03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
فون پر نکاح کا مسئلہ
72011نکاح کا بیاننکاح کے جدید اور متفرق مسائل

سوال

نکاح کے متعلق دریافت کرنا چاہتا ہوں کہ فون پر نکاح کر سکتے ہیں یا نہیں؟ اس بارے میں لڑکی اور لڑکے والوں کے لیے کیا احکام ہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

نکاح کا اصل طریقہ یہ ہے کہ نکاح کرنے والا مرد اور عورت مجلسِ نکاح میں موجود ہوں اور دو گواہوں کی موجودگی میں ایجاب و قبول کریں۔ بلاوجہ اس طریقے کو نہیں چھوڑنا چاہیے، تاہم ہمارے معاشرے میں عموماً لڑکی کی طرف سے وکیل ہی مجلسِ نکاح میں آتا ہے، لڑکی خود نہیں آتی تو اس طرح بھی نکاح درست ہوجاتا ہے۔ لڑکی یا لڑکا کسی کو اپنا وکیل بنا کر مجلسِ نکاح میں بھیج دیں تو اس میں بھی حرج نہیں، لیکن فون پر اس طرح نکاح کرنا کہ لڑکا کہیں اور اور لڑکی کہیں اور ہو اور دونوں آپس میں ایجاب و قبول کریں تو اس سے نکاح نہیں ہوتا، لہٰذا جس مجلس میں گواہ موجود ہیں، اسی میں اگر لڑکا یا لڑکی یا دونوں کسی کو اپنا وکیل بنا دیں تو نکاح درست ہوجائے گا۔

حوالہ جات

قال العلامۃ الحصکفی رحمہ اللہ تعالٰی: ومن شرائط الإيجاب والقبول: اتحاد المجلس لو حاضرين.

وقال تحتہ العلامۃ ابن عابدین الشامی رحمہ اللہ تعالٰی:  قوله: (اتحاد المجلس) قال في البحر: فلو اختلف المجلس لم ينعقد. (رد المحتار: 13/3)

وقال العلامۃ الحصکفی رحمہ اللہ تعالٰی: (وينعقد) متلبسا (بإيجاب) من أحدهما (وقبول) من الآخر (وضعا للمضي)؛ لأن الماضي أدل على التحقيق (كزوجت) نفسي أو بنتي أو موكلتي منك(و) يقول الآخر: (تزوجت).

وقال تحتہ العلامۃ ابن عابدین الشامی رحمہ اللہ تعالٰی: قوله:  (كزوجت نفسي ) أشار إلى عدم الفرق بين أن يكون الموجب أصيلا أو وليا أو وكيلا….. قوله: (ويقول الآخر تزوجت) أي أو قبلت لنفسي أو لموكلي أو ابني. (ردالمحتار: 10/3)

محمد عبداللہ بن عبدالرشید

دارالإفتاء جامعۃ الرشید کراچی

7/رجب المرجب/1442ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد عبد اللہ بن عبد الرشید

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب