021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
کسی کا والد کے گھر میں رہائش پذیر ہونے سے اس کی ملکیت ثابت نہیں ہوگی
72472ہبہ اور صدقہ کے مسائلہبہ کےمتفرق مسائل

سوال

میرے والد صاحب بلوچستان مین رہتے ہیں،وہی ان کی جاب ہے وہاں ہمارا گھر ہےجس کی حفاظت میرے والد صاحب کرتے ہیں،یعنی جب سے میں نے ہوش سنبھالا ہے وہاں میرے والد صاحب رہتے ہیں ،اس کا بل ،زمین اور درختوں کی حفاظت ،کمروں پرخرچہ کرنا ،یعنی اس گھر کا ہر خرچہ میرے والد صاحب کرتےہیں،یہ الگ  بات ہے کہ یہ زمین میرے نانا کی تھی ،جنہوں نے وہ زمین دادا کو دی تھی ،دادا نے اس وقت وہاں گھر بنایا لیکن اس کے بعد کا جو بھی خرچہ ہے یا کوئی بھی وہاں جاتا ہو،تو اس کے کھانےتک کاخرچہ والد صاحب اٹھاتے رہے ہیں،اور اس گھر کے جتنے بھی اختیارات اور خرچےہیں سب میرے والد صاحب کے ذمہ ہیں۔  

سوال یہ ہے کہ وہ والد صاحب کی ملکیت ہوگی یا وہ ورا ثت کا حصہ ہوگا؟جیسا کہ میں نے کہا دادا نے شروعات میں گھر  تو بنایا لیکن وہ خود کراچی میں رہائش پذیر رہے اپنی باقی فیملی کے ساتھ۔وہاں صرف میرے والد صاحب رہے ہیں اور وہاں ان کی جاب بھی ہے جب سے ہوش سنبھالا ہے میں نے وہی میرے والد صاحب کی رہائش گاہ ہے۔اور اس کا خرچہ صرف اور صرف میرے والد صاحب کرتے ہیں، لیکن شریعت  کی رو سےوہ میرے والد صاحب کی ملکیت ہوگی یا وراثت کا حصہ بنے گی اور میرے والد کو اس سے محروم کیا جائے گا؟

o

مسئولہ صورت میں جب دادا نے باقاعدہ آپ کے والد کو مالک بناکر یہ گھر نہیں دیاتوصرف اس میں رہائش رکھنے سے گھر آپ کے والد کا شمار نہیں ہوگا،اسلئے یہ گھر وراثت میں شامل ہوکر ورثاءکے درمیان تقسیم ہوگا،البتہ اگر آپ کے والد نے اس  میں  کوئی بڑی تعمیر کی ہے تووہ اس کی ملکیت ہے،اس کو گھر کی آمدنی سے منفی کیا جاسکتاہے ۔

کیونکہ شرعاً کسی چیز کی ملکیت ان وجوہات سے ثابت ہوتی ہے:خریدنے سے ،ہبہ کرنے سے یا وراثت وغیرہ سے۔ اس لیےکہ کسی چیز پرملکیت اس میں رہائش پذیر ہونے سے، اس کی حفاظت اورتعمیر واصلاح کرنے سے نہیں آتی ہے ۔

تاہم اگر آپ کے دادا نے یہ گھر آپ کے والد کو اپنی زندگی میں ہبہ کیا ہو،اور آپ کواس کا قبضہ وتصرف کےسارے اختیارات بھی دیئے ہوں، تو اس صورت میں یہ گھر آپ کے والد کی ملکیت ہے،دوسرے ورثاء کا اس میں کوئی حصہ نہیں ہوگا۔

حوالہ جات

البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (8/ 224،553)
(ولو عمر دار زوجته بماله بإذنها فالعمارة لها والنفقة دين عليها؛ لأن الملك لها) وقد صح أمرها بذلك فينتقل الفعل إليها فتكون كأنها هي التي عمرته فيبقى على ملكها وهو غير متطوع بالإنفاق فيرجع لصحة أمرها فصار كالمأمور بقضاء الدين، قال - رحمه الله - (ولنفسه بلا إذنها فله) أي إذا عمر لنفسه من غير إذن المرأة كانت العمارة له؛ لأن الآلة التي بنى بها ملكه فلا يخرج عن ملكه بالبناء من غير رضاه فيبقى على ملك۔
واما أسباب الملك فھی  الشراء والهبة والصدقة والميراث والخلع والكتابة وغير ذلك۔
تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي (5/ 91)
وشرطها أن يكون الواهب عاقلا بالغا حرا والموهوب له مميزا والموهوب مقبوضا۔ (قوله و شرطھا)
قال الأتقاني وأما شرط جوازها فالقبض حتى لا يثبت الملك للموهوب له عندنا قبل القبض،وكونها غير مشاع إذا كانت مما يحتمل القسمة۔

وقاراحمد

دارالافتاءجامعۃ الرشید کراچی

۱۲رجب ۱۴۴۲

n

مجیب

وقاراحمد بن اجبر خان

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔