| 72134 | طلاق کے احکام | خلع اور اس کے احکام |
سوال
سوال : محترم مفتی صاحب السلام علیکم !
میری بیوی نے معمولی جھگڑے پر مجھ سے طلاق کا مطالبہ کیا، جسے میں نے ٹال دیا اور صلح کرلی، مگرکچھ عرصہ بعد اسکے والدین اور بھانجے عمر نے فون پر مجھ سے جھگڑا کیا۔اس کے بعد میری بیوی عدالت میں جھوٹا بیان دیکر خلع حاصل کرچکی ہے۔عدالت کی طرف سے مجھے کوئی اطلاع نہیں ملی، بلکہ 3 مہینے بعد4 اکتوبر کو میرے چچازاد حاجی امیراللہ کے ذریعے مجھے اس خلع کا پتہ چلا، میرے اصرار پر صرف خلع کی کاپی حاجی امیراللہ کو دی۔مدعیہ کے بیان، وکیل کا پتہ اور نمبر دینے سے انکاری تھے۔
اب اس عدالتی خلع کی شرعی حیثیت معلوم کرنی ہے کہ کیا یہ بیوی مجھ پر حرام ہوگئ ہے یا نہیں؟صلح کی صورت میں دوبارہ نکاح کی ضرورت ہے یا نہیں؟
جھوٹ پر مبنی نکات اور میری طرف سے اسکے جوابات دیگر ثبوت اور خلع کی کاپی بمع اردو ترجمہ منسلک ہیں۔۔۔ والسلام
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
خلع ایک عقد ہے جس میں میاں بیوی دونوں کی رضامندی ضروری ہے۔ان میں سے کوئی ایک بھی راضی نہ ہو تو خلع واقع نہیں ہوتا۔لہذا شوہر کی رضامندی کے بغیر صرف بیوی کے دعویٰ کی بنیاد پر عدالتی خلع واقع نہیں کرسکتی۔سوال کے مطابق چونکہ شوہر خلع دینے پر راضی نہیں ،اس لیے عدالت کے اس فیصلے سے خلع واقع نہیں ہوا اور بیوی تاحال اپنے شوہر کے نکاح میں ہے۔
بہتریہ ہے کہ دونوں گھرانوں کے سمجھدار لوگ میاں بیوی کو سمجھابجھا کر ان میں صلح کرالیں اور ایک دوسرے کے حقوق ادا کرنے پرآمادہ کریں، تاکہ ان کا گھر ٹوٹنے سے بچ جائے اور نکاح برقرار رہے۔سمجھانے کے باوجود اگر میاں بیوی میں نباہ نہ ہوسکے اور شوہر طلاق یا خلع دینے پر بھی راضی نہ ہو تو پھر بیوی عدالت کے ذریعے شوہر سے جدائی حاصل کرسکتی ہے۔
عدالت کے ذریعے نکاح ختم کرانے کا طریقہ یہ ہے کہ بیوی عدالت میں فسخ نکاح کا مقدمہ دائر کرے اور گواہوں کے ذریعے شوہر کا جرم(مارپیٹ، نان و نفقہ نہ دینا) ثابت کرے۔گواہوں میں دو دیانت دار مرد یا ایک مرد اور دو عورتیں ہونے چاہییں۔اگر اس طرح عدالت میں شوہر کا جرم ثابت ہوجائے تو پھر عدالت نکاح ختم کرسکتی ہے۔ اور اگر بیوی کے پاس گواہ نہ ہوں یا وہ گواہوں کو پیش نہ کرے تو پھر شوہر سے قسم لی جائے گی کہ اس نے کوئی جرم نہیں کیا۔اگر شوہر نے قسم اٹھائی تو اس کے مطابق فیصلہ ہوگا اور نکاح ختم نہیں ہوگا، اور اگر شوہر نے قسم سے انکار کیا تو اس صورت میں بیوی کا دعویٰ ثابت ہوجائے گا، لہذا اب قاضی(جج) شوہر سے طلاق یا خلع دلوائے۔ اگر شوہر طلاق یا خلع دینے پر راضی نہ ہو اور بیوی کے حقوق ادا کرنے پر بھی آمادہ نہ ہو تو اس صورت میں جج بغیر مہلت دیےاز خود شوہر کی طرف سے اس کی بیوی پر طلاق واقع کرے۔ اس صورت میں عدالت کا فیصلہ فسخ نکاح (نکاح ختم کرنا) شمار ہوگا اور بیوی اس فیصلے کے بعد شوہر سے جدا ہوجائے گی۔
صورت مسئولہ میں خلع لیتے وقت اگر بیوی مذکورہ بالا طریقہ کار کو اپنا چکی ہے اور گواہوں کے ذریعے شوہر کا جرم ثابت کرچکی ہے تو پھر عدالت کا یہی فیصلہ(جو وہ خلع کے حق میں سنا چکی ہے) فسخ نکاح شمار ہوگا، جس کی وجہ سے بیوی کا نکاح ختم تصور ہوگا۔اس صورت میں عدت گزارنے کے بعد بیوی دوسری جگہ نکاح کرسکتی ہے۔
حوالہ جات
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (3/ 439):
الخلع (هو) لغة الإزالة، وشرعا كما في البحر (إزالة ملك النكاح المتوقفة على قبولها بلفظ الخلع أو ما في معناه).وأما ركنه فهو كما في البدائع: إذا كان بعوض الإيجاب والقبول لأنه عقد على الطلاق بعوض، فلا تقع الفرقة، ولا يستحق العوض بدون القبول.
أحكام الأحوال الشخصية في الشريعة الإسلامية (ص: 165):
وأما القاضي فلا يطلق الزوجة بناء على طلبها إلا في خمس حالات: التطليق لعدم الإنفاق، والتطليق للعيب و التطليق للضرر، والتطليق لغيبة الزوج بلا عذر، والتطليق لحبسه.
سید نوید اللہ
دارالافتاء،جامعۃ الرشید
17/رجب1442ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید نوید اللہ | مفتیان | آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


