021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ترکہ میں خام اورایکسپائرمال شامل ہے یانہیں؟
73379میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

کیافرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرے ابوکی کرایہ کی  لوکل آئسکریم بنانے والی فیکٹری تھی،ان کے انتقال کے بعدمختلف قسم کاسامان اورخام مال جوآئسکریم بنانے کے کام آتاتھاترکہ میں چھوڑا،جس کی تفصیل درج ذیل ہے:

١۔فیکٹری میں موجودمال یعنی فوڈ کلر،خوشبو ،میدہ اوردودھ پاؤڈر وغیرہ،اس میں سے کچھ ایکسپائر ہوگیا،کچھ پھینک دیااورکچھ ہم نے استعمال کرلیا۔

۲۔فیکٹری میں سائیکل رکشہ کے کچھ پارٹس  اورٹائرزوغیرہ بھی ابوکی ملکیت میں تھے،کچھ نئےتھے اورکچھ پرانےتھے ،اس میں سے کچھ استعمال میں آگیا،کچھ کباڑمیں فروخت کردیا اورکچھ پھینک دیاگیا۔

۳۔پلانٹ مشین کی مرمت کرنے والے اوزار اورمشین کے کچھ پارٹس بھی تھے،کچھ ابھی تک موجود ہیں اورکچھ سامان کی منتقلی کے دوران گم ہوچکے ہیں۔

۴۔مال پکانے والاسامان جیسے چولھا،گیس کے سلنڈرز اوربرتن وغیرہ کچھ موجود ہیں اورکچھ کباڑ میں فروخت کردئیے گئے۔

اب معلوم یہ کرناہے کہ  اس وقت ہمیں کچھ علم نہیں تھا کہ ان کوتقسیم کرناضروری ہے اورنہ ہی کسی نے اس طرف متوجہ کیا جس کی وجہ سے ہم نے کچھ فروخت کردیااورکچھ ضائع کردیا،جس کی تعدادکاہمیں علم نہیں اورنہ ہی مالیت کاتوپوچھنایہ ہے کہ ان کاحساب کیسے کریں گے؟

o

مرحوم کی وفات کے وقت جتنی چیزیں اس کی ملکیت میں تھیں وہ ساری چیزیں ترکہ میں شامل ہوتی ہیں،اوران سب چیزوں کے ساتھ تمام ورثہ کاحق متعلق ہوتاہے،ورثہ کی اجازت اوررضامندی کی بغیر ترکہ میں سے کسی چیز کوضائع کرنایاکسی کودیناجائزنہیں ہوتا،لہذاصورت مسؤلہ میں آپ کے والدنے جتنی چیزیں ترکہ میں چھوڑی  تھیں توان  تمام چیزوں کو(معمولی اورقیمتی دونوں قسم كے سامان كو) شرعی حصوں کے مطابق ورثہ میں تقسیم کرناضروری تھا،اب چونكہ اس سامان میں سےکچھ ضائع ہوگیایاکردیاگیا تواس کی آسان صورت یہ ہے کہ ضائع شدہ سامان کے متعلق سوچ وبچار کرکے اس کاتخمینہ لگالیاجائے اورپھراس کی تفصیل  تمام ورثہ کے سامنے  رکھدی جائے اگرورثہ اس کے چھوڑنے پرراضی ہوں تو اس کی قیمت کوترکہ میں شامل نہیں کیاجائے گا اوراگروہ اپناحصہ چھوڑنے پرآمادہ نہ ہوں تواس سامان کی اس وقت جوبھی قیمت بنتی تھی اس کااندازہ لگاکرترکہ میں شامل کی جائے اورورثہ میں تقسیم ہوگی۔یادررہے کہ نابالغ ورثہ کاحصہ بہرحال محفوظ رکھناضروری ہے۔

حوالہ جات

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

n

مجیب

محمد اویس صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔