021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی گستاخی کا حکم
73200انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلاممتفرّق مسائل

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اور مفتیان کرام بیچ اس مسئلے کے کہ۔ 1۔ آٹھ مارچ کو لاہور میں عورت مارچ کے نام پر رسول پاک ﷺ اور ام المومنین کی شان میں گستاخی کی گئی۔ نقل کفرکفر نہ باشد کے مصداق الفاظ یہ تھے: "میں نو سال کی تھی اور وہ پچاس کا، لیکن مجھے چپ کرا دیا گیا اور اس کی آواز آج بھی مسجد میں گونجتی ہے۔"

یہ صریحاً رسول پاک ﷺ اور سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی جانب اشارہ ہے۔ کیونکہ نام لکھنے پر ان کے خلاف آئین کی دفعہ دو سو ترانوے، اے بی سی کے تحت فوری مقدمہ ہو سکتا تھا۔ اس لئے گستاخان رسول نے یہ راستہ اختیار کیا۔

 آپ سے سوال یہ ہے کہ

۱۔اس عورت مارچ کے منتظمین، اس کے شرکا اور گستاخی کے مرتکب افراد کے بارے میں شریعت کا کیا حکم ہے؟ان کا ایمان سلامت رہا یا نہیں؟ وہ دائرہ اسلام سے خارج ہو کر دائرہ کفر میں چلے گئے یا نہیں؟

۲۔ اور یہ بھی کہ اس قبیح جرم پر انہیں شرعاً کیا سزا ملنی چاہئے؟ آئین کی رو سے تو اس گستاخی کی سزا موت ہے۔ آپ فرمائیں کہ شرعی سزا کیا ہے؟ اور یہ کون دے سکتا ہے؟

۳۔ اور اگر حکومت اس معاملے میں دلچسپی نہ لے اور سزا نہ دلوائے تو عام مسلمان کا کیا فرض بنتا ہے؟ انہیں کیا کرنا چاہئے؟ یہ واضح رہے کہ گستاخوں نے نہ تو توبہ کی ہے اور نہ اس معاملے سے اپنی برات کا اظہار کیا ہے؟

o

یہ بات وفعل گستاخی ہے،اس  قول وفعل کے مرتکب اور اس پر راضی اس میں شریک تمام لوگوں پر توبہ واستغفار کے علاوہ تجدید ایمان اور تجدید نکاح بھی ضروری ہے،اگر وہ اس سنگین جرم سے توبہ کا اعلان نہ کریں تو حکومت پاکستان پر لازم ہے کہ وہ ان کو قانون کے مطابق انجام تک پہنچادے،لیکن اگر حکومت عدالتی فیصلوں اور واضح شہادتوں کے باوجود اپنی ذمہ داری  پوری نہیں کرتی تو وہ عند اللہ مجرم ہے،اور ایسی حکومت کا انجام بہت برا ہوگا،لیکن عوام کے لیے اس بارے میں از خود کوئی اقدام اٹھانا شرعا درست نہیں۔البتہ ایسے ملعون لوگوں کا معاشرتی بائیکاٹ کیا جائے، یہاں تک کے وہ اپنے جرم سے باز آجائیں اور توبہ واستغفاروغیرہ کرلیں۔

حوالہ جات

۔۔۔۔۔۔

نواب الدین

دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

۲۴شوال۱۴۴۲ھ

n

مجیب

نواب الدین صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔