03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
میت کی میراث کی چچازاد اور پھوپھی زاد میں تقسیم
71637میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

ہمارے چچا کی بیٹی نسرین اختر ولد حاجی محمد ایوب جو کہ مکان سٹی سروے نمبر3335/3337میں اکیلی رہتی تھی جس کا انتقال مورخہ 2017/08/23 کو ہوگیاہے،اس کے شوہر کا  بھی انتقال ہوگیا تھا اور اس کی کوئی اولاد نہیں تھی ۔

والد،والدہ اور معذور بہن کا پہلے ہی انتقال ہوچکا تھا،اور نسرین اختر جو کہ مکان پھیلی حیدرآباد میں واقع ہے ،اکیلی رہائش پذیر تھی۔

نسرین اختر کے انتقال سے پہلے اس کے تمام چچا اور ایک پھوپھی کا انتقال ہوچکاتھا۔تین چچا اور ایک پھوپھی کی اولاد کی تفصیل مندرجہ ذیل ہے۔

1۔ چچا محمد اسحاق کی اولادیں:            1۔پروین اعجاز2۔سلیم شیخ    3۔نعیم شیخ

2۔چچا محمد فاروق کی اولادیں:           1۔خواجہ نعیم2۔محمد علی3۔خواجہ فیصل فاروق

4۔یاسمین عارف5۔شازیہ انس6۔آسیہ فاروق

3۔ہمارے والد محمد رؤف کی اولادیں:   1۔محمد عارف2۔محمد امجد3۔محمد آصف4۔محمد عابد

4۔پھوپھی زبیدہ نذیر کی اولادیں:       1۔ندیم 2۔نجمہ سلیم        3۔شاہین الیاس

جناب مفتی صاحب!

قرآن وسنت  کی روشنی میں نسرین اختر کی جائیداد میں کن کن ورثہ کا حصہ بنتا ہے،مکمل تفصیل کے ساتھ تحریر فرمادیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مرحومہ نے  فوت ہوتے وقت  ترکہ میں جو کچھ چھوڑا  تھا وہ سب ورثہ میں شرعی طور پر تقسیم ہوگا،جس کی صورت یہ ہے کہ تمام مال واسباب کی قیمت لگائی جائے،اور اس سے کفن دفن کے معتدل اخراجات نکالے جائیں،پھر اگر میت پر قرضہ ہو تو وہ ادا کیا جائے۔اس کے بعد ان کے مال کو چچازاد بھائیوں میں برابر تقسیم کیا جائے۔چچا زاد بیٹیوں اور اسی طرح پھوپھی کی اولاد کو اس میں سے کچھ نہیں ملے گا

حوالہ جات

سید نوید اللہ

دارالافتاء،جامعۃ الرشید

27/جمادی الثانیہ1442ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید نوید اللہ

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب