| 71852 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک عورت ایل،ایچ ،وی پوسٹ پر ڈیوٹی کررہی تھی کہ عورت کا انتقال ہوگیا ،مرنے کے بعد حکومت کی طرف سے عورت کو 9لاکھ کا پنشن ملاہے۔مرحومہ کے والدین اور خاوند حیات ہیں۔اولاد کوئی نہیں ،اب یہ پنشن میں عورت کے والدین اور خاوند کا کتنا حصہ ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مرحومہ کی وفات کے بعد ماہانہ پنشن کی رقم ادارے کی طرف سے نامزد کیے گئے شخص کےلیے عطیہ ہوگی،وہ اسی کی ہوگی جس کو ادارہ متعین کرکے دے گا۔وفات کے بعد یکمشت حاصل ہونے والی پنشن کی رقم پر چونکہ زندگی میں حق ثابت ہوچکا ہوتا ہے،اس لیے وہ بطور میراث تقسیم ہوگی۔
مرحومہ نے فوت ہوتے وقت ترکہ میں جو کچھ چھوڑا تھا وہ سب ورثہ میں شرعی طور پر تقسیم ہوگا،جس کی صورت یہ ہے کہ تمام مال واسباب کی قیمت لگائی جائے،اور اس سے کفن دفن کے معتدل اخراجات نکالے جائیں،پھر اگر میت پر قرضہ ہو تو وہ ادا کیا جائے۔پھر تمام مال ہو یا سوال میں موجود صورت، جس میں فقط 9لاکھ روپے ہیں ، اس کے کل 6 حصے بنائے جائیں گے۔اورورثہ میں تقسیم اس طرح ہوگی کہ والد کو 2حصے یعنی3لاکھ روپے ملیں گے۔والدہ کو 1حصہ یعنی ڈیڑھ لاکھ روپے ملیں گے۔شوہر کو 3حصے یعنی 4لاکھ پچاس ہزار روپے ملیں گے۔
واضح رہے کہ یہاں صرف 9 لاکھ روپے تقسیم کیے گئے ہیں،اگر تمام مال کی مقدار اس سے زیادہ ہوتو پھر حصے تو یہی ہوں گے،البتہ رقم کی مقدار تبدیل ہوجائےگی
حوالہ جات
سید نوید اللہ
دارالافتاء،جامعۃ الرشید
05/رجب1442ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید نوید اللہ | مفتیان | آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


