73023 | حدیث سے متعلق مسائل کا بیان | متفرّق مسائل |
سوال
مفتی صاحب! اس حدیث پر عمل کرتے ہوئے ہر ہر جوڑ کا صدقہ کیسے دیا جائے جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انسان کے بدن کے ہر جوڑ پر اس دن کا صدقہ واجب ہے جس میں سورج طلوع ہوتا ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
امام بخاری اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہم نے یہ حدیث نقل فرمائی ہے کہ انسان کے بدن کے ہر جوڑ پر اس دن کا صدقہ واجب ہے جس میں سورج طلوع ہوتا ہے ۔ یہ حدیث صرف مالی صدقہ پر منحصر نہیں، بلکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف اعمال کے بارے میں فرمایا کہ ان کا ثواب صدقہ کے برابر ہے، جیسے دو آدمیوں کے درمیان انصاف سے فیصلہ کرنا، کسی کی سواری پر سوار ہونے میں مدد کرنا، سواری پر سامان رکھنے میں مدد کرنا، کسی کو راستہ بتانا۔ نماز کے لیے جاتے ہوئے ہر قدم پر صدقہ کا ثواب ہے۔ اسی طرح لاإلٰہ إلا اللہ پڑھنا، اللہ أکبر پڑھنا، الحمدللہ پڑھنا اور سبحان اللہ پڑھنا۔ ان تمام اعمال کا ثواب صدقہ دینے کے برابر بیان کیا گیا ہے۔ چاشت کی نماز کے متعلق فرمایا کہ اس نماز کی دو رکعتیں تمام جوڑوں کے صدقہ کے لیے کافی ہوجائیں گی۔
حوالہ جات
وروی الإمام البخاری عن أبي هريرة رضی اللہ عنہ، قال: قال رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم: ((كل سلامى من الناس عليه صدقة، كل يوم تطلع فيه الشمس، يعدل بين الاثنين صدقة، ويعين الرجل على دابته، فيحمل عليها، أو يرفع عليها متاعه صدقة، والكلمة الطيبة صدقة، وكل خطوة يخطوها إلى الصلاة صدقة، ويميط الأذى عن الطريق صدقة.)) (صحیح البخاری: 56/4، ح: 2989)
وروی عن أبي هريرة رضی اللہ عنہ، عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم، قال: كل سلامى عليه صدقة كل يوم، يعين الرجل في دابته، يحامله عليها، أو يرفع عليها متاعه صدقة، والكلمة الطيبة، وكل خطوة يمشيها إلى الصلاة صدقة، ودل الطريق صدقة.(صحیح البخاری: 35/4، ح:2891(
وروی الإمام مسلم رحمہ اللہ تعالٰی: عن أبي ذر رضی اللہ عنہ، عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم، أنه قال: يصبح على كل سلامى من أحدكم صدقة، فكل تسبيحة صدقة، وكل تحميدة صدقة، وكل تهليلة صدقة، وكل تكبيرة صدقة، وأمر بالمعروف صدقة، ونهي عن المنكر صدقة، ويجزئ من ذلك ركعتان يركعهما من الضحى. (صحیح مسلم: 498/1، ح:720)
محمدعبداللہ بن عبدالرشید
دارالافتاء، جامعۃ الرشید ،کراچی
23/شعبان المعظم/ 1442ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد عبد اللہ بن عبد الرشید | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |