021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
عدت کی ابتداء خلع کے بعد سے ہوگی
71942طلاق کے احکامعدت کا بیان

سوال

میری بیٹی کی شادی کو تقریباً سات سال ہوگئے ہیں،سسرال والے بہت ظلم کرتے تھے،اب میری بیٹی خلع لینا چاہتی ہے،اب آپ سے عرض ہے کہ میری تقریباً تین مہینے پہلے روٹھ کر اپنے میکے آئی تھی،یہاں میکے میں اسے پہلے مہینے میں مینسس آئے تھے،اس کے بعد اب تک نہیں آئے،میری بیٹی نے 2021۔02۔02 کو خلع کے کاغذات پر کردیئے ہیں،اب اس کی خلع کی عدت کب سے شمار ہوگی؟ یعنی جب سے میکے سے روٹھ کر آئی ہے اس وقت سے یا پھر خلع کے کاغذات پر شوہر کے دستخط کرنے کے بعد سے اور اس عدت کی مقدار کتنی ہوگی؟

تنقیح:

 سائلہ سے معلوم ہوا کہ یہ عدالتی خلع کا مسئلہ نہیں ہے،بلکہ باہمی رضامندی سے خلع کا مسئلہ ہے۔

o

عدت کی ابتداء طلاق یا خلع کے بعد سے ہوتی ہے،لہذا مذکورہ صورت میں آپ کی بیٹی عدت کی ابتداء اس وقت سے ہوگی جس وقت شوہر نے زبانی طور پر خلع قبول کرلیا تھا،اگر کاغذات پر دستخط سے پہلے زبانی قبول نہیں کیا تھا تو پھر جب شوہر نےخلع کے کاغذات پر دستخط کیے ہیں اس وقت سے عدت شمار ہوگی۔

نوٹ:

حائضہ)جس عورت کو ماہواری آتی ہو) عورت کی عدت تین ماہواریاں ہیں،اگرچہ ان کے درمیان وقفہ عام معمول سے زیادہ ہی کیوں نہ ہو اور جس عورت کو حیض)ماہواری) نہیں آتا اس کی عدت تین مہینے ہیں،جبکہ طلاق کے وقت اگر عورت امید سے ہو تو پھر اس کی عدت بچے کی ولادت تک ہوتی ہے۔

حوالہ جات

"الدر المختار " (3/ 520):
"(ومبدأ العدة بعد الطلاق و) بعد (الموت) على الفور (وتنقضي العدة وإن جهلت) المرأة (بهما) أي بالطلاق والموت لأنها أجل فلا يشترط العلم بمضيه سواء اعترف بالطلاق، أو أنكر".
 
 
 

محمد طارق

دارالافتاءجامعۃالرشید

08/رجب1442ھ

n

مجیب

محمد طارق صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔