| 71528 | ہبہ اور صدقہ کے مسائل | ہبہ کےمتفرق مسائل |
سوال
السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ!کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلے کے بارے میں اگر ایک آدمی کا رشتہ کسی ایسی لڑکی سے ہوجائے جس کے والد صاحب بینک میں ملازمت کرتے ہیں،مسلم کمرشل بینک میں وائس پریزیڈنٹ ہیں،اب وہ اپنے داماد کو بطور ہبہ یا اپنی صاحبزادی کو جو دیں گے تو اس کے بارے میں کیا فرماتے ہیں،مثلا وہ اپنے داماد کو گھڑی دیتے ہیں یا جو شادی وغیرہ میں دیاجاتا ہےاس کے بارے میں کیا حکم ہے؟راہنمائی فرمادیجیے آیا اس کا استعمال جائز ہے یا نہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
شرعی طور پرسودی بینک کےاس عہدےکی کمائی حلال نہیں ہے؛لہذا اگر وہ اپنی اسی کمائی سے ہدیہ یا کوئی اور چیز دے تو اس کو لینا جائز نہیں،نہایت مناسب انداز میں معذرت کرلی جائے۔
البتہ اگرایسا شخص اس ملازمت کے علاوہ کوئی جائز پیشہ (تجارت وغیرہ)رکھتاہو اور اکثر کمائی حلال ہو، کچھ حصہ بینک کی کمائی کا ہو یا وہ حلال رقم سےہدیہ وغیرہ کا انتظام کرے تو اس کو لینا جائز ہے۔
حوالہ جات
الفتاوى الهندية (5/ 342):
"أهدى إلى رجل شيئاً أو أضافه، إن كان غالب ماله من الحلال فلا بأس، إلا أن يعلم بأنه حرام، فإن كان الغالب هو الحرام ينبغي أن لايقبل الهدية ولايأكل الطعام، إلا أن يخبره بأنه حلال ورثته أو استقرضته من رجل، كذا في الينابيع ۔ ولا يجوز قبول هدية أمراء الجور ؛ لأن الغالب في مالهم الحرمة إلا إذا علم أن أكثر ماله حلال، بأن كان صاحب تجارة أو زرع فلا بأس به ؛ لأن أموال الناس لا تخلو عن قليل حرام، فالمعتبر الغالب، وكذا أكل طعامهم".
سید نوید اللہ
دارالافتاء،جامعۃ الرشید
23/جمادی الثانیہ1442ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید نوید اللہ | مفتیان | آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


