021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
دس فیصد اضافے کے ساتھ رقم واپس کرنے پر صلح کرنا
71596اقرار اور صلح کا بیانمتفرّق مسائل

سوال

ہم نے 2014 میں ایک ہاؤسنگ اسکیم پروجیکٹ میں سرمایہ کاری کی فلیٹ اور گھر کی مد میں۔ تقریبا چھ ہزار لوگوں نے اِس اسکیم میں شرکت کی۔ اِس اسکیم کی تکمیل 2019 میں ہونی تھی اور لوگوں کو گھر دیے جانے تھے۔ 2018 تک اِس اسکیم پر کام ہوتا رہااور گھر اور فلیٹ کی تعمیر ہوئی۔ 2019 کے شروع میں ہمیں پتا چلا کہ اِس پروجیکٹ پر کام نہیں ہورہا اور زمین پر کوئی قانونی مسئلہ ہے۔ ہاؤسنگ اسکیم کی انتظامیہ سے جب ہم نے پوچھا تو اُنہوں نے ہمیں بتایا کہ تعمیر کا کام روک دیا گیا ہے اور اب یہ پروجیکٹ مکمل نہیں ہوگا اور ہم آپ لوگوں کی اب تک کی جمع کی ہوئی رقم واپس کردیں گے۔ ہم ایک سال تک اُن کے آفس کے چکر لگاتے رہے اور احتجاج بھی کیا، لیکن اُن لوگوں نے ہمیں ایک روپیہ تک نہیں دیا۔ ہر دفعہ یہ ہی کہہ کر ٹال دیتے کہ ہم رقم واپس کردیں گے۔ دلبرداشتہ ہوکر ہم تقریبا ڈھائی سو لوگوں نے مل کر عدالت جانے کا فیصلہ کیا۔ ہم نے پہلے سندھ ہائی کورٹ میں فراڈ کا کیس دائر کیا، پھر وہ کیس سپریم کورٹ تک چلا گیا۔ سپریم کورٹ میں پیشی کے بعد ہاؤسنگ اسکیم کی انتظامیہ کو احساس ہوگیا کہ وہ کیس ہار جائیں گے۔ چنانچہ اُنہوں نے ہم ڈھائی سو لوگوں سے سپریم کورٹ میں صلح کا فیصلہ کیا۔ سپریم کورٹ کی سربراہی میں صلح نامہ تیار ہوا جس میں یہ فیصلہ ہوا کہ ہاؤسنگ اسکیم کی انتظامیہ تمام چھ ہزار لوگوں کو اُن کی جمع کی ہوئی سو فیصد رقم چھ ماہ کے اندر واپس کرے گی۔ اِس کے علاوہ ہم ڈھائی سو لوگ، جنہوں نے کیس کیا تھا ، کو اُن کو نقصانات (کیس، وکیل، عدالت کے اخراجات، پانچ سال بعد پراپرٹی نہ ملنے کی صورت میں رقم کی قدر و قیمت کی تنزلی) کی مد میں کل جمع کی ہوئی قیمت کے ساتھ دس فیصد مزید ادا کیا جائے گا تاکہ اُن لوگوں کے نقصانات کا ازالہ ہوسکے۔ چنانچہ انتظامیہ نے ہمیں کل رقم مزید دس فیصد اضافے کے ساتھ ادا کردی ہے۔ کیا یہ اضافی رقم لینا اور اُسے استعمال کرنا ہمارے لیے جائز ہے؟ براہِ مہربانی تفصیل سے جواب دے کر رہنمائی فرمائیں۔ جزاکم اللہ خیرا۔

o

مذکورہ صورت میں کیس کرنے والوں اور ہاؤسنگ اسکیم کی انتظامیہ کے درمیان اصل رقم کے ساتھ حرجانہ اور کیس وغیرہ کے اخراجات کی مد میں جو مزید دس فیصد رقم پر صلح ہوئی ہے، عدالت کی جانب سے اُس پر فیصلہ ہونے کی بنا پر وہ رقم لی بھی جاسکتی ہے اور عدالت اندازہ کرکے اُسے متعین بھی کرسکتی ہے۔

حوالہ جات

حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "سوال: مدیون پر نالش کرنے پر (خواہ زمیندارہ حیثیت سے ہو یا بلا لین دین کے نالش ہو) خود ڈگری شدہ اُس مقدار سے جو مدعی اپنے حقوق کے ثبوت میں خرچ کرتا ہے، لازمی طور پر بہت کم ہوتا ہے۔ زائد خرچ کے وصول کی مدیون سے کوئی صورت نہیں، نہ عدالت ڈگری دیتی ہے، البتہ عدالت سود لگانے کی اجازت دیتی ہے۔ مذہبا ناجائز ہے۔ کیا یہ جائز ہوگا کہ مدعی سود لگا کر دعوی دائر کرے اور مقدارِ سود میں اپنا زائد خرچ محسوب کرلے، اگر تعدادِ سود خرچ سے زائد ہو تو مدعی اُس زائد سود کو مدیون کو ادا کردے؟
جواب: جن اہلِ علم کے نزدیک خرچہ لینا جائز ہے، وہ اِس کی بھی اجازت دیتے ہیں۔"(امداد الفتاوی، کتاب الشہادت:3/171)
قال العلامۃ تقي العثماني رحمہ اللہ تعالی: أما إذا کان القاضي غیر مجتھد، ولم یقیدہ السلطان بمذھب معین، ولا التزم ھو بمذھب بعینہ، فقضی في مسئلۃ بتقلید أي فقیہ معتبر، فالظاھر أنہ ینفذ قضاؤہ. وذلك لما جاء في الفتاوی الھندیۃ: ذکر في شرح الطحاوي و جامع الفتاوی: القاضي إذا لم یکن مجتھدا، ولکنہ قضی بتقلید فقیہ، ثم تبین أنہ خلاف مذھبہ، ینفذ ولیس لغیرہ نقضہ، ولہ أن ینقضہ. ھکذا روي عن محمد رحمہ اللہ تعالی. (أصول الإفتاء وآدابہ: 280)

صفی ارشد

دارالافتاء، جامعۃ الرشید، کراچی

24/ جمادی الثانیہ/1442

n

مجیب

صفی ارشد ولد ارشد ممتاز فاروقی

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔