021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ذاتی کاروبار میں شامل کردہ بھائیوں کو کاروبار سے الگ کرنے کا حکم
73163شرکت کے مسائلشرکت سے متعلق متفرق مسائل

سوال

میں محمد ریاض...... کے حالات یہ ہیں کہ میرے والد صاحب کا اپنی تندرستی کے زمانے میں کمائی کے دوران حادثہ ہو گیا تھا اور وہ بستر پر آ گئے تھے ۔ بڑا ہونے کی وجہ سے مجھے روزگار تلاش کرنا پڑا ۔ میں نے اڈوں پر منشی گیری کی اور مزدوری وغیرہ کی ۔ اس کمائی سے میں نے والد صاحب کا علاج بھی کروایا۔پھر میں نے اپنا کاروبار شروع کیا ۔ اللہ تعالی نے ترقی دی پھر میں اپنے سب چھوٹے بھائیوں کو اپنے ساتھ کاروبار میں لے آیا ۔ ایک بھائی درزی تھا ۔ دوسرا گاڑیوں کا مستری تھا اور تیسرا مدرسے میں پڑھتا تھا ۔ تینوں بھائی میرے ساتھ ہیں ۔ پہلا بھائی 10 سال سے اور باقی دونوں تین سال سے میرے ساتھ ہیں ۔ اس دوران ان کی تنخواہ تو طے نہیں کی لیکن ان کی ساری کفالت اور خرچہ میں ہی اٹھاتا تھا یہاں تک کہ ان کی شادیاں بھی میں نے کرائیں ۔ والدہ کا سارا خرچہ میں اٹھاتا تھا اور ان کا علاج بھی میں نے کروایا اور بہن کی شادی پر بھی سارا خرچہ میں نے کیا ۔ ا  ب کاروبار میں ترقی ہوتے ہوتے 5 پلاٹ اور کچھ جمع شدہ نقد رقم بھی ہو چکی ہے ۔ اب میں اپنے بھائیوں کو کاروبار سے الگ کرنا چاہتا ہوں ۔ پوچھنا یہ ہے شرعی لحاظ سے کاروبار سارا میرا ہے یا  اس میں میرے بھائیوں کا بھی حصہ ہے ۔ اگر میں ان کو الگ کر دوں اور کچھ نہ دوں تو میں گناہ گار تو نہیں ہوں گا ؟وہ میرے کاروبار میں مجھ سے کچھ مطالبہ کر سکتے ہیں یا نہیں ؟

o

صورت مسئولہ میں اگر دیگر تین بھائیوں کو کاروبار میں شامل کرتے ہوئے ان کو باقاعدہ کاروبار کے ایک مخصوص حصےکا  شریک نہیں بنایا گیا تھا اور بعد میں کاروبار پھیلانے میں بھی انہوں نے سرمایہ نہیں لگایا  تو اس صورت میں مکمل کاروبار اور اس سے حاصل کردہ آمدنی سے بنائے گئے اثاثہ جات اور نقدی کے مالک آپ ہیں ۔ دیگر بھائی جتنا عرصہ کاروبار میں شامل رہے ہیں ، ان کواس دورانیے کی اجرت مثل ( یعنی جو ذمہ داری وہ کاروبار میں ادا کرتےرہے ہیں ، عرف میں وہ ذمہ داری ادا کرنے والے کو جو اجرت ادا کی جاتی ہے )دی جائے گی ۔ جو اجرت مثل بن جائے ،اس میں سے وہ خرچہ منہا کر دیں جو اس دورانیے میں آپ ان پر کرتے رہے ہیں ۔ اگر کچھ اضافی رقم بچ جائے تو وہ ان کو ادا کر دیں۔اگر کچھ نہ بچے تو آپ کے ذمہ کوئی چیز لازم نہیں ۔ ان کو کاروبار سے الگ کر دینے پر آپ گناہ گار نہیں ہوں گے۔

حوالہ جات

العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية (2/ 18)
وأما قول علمائنا أب وابن يكتسبان في صنعة واحدة ولم يكن لهما شيء ثم اجتمع لهما مال يكون كله للأب إذا كان الابن في عياله فهو مشروط كما يعلم من عباراتهم بشروط منها اتحاد الصنعة وعدم مال سابق لهما وكون الابن في عيال أبيه فإذا عدم واحد منها لا يكون كسب الابن للأب وانظر إلى ما عللوا به المسألة من قولهم؛ لأن الابن إذا كان في عيال الأب يكون معينا له فيما يضع فمدار الحكم على ثبوت كونه معينا له فيه فاعلم ذلك اهـ.
وأجاب الخير الرملي عن سؤال آخر بقوله حيث كان من جملة عياله والمعينين له في أموره وأحواله فجميع ما حصله بكده وتعبه فهو ملك خاص لأبيه لا شيء له فيه حيث لم يكن له مال ولو اجتمع له بالكسب جملة أموال؛ لأنه في ذلك لأبيه معين حتى لو غرس شجرة في هذه الحالة فهي لأبيه نص عليه علماؤنا رحمهم الله تعالى فلا يجري فيه إرث عنه لكونه ليس من متروكاته اهـ.
وأجاب أيضا عن سؤال آخر بقوله إن ثبت كون ابنه وأخويه عائلة عليه وأمرهم في جميع ما يفعلونه إليه وهم معينون له فالمال كله له والقول قوله فيما لديه بيمينه وليتق الله فالجزاء أمامه وبين يديه وإن لم يكونوا بهذا الوصف بل كان كل مستقلا بنفسه واشتركوا في الأعمال فهو بين الأربعة سوية بلا إشكال وإن كان ابنه فقط هو المعين والإخوة الثلاثة بأنفسهم مستقلين فهو بينهم أثلاثا بيقين والحكم دائر مع علته بإجماع أهل الدين الحاملين لحكمته.

عبدالدیان اعوان

دارالافتاءجامعۃ الرشید کراچی

24 شوال 1442

n

مجیب

عبدالدیان اعوان بن عبد الرزاق

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔