021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مشترکہ زمین پر گھر کی تعمیر
71703میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

جس گاؤں میں ہم رہتے ہیں اس کے مکانات اور پلاٹ کی سرکاری رجسٹری یاکھاتہ وغیرہ ثبوت کسی کے پاس نہیں، صرف قبضہ ہے اور عرصہ دراز سے لوگ اسی طرح رہائش پذیر ہیں۔ جس مکان میں میری رہائش ہے وہ پہلے میرے دادا کے پاس تھا، اس کے دو بیٹے تھے، ان میں سے ایک بیٹے (میرے والد صاحب) اپنے دادا کے ساتھ اسی مکان میں رہےاور دوسرے بیٹے علیحدہ رہنے لگے۔ والد صاحب کے انتقال کے بعد ہم نے کچا مکان گرا کر از سر نو بنوایا ، بھرائی بھی کرائی، پختہ کمرے وغیرہ بنوائے اور بہت خرچ کیا۔ اس تعمیر میں میرے چچا زاد بھائیوں نے کوئی حصہ نہیں ملایا۔ اب میرے والد اور چچا کے انتقال کے کافی عرصہ بعد میرے چچا زاد بھائی مطالبہ کر رہے ہیں کہ اس گھر میں ہمارا بھی حصہ ہے وہ ہمیں دو۔

مذکورہ کے علاوہ کچھ زرعی زمین بھی ہے، جس کے باقاعدہ کاغذات اور ثبوت موجود ہیں، تو جب میں اس زرعی زمین میں سے اپنے والد صاحب کا حصہ اپنے چچا زاد بھائیوں سے مانگتا ہوں، تب وہ میرے گھر میں اپنے والد صاحب کے حصہ کا مطالبہ کرتے ہیں۔

آپ سے معلوم یہ کرنا ہے کہ کیا شرعا مکان میں ان کا حصہ بنتا ہے، جبکہ سرکاری کاغذات یا رجسٹری وغیرہ کوئی ثبوت نہیں ہے؟ کیا یہ قبضہ بمنزلہ ملکیت کے ہوگا یا نہیں؟ اور اگر ان کا حصہ بنتا ہے، تو کیا صرف مکان کے پلاٹ کی حد تک ہے یا بنے بنائے گھر میں حصہ ہوگا، جبکہ اس پر سارا خرچہ میں نے اور والد صاحب نے کیا ہے؟

o

مذکورہ زمین کا اگر کوئی مستحق (مالک) نکل آئے، جو ثبوتوں اور دستاویزات کے ساتھ اپنی ملکیت ثابت کرے، یا یہ بات معلوم ہو جائے کہ مذکورہ زمین سرکار کے نام رجسٹرڈ ہے، تو پھر یہ زمین اپنے مالک کو حوالے کی جائے گی۔ لیکن اگر سرکار یا کوئی اور مالک سامنے نہیں آتا، تب تک یہ زمین اس پر رہنے والوں کی ملکیت شمار ہوگی۔ چونکہ آپ لوگوں کا دادا اسی پلاٹ پر رہ رہا تھا، جس کی وجہ سے یہ اس کی ملکیت تھی جو کہ ابھی تک تقسیم نہیں ہوئی ہے، اس میں چچا زاد بھائیوں سمیت سب ورثاء کا حصہ بنتا ہے۔ اس زمین پر گھر کی تعمیر میں چونکہ آپ کے چچا اور اس کی اولاد نے حصہ نہیں ملایا اور دونوں گھرانے الگ الگ رہ رہے ہیں، خرچے مشترک نہیں ہیں، اس لیے ان تعمیرات میں تو آپ کے چچا زاد بھائیوں کا حصہ نہیں ہے، البتہ زمین میں وہ شریک ہیں۔ اس زمین میں سے ان کا حصہ الگ کر کے دینا ہوگا یا آپس کی مرضی اور اتفاق سے اس زمین کی موجودہ مارکیٹ ریٹ معلوم کر کے ان کے حصے بقدر رقم ادا کرنی ہوگی، تیسری صورت یہ بن سکتی ہے کہ یہی پلاٹ آپ اپنے پاس رکھیں اور زرعی زمین اپنے چچا زاد بھائیوں کے پاس رہنے دیں لیکن اس پلاٹ اور زرعی زمین دونوں کا مارکیٹ ریٹ معلوم کرکے حصص کو آپس میں برابر کر لیں۔

زرعی اراضی جس کے کاغذات اور ثبوت موجود ہیں اس میں بھی سب ورثاء شریک ہیں وہ بھی شرعی تقسیم کے لحاظ سے تقسیم کرنی ہوگی ۔

حوالہ جات

الأشباه والنظائر لابن نجيم (ص: 188)
الحق لا يسقط بتقادم الزمان.
الأشباه والنظائر لابن نجيم (ص: 272)
ما يقبل الإسقاط من الحقوق وما لا يقبله، وبيان أن الساقط لا يعود: لو قال الوارث: تركت حقي لم يبطل حقه؛ إذ الملك لا يبطل بالترك، والحق يبطل به حتى لو أن أحدا من الغانمين قال قبل القسمة: تركت حقي بطل حقه، وكذا لو قال المرتهن: تركت حقي في حبس الرهن بطل، كذا في جامع الفصولين للعمادي، وفصول العمادي.
المبسوط للسرخسي (5/ 224)
بخلاف سائر الديون لا تسقط بتأخير الأداء والنفقة لا تصير دينا بل تسقط بمضي الوقت فيستوجب الحبس إذا امتنع من الأداء.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 743)
وإلا فقد قالوا إن الحق لا يسقط بالتقادم كما في قضاء الأشباه.

ناصر خان مندوخیل

دارالافتاء جامعۃالرشید کراچی

04/07/1442 ھ

n

مجیب

ناصر خان بن نذیر خان

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔