021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ذہن میں طلاق کے وساوس آنے سےنکاح پرمنفی اثر نہیں پڑتا
71816طلاق کے احکامطلاق کے متفرق مسائل

سوال

میرے ذہن میں طلاق دینے کے وساوس اور خیالات آتے ہیں لیکن میں کبھی ان الفاظ کو زبان پر نہیں لاتا جو میرے ذہن میں آتے ہیں لیکن میرے لیے یہ فرق کرنا مشکل ہوتا ہے کہ آیا یہ خیالات میں خود اپنے اختیار سے ذہن میں لاتا ہوں یا غیر اختیاری طور پر میرے ذہن میں آتے ہیں لیکن مجھے یہ وسوسہ ضرور ہوتا ہے کہ شاید یہ خیالات میں اپنے ذہن میں خود لاتا ہوں لیکن الفاظ کو کبھی اپنی زبان پر نہیں لاتا تو کیا اس صورت میں بھی نکاح پر کوئی منفی اثر پڑتا ہے یا نہیں ؟

o

طلاق کے واقع ہونے کے لیے ضروری ہے کہ طلاق کے صریح یا کنایہ الفاظ زبان سے ادا کیے جائیں یا پھر لکھ کر دیے جائیں ۔الفاظ طلاق چاہے اختیار سے ذہن میں لائے جائیں یا غیر اختیاری طور پر ذہن میں آ جائیں ، اس سے نکاح پر کوئی منفی اثر نہیں پڑتا ۔

حوالہ جات

الموسوعۃ الفقھیہ الکویتیۃ-(43-148)
وَلَوْ حَدَّثَ نَفْسَهُ أَنَّهُ يُطَلِّقُ زَوْجَتَهُ ، أَوْ يُنْذِرُ لِلَّهِ تَعَالَى شَيْئًا ، وَلَمْ يَنْطِقْ بِذَلِكَ ، لَمْ يَقَعْ طَلاقُهُ ، وَلَمْ يَصِحَّ نَذْرُهُ (2) ؛ لِقَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ تَجَاوَزَ لأُمَّتِي عَمَّا وَسْوَسَتْ - أَوْ حَدَّثَتْ - بِهِ أَنْفُسَهَا مَا لَمْ تَعْمَلْ بِهِ أَوْ تَكَلَّمْ " (3) .
وَقَالَ قَتَادَةُ بَعْدَ أَنْ رَوَى الْحَدِيثَ : إِذَا طَلَّقَ فِي نَفْسِهِ فَلَيْسَ بِشَيْءٍ .
وَقَالَ عُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ : لا يَجُوزُ طَلاقُ الْمُوَسْوَسِ .
وَعَلَّقَ ابْنُ حَجَرٍ عَلَى هَذَا الْقَوْلِ شَارِحًا لَهُ : أَيْ لا يَقَعُ طَلاقُهُ ؛ لأَنَّ الْوَسْوَسَةَ حَدِيثُ النَّفْسِ ، وَلا مُؤَاخَذَةَ بِمَا يَقَعُ فِي النَّفْسِ (4)

عبدالدیان اعوان

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی 

3 رجب 1442

n

مجیب

عبدالدیان اعوان بن عبد الرزاق

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔