021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
میت کمیٹی کی تشکیل کاحکم
72243وقف کے مسائلوقف کے متفرّق مسائل

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں :

شریعت میں اس بات کی ترغیب دی گئی ہے اور باعث اجر و ثواب قرار دیا ہے کہ جب کسی کی ہاں فوتگی ہو جائے تو میت کے ہمسایوں ، محلہ داروں اور میت کے رشتہ داروں کے لیے مستحب ہے کہ کھانا تیار کر کے میت کے گھر بھیج دیں ۔ اس بات کو سامنے رکھتے ہوئے ہمارے علاقہ والوں نے سہولت کی بنیاد پر کچھ تنظیمیں بنائی ہیں ، جس کو کمیٹی کہتے ہیں ۔اس کو بنانے کا طریقہ یہ ہے کہ جو لوگ محلہ میں بغیر کسی جبر اور شرما شرمی ، اپنی دلی خوشی سے اس کمیٹی میں شامل ہونا چاہتے ہیں تو وہ کمیٹی کے رکن بن جاتے ہیں اور جو لوگ اس میں شامل نہیں ہونا چاہتے ہیں ان پر کوئی جبر نہیں ، البتہ کمیٹی والے اجتماعی طور پر کمیٹی کی ترتیب سے ان کے ساتھ تعاون نہیں کرتے ہیں ، بلکہ انفرادی طور پر لوگ اس کے ساتھ تعاون کرتے ہیں ، ہاں البتہ تعزیت دونوں حالتوں میں اجتماعی ہیئت سے کرتے ہیں ۔

کمیٹی کی ترتیب یہ ہوتی ہے کہ چند افراد کمیٹی کے منتظمین ہوتے ہیں جو کہ اس محلے کے افراد اور کمیٹی کے ممبر ہوتے ہیں ۔ اس کمیٹی میں جتنے افراد یا گھرانے شامل ہیں ، ان سے ہر فوتگی پر ایک مخصوص رقم ، جو عام طور پر میت کے لواحقین اور ان کے دور سے آنے والے مہمانوں کے لیے کھانا تیار کرنے کے لیے کافی ہو جائے ، لے لیتے ہیں۔یہ رقم اس کھانے کا متبادل ہے جو کھانا پہلے لوگ اپنے اپنے گھروں میں تیار کر کے میت کے گھر پہنچاتے تھے ۔ اس کمیٹی کی وجہ سے لوگوں کو بہت سہولت ہے ۔

جب فوتگی ہو جائے تو کمیٹی کے منتظمین بازار جا کر مختلف دکاندار حضرات سے اشیاء خوردونوش خرید کر میت کے لواحقین او ر دور سے آنے والے رشتہ دار مہمانوں کے لیے تین دن کھانے کا انتظام کراتے ہیں ۔ تیسرے دن کے بعد محلے والے اپنی خوشی سے وہ مخصوص رقم کمیٹی کے منتظمین افراد کو دیتے ہیں پھر کمیٹی کے منتظمین جا کر بازار میں جس دکان والے سے اشیاء خوردنوش خریدے تھے ، پیسے دے دیتے ہیں ۔شاذ ونادر محلہ والوں میں سے اگر کوئی رقم دینے میں ٹال مٹول کرتا ہے تو کمیٹی کے منتظمین حضرات کمیٹی کے نظام کو خرابی سے بچانے کے لیے ان پر جبر کرتے ہیں ۔ اگر یہ جبر نہ کریں تو پوری کمیٹی کا نظم و ضبط خراب ہو جاتا ہے ۔ اس جبر کی اصل وجہ یہ ہے کہ اصل میں یہ تعاون تو تبرع اور مستحب ہے لیکن کمیٹی بناتے وقت سارے محلے والے خود اس بات کا التزام کرتے ہیں کہ فوتگی ہو جانے پر آپ منتظمین حضرات سارے اخراجات برداشت کریں ۔ ہم مخصوص رقم آپ کو دیں گے ۔ہاں جو افراد اس معاہدے اور کمیٹی بنانے کے بعد اور فوتگی سے پہلے کمیٹی سے نکلنا چاہتے ہیں، ان پر کوئی روک ٹوک نہیں ہے ،وہ نکل سکتے ہیں ۔

اس سارے طریقہ کار کے بعد آپ حضرات کے علم میں ہے کہ بالعموم تمام مسلمانوں اور بالخصوص ہمارے پہاڑی علاقوں کے پٹھانوں میں الحمد اللہ امداد باہمی اور آپس میں دلی ہمدردی کا جذبہ بہت زیادہ موجود ہے ۔ لو گ غمی کے موقع پر تعزیت ، تجہیز و تکفین ، قبر کی کھدائی ، جنازہ وغیرہ میں ثواب کی نیت سے شامل ہو جاتے ہیں ، جس کی شریعت میں بھی ترغیب دی گئی ہے ۔ اسی ترتیب سے لوگ اس استحباب کا بھی دوام کے ساتھ عمل کرتے ہیں کہ میت کے لواحقین اور ان کے مہمانوں کے لیے کھانے کا انتظام کرے ، کیونکہ خود لواحقین تو تین دن بہت مشغول ہوتے ہیں جس کی وجہ سے خود اپنے لیے اور مہمانوں کے لیے کھانے کا انتظام کرانا مشکل ہو جاتا ہے ۔ ان ساری باتوں کے پیش نظر چونکہ یہ ایک ضرورت بن چکی ہے ، لہذا آپ حضرات ان باتوں پر غور کر لیں ۔ اگر کوئی کام اس کمیٹی کی ترتیب میں شریعت سے متصادم ہو ، تو ان پر تنبیہ کر دیں تا کہ اس سے اجتناب کیا جائے اور مزید اپنی طرف سے کچھ اضاٖفہ بھی کر دیں تا کہ شریعت کی منشا پر  عمل بھی ہو جائے اور مفاسد سے بھی بچا جا سکے ۔

o

اس قسم کی کمیٹی بنانے کے پیچھے سوچ اور مقصد یقیناً قابل تحسین ہے ، لیکن اس قسم کی میت کمیٹی کی تشکیل میں درج ذیل امورکا خیال رکھنا ضروری ہے :

کمیٹی کاحصہ بننے پر کسی گھرانے کو مجبور نہ کیا جائے ۔ جو گھر کمیٹی کاحصہ نہ بنے ، اسے ملامت نہ کیا جائے اور نہ اس پر اخلاقی دباؤ ڈالا جائے ۔

صورت مسئولہ میں کمیٹی کا نظم برقرار رکھنے کے لیے چندہ کی وصولی کے لیے لوگوں پر جبر کرنے کا ذکر ہے ۔اس صورت میں اگر اہل محلہ کی جانب سے پہلے اس بات کی یقین دہانی ہوئی ہے کہ کسی بھی فوتگی کے معاملے میں آپ خرچہ کر لیں ، بعد میں ہم سے وصول کر لیں ،اس صورت میں پیسوں کی وصولی کے لیے اہل محلہ سے رجوع کیا جا سکتا ہے،کیونکہ متعلقہ اخراجات ان کی ذمہ داری پر کمیٹی نے کیے ہیں ، لہذا اس کی ادائیگی ان پر لازم ہے۔

نیز اس صورت میں اس بات کا بھی خیال رکھا جائے کہ میت کے گھر میں دعوتی انداز میں کھانے کا انتظام کرنے سے منع کیا گیا ہے ، لہذا کھانے وغیرہ کا انتظام صرف میت کے گھر والوں اور مسافر رشتے داروں کے لیے کیا جائے ۔ اہل محلہ کے لیے نہ ہو ۔نیز فوتگی کے وقت سے ایک دن کا کھانا تیار کروانا مستحب ہے ،بلا ضرورت  تین دن کا التزام درست نہیں ۔

حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 240)
(قوله وباتخاذ طعام لهم) قال في الفتح ويستحب لجيران أهل الميت والأقرباء الأباعد تهيئة طعام لهم يشبعهم يومهم وليلتهم، لقوله - صلى الله عليه وسلم - «اصنعوا لآل جعفر طعاما فقد جاءهم ما يشغلهم» حسنه الترمذي وصححه الحاكم ولأنه بر ومعروف، ويلح عليهم في الأكل لأن الحزن يمنعهم من ذلك فيضعفون. اهـ. مطلب في كراهة الضيافة من أهل الميت
وقال أيضا: ويكره اتخاذ الضيافة من الطعام من أهل الميت لأنه شرع في السرور لا في الشرور، وهي بدعة مستقبحة: وروى الإمام أحمد وابن ماجه بإسناد صحيح عن جرير بن عبد الله قال " كنا نعد الاجتماع إلى أهل الميت وصنعهم الطعام من النياحة ". اهـ. وفي البزازية: ويكره اتخاذ الطعام في اليوم الأول والثالث وبعد الأسبوع ونقل الطعام إلى القبر في المواسم، واتخاذ الدعوة لقراءة القرآن وجمع الصلحاء والقراء للختم أو لقراءة سورة الأنعام أو الإخلاص. والحاصل أن اتخاذ الطعام عند قراءة القرآن لأجل الأكل يكره.
الفتاوى الهندية (3/ 574)
الوكيل بالشراء يجوز أن يشتري بمثل القيمة وزيادة يتغابن الناس في مثلها قال الإمام خواهر زاده: هذا فيما ليست له قيمة معلومة عند أهل ذلك البلد، وأما ما له قيمة معلومة عندهم كالخبز واللحم إذا زاد لا يلزم الآمر قلت الزيادة أو كثرت كذا في الجوهرة النيرة وإن قال: اشتر لي جارية حبشية أو مولدة أو هندية ولم يسم لها ثمنا جاز شراؤها على الصفة التي ذكرها إذا كان بثمن مثلها كذا في السراج الوهاج إذا قال لغيره اشتر لي جارية من جنس كذا وكذا ولم يسم ثمنا فهو جائز على ما يتعامل الناس عليه في ذلك الجنس، فإن جاء بشيء من ذلك مستشنع كثير الثمن لا يتعامل عليه العامة لم يجز على الآمر. إذا قال اشتر لي ثوب خز كوفي ولم يسم ثمنا جاز وكذلك إذا قال: اشتر لي ثوب خز بمائة درهم ولم يسم الجنس، كذا في الذخيرة.

عبدالدیان اعوان

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی

17 رجب 1442

n

مجیب

عبدالدیان اعوان بن عبد الرزاق

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔