021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بچے کا ماں کے نیچے دب کر مرنے اوراپنی گاڑی کےنیچے آ کر مرنے کی صورت میں دیت اور کفارے کا حکم
71533قصاص اور دیت کے احکاممتفرق مسائل

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائےکرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک خاتون بچے کو لیٹے لیٹے دودھ پلارہی تھی کہ سو گئی۔ اس دوران بچہ اس کے نیچے آیا اور اس کی موت واقع ہوگئی۔ یہ کون ساقتل ہے؟اوراس کا کفارہ کیا ہے؟

دوسرا سوال یہ ہے کہ ایک آدمی اپنےگھر میں گاڑی چلا رہا تھا کہ ٹائر کے نیچے اپنا بچہ آیا اور اس کی موت واقع ہوگئی۔یہ قتل کی کون سی قسم ہے؟ اور اس کا کفارہ کیا ہے؟

o

سوال میں ذکر کردہ قتل کی دونوں صورتیں فقہی اصطلاح میں"جاری مجر ی خطا" میں داخل  ہیں،جس کا کفارہ مسلسل ساٹھ روزے رکھنا ہے۔ عورت کا ماہواری کے ایام میں روزہ نہ رکھنے سے تسلسل ختم نہیں ہوگا۔

اس طرح کے قتل سے قاتل گناہ گار ہوتا ہے،جس پر استغفار کرنا چاہیے اور آئندہ احتیاط کرنی چاہیے ۔ اس قتل پر دیت بھی آتی ہے،دیت کی ادائیگی پہلی صورت میں ماں کے خاندان والوں پر،جبکہ دوسری صورت میں باپ کے خاندان والوں پر واجب ہے،جسے تین سال میں ادا کرنا ہوگا۔دیت  کی کم از کم مالیت .61830 کلو گرام چاندی یا اس کی قیمت،اور تولہ کے حساب سے یہ مقدار  2625 تولہ بنتی ہے۔دیت کی یہ رقم مقتول بچہ کے ترکہ میں شامل ہوکر ورثہ کے درمیان میراث کے شرعی اصولوں کے مطابق  تقسیم کی جائے گی، اورجس سے قتل ہوا ہے اسے بطور وارث دیت نہیں ملے گی،البتہ ورثہ اگر معاف کرنا چاہیں تو دیت معاف ہو جائے گی،لیکن کفارہ معاف نہیں ہوگا،اس کی ادائیگی بہرحال ضروری ہے۔

حوالہ جات

قال العلامۃ الحصکفی رحمہ اللہ : الرابع (ما جرى مجراه) مجرى الخطأ (كنائم انقلب على رجل فقتله)؛ لأنه معذور كالمخطئ، (وموجبه) أي موجب هذا النوع من الفعل، وهو الخطأ وما جرى مجراه (الكفارة ،والدية على العاقلة) والإثم دون إثم القاتل؛ إذ الكفارة تؤذن بالإثم لترك العزيمة.
قال العلامۃ ابن عابدین الشامی رحمہ اللہ : قوله: (والرابع ما جرى مجراه ) فحكمه حكم الخطأ في الشرع، لكنه دون الخطأ حقيقة؛ فإن النائم ليس من أهل القصد أصلاً، وإنما وجبت الكفارة لترك التحرز عن نومه في موضع يتوهم أن يصير قاتلًاأيضا، وحرمان الميراث لمباشرة القتل، وتوهم أن يكون متناعسا لم يكن نائما قصدا منه إلى استعجال الإرث، والذي   سقط من سطح،  فوقع  على إنسان، فقتله ،أو كان في يده لبنة أو خشبة، فسقطت من يده على إنسان ،أو كان على دابة، فأوطأت إنسانا ،فقتله ،مثل النائم؛ لكونه قتلا للمعصوم من غير   قصد.  (وكفارتهما) أي الخطأ وشبه العمد (عتق قن مؤمن، فإن عجز عنه صام شهرين ولاء، ولا إطعام فيهما) إذ لم يرد به النص، والمقادير توقيفية.
(الدر المختار مع در المحتار:6/531،574)
قال الشیخ نظام الدین رحمہ اللہ :وأما ما جرى مجرى الخطأ، فهو مثل النائم ،ينقلب على رجل فيقتله، فليس هذا بعمد، ولا خطأ ،كذا في الكافي، وكمن سقط من سطح على إنسان فقتله أو كان على دابة فوطئت دابته إنسانا، هكذا في المحيط . وحكمه حكم الخطأ :من سقوط القصاص، ووجوب الدية والكفارة، وحرمان الميراث .
وكل دية وجبت بنفس القتل  يقضى من ثلاثة أشياء في قول أبي حنيفة رحمہ اللہ تعالى  : من الإبل مائة، ومن العين ألف دينار، ومن الورق عشرة آلاف، وللقاتل الخيار يؤدي أي نوع شاء .كذا في محيط السرخسي.(الفتاوی الھندیۃ:6/3،24)

عرفان حنیف

دارالافتاء،جامعۃالرشید،کراچی

  23جمادی الثانیہ/1442ھ

n

مجیب

عرفان حنیف بن محمد حنیف

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔