021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
والد کے گھرکی خریداری میں تعاون اور مہر میں والد کی طرف سے بعض حصہ لکھوانے کا حکم
72521میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

میرے  والد صاحب 4 سال پہلے فوت ہو چکے ہیں،ایک گھر چھوڑا  ہے, ہم 3 بھائی اور ایک بہن ہیں اور امی جان بھی حیات ہیں،جب ابو گھر خرید رہے تھے تو ایک بھائی نے 20 لاکھ اور دوسرے بھائی نے 5 لاکھ دئیے،بھائی کی شادی پر بھابی کے بھائیوں نے نکاح کے وقت اچانک  ابو کو بولا کہ لڑکی کے نام گھر کا تیسرا حصہ لکھو، ابو نے بہت انکار کیا، مگر بہت مہمان بیٹھے تھے، ابو کو منا لیا گیا،بھائی نے بھی  کچھ نہ بولا اور نکاح نامے پر  دستخط کر  دیئے،بعد میں بھابی اور بھائی کی بنی نہیں اور بھابی نے عدالت میں طلاق فائل کر دی،4 سال بعد عدالت نے فیصلہ دیا کہ گھر کا تیسرا حصہ( 60 لاکھ) اور باقی خرچہ( 20 لاکھ) لڑکی کو دیا جائے، بھائی نے 80 لاکھ دے کر  گھر میں عدالت کا سٹے ختم کروایا۔اب گھر تقسیم ہونا ہے، مارکیٹ میں قیمت  4کروڑ ہے، بھائی (جس نے عدالت کے حکم پر 80 لاکھ دیا ۔)نے پہلے بھی 20 لاکھ دیا تھا , اب وہ کہتا ہے 20 لاکھ چھوڑو ،میرے حصے میں گھر کا تیسرا حصہ آتا ہے، کیوں کہ میں نے جو 80 لاکھ عدالت میں دیا وہ ابو کے کہنے پر تھے اور نکاح نامے  میں تیسرا حصہ بھی ابو  کی مرضی پر لکھ گیا تھا ،میں نے تو ابو کے خاطر80 لاکھ دیا ورنہ عدالت گھربیچ کرلےلیتی ، اب گھر کی قیمت عدالت کی طرف سےطے کردہ قیمت پرہو گی؟یا پھر مارکیٹ پرائس پر ہوگی ؟ بڑی بھابی جس نے 5 لاکھ دیا تھا بتاتی ہے کہ ابو کہتے تھے کہ یہ گھر ریحان کا ہے، جو بڑی بھابی کا بیٹا ہے اور امی بتاتی ہے کہ امی نے بھی سنا تھا ،ریحان کے بارے میں ابو سے - اس  صورت میں کس کا کتنا حصہ بنتا ہے؟ سارا ریحان کا بنتا ہے؟ یا چھوٹے بھائی کاتیسرا حصہ بنتا ہے ؟یا سب کا برابر؟4کروڑمیں سب  کا کتنا کتنا حصہ بنتا ہے ؟مہربانی فرما کر رہنمائی فرمائیں۔

o

گھر کے خریدار چونکہ اصل میں آپ کے والد تھے اور باقی بھائیوں نے صرف خریداری کو ممکن اور آسان بنانے کے لیے والد کو رقم قرضہ کے طور پر دی تھی،لہذا یہ گھر والد کا ہے،جومارکیٹ ریٹ کے مطابق ان کے ترکہ میں شامل ہوکر ان کے ورثہ میں شرعی حصوں کے مطابق تقسیم ہوگا۔(جس کی تفصیل آگے آرہی ہے۔) باقی لڑکی والوں کی طرف سے نکاح کے موقع پر مہر کے علاوہ لڑکی کے نام پر اس مکان کے کسی حصہ کو لکھنے یا لکھوانےکی رسم کی شرعا کوئی حیثیت نہیں،بلکہ فقہاء کرام کی تصریح کے مطابق مہر کے علاوہ کوئی اور چیز لڑکے والوں پر زبردستی مقرر کرنا رشوت کے زمرے میں آتا ہے،(فتاوی فریدیہ:ج۵،ص۷۰ وفتاوی حقانیہ:ج۴،ص۳۷۰)لہذا طلاق کی صورت میں مہر اور نفقہ کے علاوہ جو رقم بھائی نے عدالتی فیصلہ کے مطابق مطلقہ بیوی کو ادا کی ہے،وہ رشوت ہے،جس کا واپس لوٹانا اس پر لازم ہے،لہذا اس کا مطالبہ وہ  بھائی دیگر بھائیوں یا مکان کی مالیت سے اپنے حصے سے اضافی طور پر نہیں مانگ سکتا۔

البتہ اگر مکان کا تیسرا حصہ مہر میں اضافےکے طور پر لکھا گیا ہو، تو ایسی صورت میں گھر کے تیسرے حصے کی قیمت صرف اسی بھائی پر بطور حق مہر لازم تھی جو اس نے ادا کردی۔

الفتاوى الهندية (1/ 327)

ولو أخذ أهل المرأة شيئا عند التسليم فللزوج أن يسترده؛ لأنه رشوة، كذا في البحر الرائق

 طریقہ تقسیم یہ ہے کہ مرحوم نےبوقت وفات اپنی ملکیت میں جو کچھ بھی جائیداد ، نقدی یا چھوٹا بڑا سامان چھوڑا ہے، وہ سب اس کا ترکہ ہےجس کی کل مالیت میں سے سب سے پہلے مرحوم کی سنت کے مطابق تجہیز وتکفین کا خرچ ادا کیا جائے ،بشرطیکہ کسی وارث وغیرہ نے اپنی طرف سے یہ خرچ نہ کیا ہو،اس کےبعداگر اس کے ذمہ قرض وغیرہ مالی واجبات ہوں تو انہیں ادا کیا جائے،پھراگر اس نے کسی غیر وارث  یا کسی نیک کام کے لیے کوئی جائز وصیت کی ہو تو باقی ماندہ ترکہ کے ایک تہائی تک اسے پورا کیا جائے،اس کے بعد جو  بچے اس کا آٹھواں حصہ(12٫5 فیصد) والدہ کو اس کے بعد بقیہ مال(87٫5 فیصد) کو سات برابر حصوں میں تقسیم کرکے ہر بھائی کو دو دو حصے (25 فیصد)اور بہن کو ایک حصہ(12٫5 فیصد) ملے گا۔

حوالہ جات

۔۔۔۔۔

نواب الدین

دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

یکم شعبان ۱۴۴۲ھ

n

مجیب

نواب الدین صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔