021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
میاں بیوی کےدرمیان مالی معاملات میں اختلاف
72164اقرار اور صلح کا بیانمتفرّق مسائل

سوال

سوال:بخدمت مفتی صاحبان جامعۃ الرشید کراچی!

مؤدبانہ التماس ہےکہ میں چندگھریلو مسائل میں الجھاہواہوں۔

میں نےپہلی شادی 1990میں کی وہ میرےسگےماموں کی بیٹی تھی،لیکن میری پہلی منگنی پھوپی کےگھرنہ ہوسکی،جہاں میری چاہت تھی)پہلی شادی میری 21سال رہی،جس سے3بیٹیاں اوردوبیٹےہیں،ان 21سالوں کےدوران بہت سےگھریلو الجھاؤآئے،لیکن اس خاتون کی موبائل کی غلطی اورموبائل دوستی طلاق کاسبب بنی۔

بچےمکمل میں نےاپنےپاس رکھ لیے،اس کےبعددوسری شادی فیملی سےباہرکرلی،شادی کودس ماہ ہی گزرے۔

جہاں پہلےمیری منگنی نہ ہوسکی تھی(وہ خاتون ٹیچرتھی،اس کی عمر53سال تھی اورمیری 43سال تھی)اس کی طرف سےپیغام آیاکہ میرےبھائی تومتفق نہیں ہیں،اگرآپ شادی کرناچاہتےہیں توٹھیک،اسکول کےچندآدمیوں نےمل کرنکاح خوان کابندوبست کیااورمیں نےتیسری شادی کرلی۔

اس خاتون کےنکاح میں اس کےبھائی یاوالدوغیرہ شریک نہیں تھے،اسکول کاکلرک اورایک لیڈی ٹیچرکاخاوندنکاح کےگواہ تھے۔

لیکن میرےگھرمیں جو20سال سکون نہ آیااس کا10فیصدحصہ اس خاتون کابھی تھا( جوٹیچرتھی)جس سےمیں نے2013میں شادی کی۔

جب میں نےتیسری شادی کی تو دوسری بیوی(جوموجودتھی،اس)کوبلاوجہ طلاق دینی پڑی،اورہرجانہ کےطورپرچھ لاکھ ان کودےکرمعاملات ختم کیے،وہ چھ لاکھ رقم خاتون نےہی اداء کی۔

2013میں جب میری اس خاتون سےشادی ہوئی تومیں ESTٹیچرکام کررہاتھا،اووہ SSTٹیچرکام کرہی تھی،جب شادی ہوئی تواس کےاکاؤنٹ میں 15 لاکھ کےقریبرقم موجودتھی،جس میں سے 6 لاکھ دوسری بیوی سےجان چھڑانےمیں چلےگئی،اوربقایارقم(تقریبا 9لاکھ )سےہم نےایک گاڑی خریدلی،ا س کےبعدگھریلو زندگی معمول پرآئی،گھرالحمدللہ میراذاتی اچھابناہوا،ٹیچنگ کےساتھ میں اضافی کاروبار(میڈیسن  کاکام) کررہاتھا،تنخواہ اوردکان کی آمدنی تقریبا 60اور70ہزاربنتی تھی،میری تیسری بیوی کی تقریبا 2013 میں 53سے60ہزارکےدرمیان تنخواہ تھی،گھرمیں میرااوربیوی کاتعلق اچھارہا،گھرکامشترکہ خرچہ چلتارہا،وہ اپنےوظیفےمیں سے5ہزارروپےاپنی کنواری بہن کودیتی تھی(سپورٹ کرتی تھی)اس کےعلاوہ کبھی اس کی خواہش بنی تواس نےزیوربنوالیا،2013سے2020تک ہم نےایک عمرہ اداکیا،اس طرح گھرکانظام مل جل کرچلتارہا۔

میری بیٹی سب سےبڑی تھی،اس کارشتہ میں نےاپنی بیوہ سسٹرکودیاجوکہ غریب بھی تھی،اورحق داربھی تھی میں نےپچھلےسالوں میں جتنی زکوۃ نکالی اس کاتقربیا 80فیصداس کوہی دیا،اس رشتہ کےنتازع پرہماراگھریلونظام ڈسٹرب ہوگیا،میری تیسری بیوی وہاں رشتہ نہیں دیناچاہتی تھی کہ وہ غریب ہیں،ہم کوکھاجائیں گےوغیرہ وغیرہ،اورتیسری بیوی سےمیری کوئی اولادنہیں ہے۔

جب یہ میری بیٹی کارشتہ طےہواتوہلکاسااختلاف ہوگیا۔

اس رشتہ کےاختلاف کےبعد جب میں ستمبرمیں ایک دن گھرمیں نہیں تھا،تومیری بیوی گھرسےاپنےسگےبھتیجےکےساتھ تقریبا 20تولہ سےاوپرزیور،کچھ کپڑےجوتےاوراسکول کےریٹائرمنٹ کےکاغذات بھی ساتھ لےکرچلی گئی۔

وہ میرےساتھ  تقریبا 7سال رہی، 2019 میں اس نےپنشن لی،اس کی تمام رقم (پنشن کی)44 لاکھ اورسات سال کی تنخواہوں سےتقریبا 65فیصدرقم گھرمیں ہی استعمال ہوتی رہی،2015میں میں نےکپڑےکاکاروبارکیا،دودکانیں بنائی۔2016 میں خودپنشن لےلی،پھرکریانہ اسٹورکاکاروبارپارٹنرشپ پرکیا،اورکچھ پراپرٹی  کاکام کیا،اسمیں 10لاکھ کانقصان ہوا،اورکچھ نفع بھی ہوا،کچھ معاملات کی وجہ سےکریانہ اسٹوربھی بیچناپڑا،اب میرےپاس تقریبا 30لاکھ مالیات کی صرف ایک کپڑےکی دکان ہےمیری باقی  پنشن تقریبا 29 لاکھ روپےبنی تھی،جوکاروبارمیں لگادی۔

بیوی کی پنشن کاحساب لگایاگیاتوآخری حساب کےمطابق اس کی پنشن سے10مرلہ کاایک مکان اور20مرلہ کاایک پلاٹ لیاتھا،جواب کسی کےنام پرنہیں ہے،لیکن پلاٹ موجود ہے۔

اب جب میری بیوی اختلاف کرکےاپنےبھتیجےکےساتھ گئی تواس نےاپنےتینوں بھائیوں سےراضی نامہ بھی کرلیا،اس کےدوبھائی تواس کی کوئی رقم نہیں لیناچاہتے،لیکن ایک بھائی اب بھی اس کاساتھ دےرہاہے۔

 

ہم نےاس کی طرف اپنی طرف سے2دفعہ ثالث بھیجےتاکہ راضی نامہ ہوجائے،لیکن اب ان کابھائی کہتاہےکہ 2013سے2020سات سالوں میں میری بہن کی جوآمدنی ہوئی ہے،اس کی ہم نےبینک اسٹیٹمنٹ نکلوائی،ہے،وہ ایک کروڑ30 لاکھ روپےبنتی ہے،اب اس کےاکاونٹ میں رقم دولاکھ سےکم ہے،یہ ٹوٹھیک ہےاب ان کےبھائی ہمارےجوثالث گئےہیں ان سے56 لاکھ روپےڈیمانڈ کررہےہیں میں نےپہلےثالث کوکہاہےکہ پنشن کی رقم سےجومکان اورپلاٹ لیاہےوہ میڈم اپنےنام کروالےاوروہ مجھے دنیاو آٓخرت کےلین دین میں مکمل بری الذمہ قراردیدے۔اس تفصیل کےبعدمیراسوال یہ ہےکہ  مجھےاپنی بیوی کوکتنی رقم اداء کرنی چاہیے؟شرعی طورپروہ کتنی رقم کی حقدارہے؟

 

o

صورت مسئو لہ میں سب سےپہلےیہ دیکھاجائےبیوی کی جتنی رقم تھی،اس میں سےشوہرنےخاص اپنےاستعمال کےلیےکتنی رقم لی،اورمشترکہ  طورپرکتنی رقم استعمال  ہوئی ؟

مذکورہ صور ت میں اگر الگ الگ کرناممکن ہوتوجو رقم ذاتی استعمال کےلیےلی ہوتواس کوواپس کرنالازم ہے،مثلا شروع میں شوہرنےبیوی سے6 لاکھ روپےلیے(دوسری بیوی سےجان چھڑانےکےلیے)یہ واپس کرناضروری ہوں گے،اسی طرح گاڑی کےلیے9لاکھ روپےلیےاگرگاڑی دونوں کی بھی مشترک طورپرتھی بیوی بھی استعمال کرتی تھی یابیوی نےدیتےوقت کوئی وضاحت نہیں کی توپھراس رقم کاواپس کرناضروری نہیں،ہاں اگردیتےوقت قرض کی نیت تھی اورشوہرکوبتابھی دیاہوتویہ رقم واپس کرناضروری ہوگا۔

بیوی کی پنشن کی رقم چونکہ بیوی کی اجازت سےگھرکےاستعمال میں رہی،وہ بھی اس سےاخراجات کرتی رہے،اوررقم شوہرکودیتےوقت کوئی وضاحت بھی نہیں کی توشرعااس رقم کابھی واپس کرناضروری نہیں ہے۔

شوہرکواتنااندازہ ہےکہ پنشن اوربیوی کی تنخواہ سےتقریبا 65فیصدرقم گھرکےاخراجات میں استعمال ہوئی ہے،اوراستعمال میں دونوں برابرکےشریک تھےتواس رقم کاواپس کرناضروری نہیں،اس 65فیصدکےعلاوہ باقی رقم اگربیوی کےپاس ہی تھی تواس کامطالبہ درست نہیں،اوراگروہ بھی شوہرکےپاس تھی اوراس نےذاتی استعمال میں خرچ  کی تواس کاواپس کرناضروری ہوگا۔اوراگر وہ رقم بھی مشترکہ طورپرخرچ ہوئی تھی توواپس کرناضروری نہیں۔

اگرشوہراندازہ لگاکربیوی کواس کی رقم واپس کرنےکی استطاعت رکھتاہوتوبہتریہ ہےکہ  جتنی رقم اس سےلی ہےوہ واپس کردی جائے۔

بیوی کی پنشن کی رقم سےجومکان اورپلاٹ خریداہےوہ بیوی کاذاتی ہے،وہ پلاٹ اورمکان مکمل طورپربیوی کوحوالہ کرنالازم ہے۔

بیوی جو20تولہ سونالےکرگئی ہے،اس کاحکم یہ ہےکہ اگروہ ساراسونااس کاذاتی تھاتوشوہرکوواپس کرناضروری نہیں ہوگا،اورکچھ سوناشوہرکاہےجیساکہ سوال میں شوہرنےوضاحت کی ہےکہ اس میں تقریبا 6تولہ سونامیراہےتواس کوبیوی کےدین میں حساب کیاجاسکتاہے۔

جہاں تک مسئلہ ہےبیوی کےبھائی کاکہ بینک اسٹیٹمنٹ کےمطابق 13000000(ایک کروڑتیس لاکھ) رقم بنتی ہےجس میں سے56لاکھ وہ ڈیمانڈکررہےہیں،چونکہ میاں بیوی کی آمدنی اوراخراجات مشترکہ تھے،اس لیےیہ فیصلہ کرناکہ بیوی نےشوہرکی کتنی رقم استعمال کی اورشوہرنےبیوی کی کتنی رقم استعمال کی،یہ مشکل ہے،اس لیےایسےمعاملات میں صلح(یعنی کچھ لینےاورکچھ دینے)کاطریقہ اختیارکیاجائےتوبہترہے،صورت مسئولہ میں اگرشوہرکچھ متعین رقم بیوی کودیدیےتوآپس کےلین دین کامعاملہ ختم ہوسکتاہے،دونوں طرف سےعفو ودرگزرکامعاملہ رکھاجائے،ہرایک دوسرےکاخیال رکھتےہوئےباہمی رضامندی سےصلح کرے۔

شوہرکی طرف سےذکرکردہ صلح کی صورت بھی شرعادرست ہےکہ اگربیوی راضی ہوتواس کی پنشن سےجومکان اورپلاٹ لیاتھا،وہ اس کےنام کرکےاس کےحوالےکردیاجائے۔

یاپھرپنشن کی جتنی رقم تھی وہ پوری رقم اگربیوی کودیدےتو صلح کی یہ صورت بھی  شرعا درست ہوگی۔اوریہ 44لاکھ رقم میاں بیوی میں جتنےمعاملات ہوئے،ان سب کابدل ہوگی،ایک دفعہ صلح کےبعدبھائی یاکسی اورکےکہنےپرشوہرسےدوبارہ کسی  قسم کےمطالبہ کاحق نہ ہوگا،کیونکہ اب تک جتنےاختلافات ہوئےیہ سب کی طرف سےصلح شمار ہوگی۔

حوالہ جات

محمدبن عبدالرحیم

دارالافتاءجامعۃالرشیدکراچی

18/رجب 1442 ھج

n

مجیب

محمّد بن حضرت استاذ صاحب

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔