021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
تاحیات خود منتفع ہونے کی شرط پر مکان وقف کرنے کا طریقہ
72069وقف کے مسائلوقف کے متفرّق مسائل

سوال

میں مسمیٰ محمد ھارون ولد عبدالقیوم سکنہ محلہ گلفام خان مانسہرہ اور بیوی مسماۃ شہناز بی بی دختر دلبر:

ہم دونوں مانسہرہ شہر میں رہتے ہیں ،ہماری کوئی اولاد نہیں ہے،اور میرے والدین بھی فوت ہو چکے ہیں،اور میرے بہن بھائی بھی خوشحال زندگی گزار رہے ہیں،میر ا(ھارون)ایک عدد ذاتی ڈبل سٹوری مکان( واقع محلہ گلفام خان مانسہرہ شہر )ہے۔

ہم میاں  بیوی چاہتے ہیں کہ ہمارا یہ مکان  وقف ہوجائے جسکی صورت یوں ہو ،کہ ہم میاں بیوی جب تک زندہ رہیں یہ مکان ہمارے استعمال وتصرف میں رہے مکمل طور پر،  اور ہم دونو  ں کے مرنے کے بعد یہ مکان مسجد یا مدرسہ کیلئے وقف ہوجائے۔

شریعت میں اس کا طریقہ کیا ہے؟

 

o

شریعت کی رو سے چونکہ وقف میں تا حیا ت خود منتففع ہونے کی شرط لگانا جائز ہے،اس لیےمسئولہ صورت میں وقف اس طرح کریں کہ:

میں اپنے اس مکان کو اس شرط پروقف کر رہا ہوں کہ جب تک ہم میاں بیوی میں سے کوئی بھی زندہ ہو،تو یہ مکان مکمل طور پر اس کےاستعمال وتصرف  میں رہےگا،اور ہم دونوں کے مرنے کے بعد یہ مکان فلاں مسجد یا مدرسہ کے لئے وقف ہے۔  

مگر نفس وقف اس شرط سے جائز ہے کہ دیگر ورثاء کی معاشی حالت بہتر ہو اور ان کو محروم کرنا مقصود نہ ہو ،بلکہ ثواب کی نیت ہو۔

حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (4/ 384)
(وجاز جعل غلة الوقف) أو الولاية (لنفسه عند الثاني) وعليه الفتوى(قوله: وجاز جعل غلة الوقف لنفسه إلخ) أي كلها أو بعضها۔
البناية شرح الهداية (7/ 447)
 قال: وإذا جعل الواقف غلة الوقف لنفسه ۔۔۔۔يفتي به أيضًا ترغيبًا للناس في الوقف.
البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (5/ 237)
 قوله (وإن جعل الواقف غلة الوقف لنفسه صح) أي لو شرط عند الإيقاف ذلك اعتبر شرطه فهو
جائز عند أبي يوسف۔۔۔وفي فتح القدير فقد ترجح قول أبي يوسف قال الصدر الشهيد والفتوى على قول أبي يوسف ونحن أيضا نفتي بقوله ترغيباً للناس في الوقف واختاره مشايخ بلخ وكذا ظاهر الهداية حيث أخر وجهه ولم يدفعه ۔
الأشباه والنظائر - حنفي (ص: 219)
 شرط الواقف يجب اتباعه لقولهم : شرط الواقف كنص الشارع أي : في وجوب العمل به وفي المفهوم والدلالة۔

وقاراحمد بن اجبرخان

 دارالافتاءجامعۃ الرشید کراچی

۱۲/رجب/ ۱۴۴۲

n

مجیب

وقاراحمد بن اجبر خان

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔