021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
تیسری رکعت میں قیام نہ کرنے کا مسئلہ{مقتدی کاتشہد پوراہونے سے قبل امام اٹھ کر قیام کرکے رکوع میں چلاگیا}
72131نماز کا بیاننماز کے فرائض و واجبات کا بیان

سوال

میں نے دوسری رکعت میں التحیات پوری نہیں کی تھی کہ امام صاحب تیسری رکعت کا قیام کرنے کے بعد رکوع میں بھی چلے گئے۔ میں نے قیام نہیں کیا، بلکہ التحیات کے فوراً بعد رکوع میں چلا گیا۔ کیا میری نماز درست ہو گئی؟

o

اگر آپ نے ایک بار کھڑے ہوکر فوراً رکوع کیا تھا تو آپ کا قیام ہوگیا اور نماز درست ہوگئی، البتہ اگر کوئی ایسی صورت تھی کہ آپ سرے سے کھڑے ہی نہیں ہوئے اور قعدہ سے اٹھتے ہی رکوع میں رک گئے تو آپ کی نماز نہیں ہوئی۔ دوبارہ پڑھنی ہوگی۔

حوالہ جات

قال العلامۃ الحصکفی رحمہ اللہ تعالٰی:  (ومنها القيام) بحيث لو مد يديه لا ينال ركبتيه ومفروضة وواجبة ومسنونة ومندوبة بقدر القراءة فيه، فلو كبر قائما فركع ولم يقف صح؛ لأن ما أتى به القيام إلى أن يبلغ الركوع يكفيه، قنية. (الدرالمختار مع ردالمحتار: 444/1)
وقال العلامۃ ابن عابدین الشامی رحمہ اللہ تعالٰی: لو نام في الثالثة واستيقظ في الرابعة. فإنه يأتي بالثالثة بلا قراءة. فإذا فرغ منها صلى مع الإمام الرابعة، وإن فرغ منها الإمام صلاها وحده بلا قراءة أيضا.  (ردالمحتار: 595/1)
وقال العلامۃ ابن الھمام رحمہ اللہ تعالٰی: ثم الركن ينقسم إلى أصلي وزائد، وهو ما يسقط في بعض الصور من غير تحقق ضرورة، وهو القراءة تسقط حالة الاقتداء، وعن المدرك في الركوع، مثلا بخلاف غيرها لا يسقط، إلا لضرورة. (فتح القدیر: 277/1)

محمد عبداللہ بن عبدالرشید

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی

15/رجب المرجب/ 1442ھ

n

مجیب

محمد عبد اللہ بن عبد الرشید

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔