| 71172 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس بارے میں کہ محمد زاہد کا انتقال ہوگیا ہے۔ان کے ورثہ میں ایک بیوی ، پانچ بیٹیاں ، ایک بہن اور ایک والدہ شامل ہیں۔جبکہ مرحوم کا کل ترکہ بیس (20) ایکڑ زمین ہے۔اب سوال یہ ہے کہ یہ ترکہ کیسے تقسیم ہوگا؟
بعض لوگ کہہ رہے ہیں کہ زاہد کے بیٹے نہ ہونے کی وجہ سے اس کے بھتیجے(سگے بھتیجے مراد نہیں ،بلکہ زاہد کے چچا مرحوم کے بیٹے اور پوتے مراد ہیں)بھی اس ترکہ میں حصہ دار ہوں گے۔برائےکرم قرآن و سنت کی روشنی میں وضاحت فرمادیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مذکورہ صورت میں پورا ترکہ مرحوم کی والدہ ،بیوی،بہن اور بیٹیوں کو ہی ملے گا ، مرحوم کے چچا زاد بھائیوں اور ان کی اولاد کو شرعا کچھ نہیں ملے گا ، لہذا اگر مرحوم پر کسی بھی شخص کا قرض ہو تو ترکہ میں سے سب سے پہلے وہ قرض ادا کیا جائے گا ، پھر باقی مال کے چوبیس (24) حصے کرکے ان میں سے تین (3) حصے مرحوم کی زوجہ ، چار (4) حصے والدہ اور ایک (1) حصہ مرحوم کی بہن اور باقی سولہ (16) حصے پانچ بیٹیوں میں برابر تقسیم کیے جائیں گے۔فیصد کے اعتبار سے.5%12فیصد زوجہ کو ، ٪ 16.66فیصد والدہ کو، ٪4.16 فیصد بہن کو،اور٪ 13.33 فیصد ہر بیٹی کو ملے گا۔آسانی کے لیے ذیل میں دیا گیا نقشہ ملاحظہ ہوں:
|
ورثہ |
حصے |
فیصد |
|
زوجہ |
تین (3)حصے |
.5%12 |
|
والدہ |
چار(4)حصے |
16.66% |
|
بہن |
ایک (1) حصہ |
4.16% |
|
بیٹیاں |
سولہ (16)حصے |
%66.6613.33×5= |
|
کل ورثہ |
کل حصے:24 |
کل فیصد:100 |
حوالہ جات
قال جمع من العلماء: وأما النساء، فالأولى البنت ،ولها النصف إذا انفردت، وللبنتين فصاعدا الثلثان، كذا في الاختيار شرح المختار. …….فالزوج والزوجة ،للزوج النصف عند عدم الولد وولد الابن، والربع مع الولد أو ولد الابن ،وللزوجة الربع عند عدمهما ،والثمن مع أحدهما.
(الفتاوی الہندیة :6/ 0-49850)
قال العلامة الحصکفی رحمہ اللہ: (وللأم) ثلاثة أحوال (السدس مع أحدهما). قال العلامة ابن عابدین رحمہ اللہ: قوله:( مع أحدهما) أي الولد وولد الابن ذكرا أو أنثى.
(رد المحتار علی الدر المختار:10/ 514)
قال جمع من العلماء:الأخوات لأب وأم للواحدة النصف ،وللثنتين فصاعدا الثلثان، كذا في خزانة المفتين، ومع الأخ لأب وأم للذكر مثل حظ الأنثيين، ولهن الباقي مع البنات أومع بنات الابن، كذا في الكافي.(الفتاوی الہندیة :6/ 500)
وفي السراجی: وأما الأخوات لأب وأم فأحوال خمس:النصف للواحدة ،والثلثان للاثنین فصاعدا، و مع الأخ لأب و أم للذکر مثل حظ الأنثیین ، یصرن بہ عصبة ؛لاستواءھم فی القرابة إلی المیت،ولھن الباقی مع البنات أو بنات الإبن؛ لقولہ علیہ الصلاة و السلام:اجعلوا الأخوات مع البنات عصبة.(السراجی فی المیزان:25
)
سعد خان
دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
07 جمادی الثانیہ 1442ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سعد خان بن ناصر خان | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


