| 72237 | نکاح کا بیان | نکاح کے جدید اور متفرق مسائل |
سوال
میرے شوہر 5 اکتوبر 2015 سے مجھے اور بچوں کو چھوڑ کر پنجاب چلے گئے، تب سے اب تک نہ رابطہ کیا ہے اور نہ ہی خرچہ دیتا ہے۔ اسی دوران میں نے اپنے بیٹے کو 2018 میں ملنے بھیجا مگر اس نے ملنے سے انکار کر دیا۔ پھر دوسری دفعہ 2019 میں بھیجا تو وہ ملا۔ اس کے بعد میں بچوں کو لے کر 18 اگست 2019 کو ملنے گئی تو اس نے کچھ (4،5) دن تو ہمیں بہت عزت اور سکھ سے رکھا مگر اس کے بعد وہی لڑائی جھگڑے کرنا شروع کر دیا۔ زبان کا گندا ہے، گندی گالیاں، الزام تراشی وغیرہ۔ ایک روز لڑائی اتنی بڑھی کہ ہم رات 02:30 کو اس کے گھر سے نکل آئے۔ اس نے ہمیں نہیں روکا، بلکہ اکثر کہتا کہ تم آئے کیوں ہو، سامان اٹھاؤ واپس چلے جاؤ (جبکہ ہمیں اس نے خود فون کر کے بار بار بلایا تھا)۔ اس کے بعد میں بچوں کو لے کر کزن کے گھر چلی گئی، تین دن بعد کراچی واپس چلے آئے۔ اس نے راستے میں خرچہ کرنے کے لیے کوئی رقم نہیں دی۔ کہتا ہے کہ پنجاب میں میری فیملی کے ساتھ رہو تو خرچہ دوں گا، مگر میں اور میرے بچے وہاں رہنا نہیں چاہتے۔ جو شخص ہمارے پاس رہ کر مجھے اور بچوں کی زندگی کی سہولیات نہیں دے سکتا وہ وہاں پر کیسے دے گا۔ واپس آنے کے بعد میں مسلسل ڈیڑھ سال تک اس کو مناتی رہی اور اس کا انتظار بھی کرتی رہی، لیکن وہ واپس نہ آیا، تو مجبورا میں نے عدالت میں اس پر خلع کا کیس دائر کر دیا۔ ہر نوٹس کو TCS کے ذریعے ملتا بھی رہا، 3 نوٹس کے بعد عدالت نے میرے حق میں فیصلہ دے دیااور مجھے خلع ہوگئی تو میں عدت میں بیٹھ گئی۔ میں نے خلع کی عدت کے بارے میں معلومات کی تو پتہ چلا کہ اس کی مدت 1 ماہ 10 دن ہےجوکہ میں نے کاٹ لی۔ مگر میں نے یوٹیوب پر مفتی طارق مسعود صاحب کا بیان سنا تو مجھے معلوم ہوا کہ اس طرح خلع نہیں ہوتی، اور اس کی عدت 3 ماہ 10 دن ہوتی ہےاور جب تک مفتی حضرات سے فتویٰ نہ لیا جائےعدت تسلیم نہیں کی جاتی، خلع نامے پر شوہر کے سائن بھی ضروری ہیں۔
اب آپ مجھے بتائیں کہ میں کیا کروں؟ شریعت کے حوالے سے میرے لیے کیا حکم ہے؟ میں نے اپنا بیان جو عدالت میں دیا تھا، جو مسئلہ مفتی طارق مسعود صاحب کو دیا تھا، عدالت کے پیپر اور عدالت کا خلع نامہ یہ سب چیزیں آپ کی خدمت میں پیش کر دی ہیں۔
اب آپ ہی میرے مسئلے کا شریعت کے مطابق حل نکالیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
- بھیجے گئے استفتاء کے ساتھ لف عدالتی فیصلے کی شق 7 اور سائل کے زبانی بیان کے مطابق سائل نے اسی عدالت میں خلع لینے کے لیے ایک درخواست بمورخہ 19-02-2019 جمع کرائی۔ مگر پھر کسی بھی قسم کا عدالتی فیصلے سے قبل اپنی مرضی سے وہ دعوی واپس لے لیا (withdrawn) تھا۔ اپنا کیس واپس لینے کی وجہ یہ بنی کہ شوہر نے اس عورت کو تمام شکایات دوورکرانے کی یقین دہانی کرائی تھی (یاد رہے کہ یہ یقین دہانی عدالت سے باہر کرائی گئی تھی، شوہر عدالت میں حاضر نہیں ہوا تھا، جیسا کہ عدالتی فیصلے کی شق 7 سے معلوم ہوتا ہے اور سائل نے زبانی بیان میں بھی یہی بتایا)، مگر پھر بھی ان شکایات کا ازالہ نہ ہو سکا اور عورت کو دوبارہ عدالت میں کیس دائر کرنا پڑا۔
- اب اس دوسرے کیس میں عدالت کی طرف سے جاری کیے گئے فیصلے کی شق 1 میں مذکور ہے کہ یہ فیصلہ خلع کی بنیاد پر (by way of Khulla)جاری کیا گیاہے۔ جبکہ خلع کے لیے طرفین کی رضامندی ضروری ہے۔ذکر کردہ صورت میں شوہر چونکہ عدالت میں حاضر ہی نہیں ہوا جس کی وجہ سے یک طرفہ فیصلہ کیا گیا ہے، اس لیے:
- اس طرح کے عدالتی خلع کا شرعاً اعتبار نہیں۔
- البتہ اگر شوہر اسی عدالتی فیصلے پر رضامند ہو کر تسلیم کرے تو بھی یہ فیصلہ شرعاً معتبر ہوگا۔
- اگر عورت ذکر کردہ اعذار کی وجہ سے شوہر سے علیحدگی چاہتی ہے، تو کسی طریقے سے شوہر کو طلاق یا خلع پر راضی کر لے، اگر نہیں، تو ذکر کردہ وجوہات (نان ونفقہ اور حقوق زوجیت کی عدم ادائیگی) کی بنیاد پر تنسیخ نکاح کے لیے عدالت میں دعویٰ دائر کر کے گواہوں سے ثابت کرے، اس کے بعد عدالت جو فیصلہ کرے وہ شرعا بھی معتبر ہوگا۔ لیکن اگر عدالتی کاروائی میں کوئی قانونی پیچیدگی روکاوٹ بنے تو جماعت المسلمین (اپنے علاقے کے چند معتبر شخصیات جن میں ایسے علماء کرام بھی شامل ہوں جو نکاح اور طلاق وغیرہ کے مسائل سے اچھی طرح واقف ہوں) کو حکم (ثالث) بنا کر ان کےسامنے اپنا مسئلہ پیش کرے اور ذکر کردہ مسائل کو گواہوں سے ثابت کرے، نیز جماعت المسلمین خود بھی تحقیق کرے گی۔ اس کے بعد اگر جماعت المسلمین نکاح فسخ کرا دے تو شریعت کی رو سے درست ہوگا۔
حوالہ جات
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 440)
ففي ظاهر الرواية لا يتم الخلع ما لم يقبل بعده.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 441)
وأما ركنه فهو كما في البدائع: إذا كان بعوض الإيجاب والقبول لأنه عقد على الطلاق بعوض، فلا تقع الفرقة، ولا يستحق العوض بدون القبول.
ناصر خان مندوخیل
دارالافتاء جامعۃالرشید کراچی
29/07/1442 ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | ناصر خان بن نذیر خان | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


