/543)
صفی ارشد
دارالافتاء، جامعۃ الرشید، کراچی
7/جمادی الثانیہ/1442
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | صفی ارشد ولد ارشد ممتاز فاروقی | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


