| 71281 | اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائل | ملازمت کے احکام |
سوال
میں ایک مسجد کا خطیب ہوں،لوگ مجھ سے سودی بینک کی ملازمت کے بارے میں پوچھتے ہیں،عرض یہ ہے کہ مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کیا فرماتے ہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
بغیر شدید ضرورت کے سودی بینک میں نوکری کرنا جائز نہیں، جو کام وہ سودی بینک میں کرسکتا ہے،وہی غیر سودی بینکوں اور دیگرجائزمالیاتی اداروں میں بھی ممکن ہے،لہذا اسے ان اداروں کا مشورہ دینا چاہیے،اس کے علاوہ بھی دیگر کاروبار اور حلال کمائی کے ذرائع کی طرف راہنمائی کرنی چاہیے، اگرکوئی روزگارمیسرنہ ہواور شدید ضرورت ہوتوسودی بینک کے صرف ان شعبوں میں ملازمت کی گنجائش ہے جوبراہ راست سودی لین دین اوراس کی کتابت وشہادت سے تعلق نہیں رکھتے،جیسے ڈرائیور،سیکورٹی گارڈوغیرہ ،تاہم اس ملازمت سے بھی مقصداورنیت سودی کاموںمیں تعاون کی نہ ہو۔دوسری صحیح ملازمت کے لیے کوشش جاری رکھی جائے جب وہ میسر ہو تو یہ نوکری فورا چھوڑ دی جائے۔
حوالہ جات
" الصحيح لمسلم(2/227) :
عن جابر قال: لعن رسول اﷲ صلی اﷲ علیه وسلم آکل الربا، وموکله، وکاتبه، وشاهدیه، وقال: هم سواء".
فقه البیوع(2/1066):
السابع:ان یؤجرالمرأنفسه للبنک بأن یقبل فیه وظیفة، فإن کانت الوظیفة تتضمن مباشرة العملیات الربویة،أوالعملیات المحرمةالأخری ،فقبول ھذہ الوظیفة حرام ،وذلک مثل التعاقد بالربوااخذاأوعطاء،أوخصم الکمبیالات،أوکتابة ھذہ العقود،اوالتوقیع علیھا،أوتقاضی الفوائد الربویة،أودفعها،أوقیدھا فی الحساب بقصد المحافظات علیھا،أوإدارةالبنک ،أوإدارةفرع من فروعه،فإن الإدارة مسئولة عن جمیع نشاطات البنک التی غالبھاحرام ۔ ومن کان موظفا فی البنک بھذاالشکل ،فإن راتبه الذی یاخذ من البنک کله من الأکساب المحرمةِ۔۔۔۔ أماإذاکانت الوظیفة لیس لھاعلاقة مباشرة بالعملیات الربویة،مثل وظیفة الحارس، أوسائق السیارة،أوالعامل علی الھاتف ،أوالموظف المسئول عن صیانة البناء،أوالمعدات،أوالکھرباء۔۔۔فلایحرم قبولھاان لم یکن بنیة الإعانةعلی العملیات المحرمة،وإن کان الاجتناب عنھاأولی،ولایحکم فی راتبه بالحرمة، لماذکرنامن التفصیل فی الإعانة والتسبب،وفی کون مال البنک مختلطابالحلال والحرام،ویجوزالتعامل مع مثل ھؤلاء الموظفین ھبة أوبیعاأوشراء.
نوید اللہ
دارالافتاء،جامعۃ الرشید
12/جمادی الثانیہ1442ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید نوید اللہ | مفتیان | آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


