03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
“برما” کے اوقاتِ صلوة کے حوالے سے مختلف سوالات کے جوابات
73451نماز کا بیاناوقاتِ نمازکا بیان

سوال

کیافرماتے ہیں علماء کرام درج ذیل مسئلہ کے بارے  میں کہ

ملک برما کی مساجد میں دائمی نقشہ اوقاتِ نماز پائے جاتے ہیں ،بعض نقشوں میں بنانے والے اورفنی معلومات کاذکر درج  ہوتاہے جبکہ بعض دیگر میں بنانے  والےکے بارے میں اورفنی معلومات درج نہیں ہوتی،بعض نقشوں میں سحری کے وقت کو ایک منٹ بطوراحتیاط مقدم کیا گیاہوتاہے جبکہ دیگربعض میں دو منٹ ،اسی طرح بعض میں غروب کو بھی بطوراحتیاط ایک منٹ مؤخرکیا گیا ہوتاہے جبکہ دیگربعض میں دو منٹ ، چند سالوں سے انٹرنیٹ پر موجود اوقات کو استعمال کیا جارہاہے ،موبائل فون میں پائے جانے والی ایپ کو بھی استعمال کیاجارہاہے ،انٹرنیٹ سے حاصل کیےجانے والے اوقات اورایپ بنانے والے بھی اکثرنامعلوم ہوتے ہیں ،برما بہت سے چھوٹے چھوٹے شہروں اورقصبوں پر مشتمل ہے جن کےلیے نہ تو پہلے زمانہ سے کوئی دائمی نقشہ بنایا گیاہے  اورنہ ہی ان کے لیے انٹرنیٹ پر کوئی اوقات یا ایپ دستیاب ہیں،اس جیسی صورت ِ حال میں مجھے یہ پوچھناہےکہ

  1. کیاہم دائمی نقشہ اوقاتِ نماز مرتبہ پروفیسرعبد اللطیف بن عبد العزیز صاحب مطبوعہ مکتبہ خالد وعابد ناظم آباد کراچی کو سامنے رکھ کراس میں ذکر کردہ فارمولوں کے مطابق اوقاتِ نماز کے نقشہ تیارکرسکتے ہیں یا نہیں ؟

          (2)انٹرنیٹ پر موجود اوقات پر عمل کرنے کا کیاحکم ہے ؟اسی طرح موبائل فون کی ایپ کے استعمال کا کیاحکم ہے؟

          (3)مذکورہ کتاب میں سحری کے اوقات میں احتیاطا پانچ منٹ پہلے سحری بند کرنے کا اورافطارمیں پانچ منٹ مؤخرکرنےکو کہاگیاہے(صفحہ 298) ہمارے ملک میں قدیم زمانہ سے اکثرایک منٹ سحری میں تقدیم اورغروب میں تاخیرپر عمل ہوتارہاہے کیا  اس کتاب کے مطابق نقشہ تیارکرتے وقت ایک منٹ کی احتیاط درج کرنی چاہیے یا دومنٹ یا پانچ منٹ جیسے کہ کتاب میں مذکورہے؟

(4) ہمارے ملک میں پائے جانے والے بعض نقشوں میں یہ لکھاگیاہے کہ یہ نقشہ فلاں شہراوراس کے آس پاس کے علاقوں کےلیے کارآمدہے ،بعض میں یہ لکھاگیاہے کہ فلاں شہر اوراس سے بارہ میل دورعلاقوں کےلیے کارآمد ہے ،ان لکھے ہوئے الفاظ کی بنیادکیاہے؟کیاہرنقشہ 12میلتک کارآمد ہوتا ہے؟ ایک نقشہ کتنے میل کے فاصلہ تک استعمال کیاجاسکتاہے؟

          (5) قدیم دائمی نقشوں اورانٹرنیٹ کے اوقات یا موبائل فون کے ایپ کے درمیان اختلافِ اوقات کے وقت کس کو فیصل ماناجائے گا؟

          (6) دائمی نقشہ اوقات  نماز تیارکرنے کے لیے کوئی مفید اورمعتبرکتاب ہو تو رہنمائی فرمائیں۔

(7) دائمی نقشہ اوقاتِ نماز تیارکرنے والے کے نام کے بغیر جو نقشہ ملک میں پایا جاتاہے کیا وہ قابل عمل ہے؟ان نقشوں کے بنانے والے کے پاس کیاکیاصلاحیتیں ہونی چاہییں ؟

           (8) اگرکوئی  دائمی نقشہ تیارکرتاہے اوروہ عالم نہیں ہے تو کیا  اس کے تیارکردہ نقشوں کے قابلَ عمل ہونے  کے لیے ثقات علماء کی تصدیق  ضروری ہوگی ؟ اگرعلماء ثقات کی طرف سے تصدیق نہ ہوتو کیا وہ  نقشہ قابلِ عمل ہوگا یانہیں ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

(1)اگرکسی نے فنِ تخریج ِاوقاتِ صلاة کسی مستنداستاذسے نہیں پڑھاہو تو اس  کےلیے محض کسی کتاب کو دیکھ کر نقشہ تیارکرنا جائزنہیں،اگراس نے اپنے ذہن سے اس طرح کی کسی کتاب سے نقشہ بنالیاتو وہ نقشہ جب تک کسی ماہرسے مصدقہ نہ ہو اس پر اعتماد نہیں کرناچاہیے ۔

(2)اگرکمپیوٹرپروگرام یا موبائل  ایپ کسی ماہرِ فن نےاستعمال  کرکےاس پراعتمادکا اظہارکیاہواوراستعمال کرنےوالاایپ کا استعمال اچھی طرح کرنا جانتا ہوتو اس کو استعمال کیا جاسکتاہے ورنہ غلطی کا امکان رہے گا،بہتریہ ہےکہ پہلے یہ  فن سیکھ کرپھرکمپیوٹریا موبائل کی مددسے نقشہ بنایاجائے ۔

(3)آپ کے ملک میں قدیم زمانہ سےسحری اورافطاری میں جو ایک منٹکی احتیاط پر عمل ہوتارہاہے وہدرست تھا، لہذازمانہ قدیم سے پڑھی گئی نمازیںاورروزے صحیح ہوئے ،کسی پریشانی کی ضرورت نہیں۔البتہ آئندہ کےلیے سحری اورافطاری میں کم از کم دو منٹ کی احتیاط کی جائے، البتہ اگر متعلقہ علاقہ پہاڑکی اونچائی پر واقع ہوتوپھراس پہاڑ کی اونچائی کے مطابق نقشہ بنایاجائے ۔

(4)ایک نقشہ متعلقہ علاقے کے اردگرد تقریباً25 کلومیٹر کےفاصلے پر واقع علاقوں میں استعمال کیاجاسکتاہے ۔مسئولہ صورت میں نقشہ بنانے والے نے 12میل کی بات غالباًزیادہ احتیاط کےبناءپر کہی  ہوگی ۔

(5)جس میں صحیح وقت درج ہوگا اسی کو ترجیح ہوگی،مگرصحیح وقت جاننے کےلیے فن سیکھنا یا کسی ماہِرفنکی مدد لیناضروری ہوگا۔

(6)بہت سی کتابیں ہیں ،ان میں سے سرِفہرست ارشاد العابد مندرجہ احسن الفتاوی ج:۲ ،تعلیم الفلکیات اورتفہیم الفکیات  نامی کتابیں ہیں، مگر اس کے لیے فن سیکھنا ضروری ہوگااز خود بغیر سیکھے نقشہ بنانےمیں غلطی کا امکان رہے گا۔

(7)متعلقہ نقشہ دیکھنے کے بعد ہی اس کے متعلق کوئی  رائےقائم کی جاسکتی ہے ،بغیر دیکھےہم رائے کیسے قائم کرسکتے ہیں؟باقی  صرف موٹاموٹافنِ تخریج سیکھنے کے لیے ابتدائی ریاضی کی  اصطلاحات اوراوقاتِ صلاة کے متعلق شرعی معلومات ہونا کافی ہے لیکن کسی ماہر ِفن سےباقاعدہ اس کو سیکھاجائے،تقریباً ایک ہفتے میں یہ فن کسی ماہرسےبآسانی سیکھاجاسکتاہے۔تاہم اگراس فن کو علی وجہ البصیرة حاصل کرناہو اس کے لیے علم ِ مثلثِ کروی اورمکمل فلکیاتی  اصطلاحات جانناضروری ہے۔

(8) اوقات کی تخریج سے متعلق کسی قابل ِ اعتماد ماہر ِفن کی تصدیق ضروری ہوگی چاہے وہ علماءِثقات میں سے ہو یاکوئی اورہو،کیونکہ اس میںفنی مہارت درکارہوتی ہے تاکہ غلطی نہ لگے۔باقی غیرعالم کا نقشہ بھی بالکل قابلِ عمل ہوسکتاہے بشرطیکہ اس نے اوقاتِ صلاة کے متعلق شرعی مسائل کسی معتبرعالم سےپوچھ کر لکھے ہوں،علماء سے تصدیق عام طورپر اس لیے کی جاتی ہے تاکہ شرعی مسائل کی توثیق ہوجائے اور زیادہ سے زیادہ لوگ اس کو قبول کریں۔تاہم ایسے ماہرفن کا بنایاہوا نقشہ جو عالمِ دین بھی ہو، زیادہ قابلِ بھروسہ ہوگا، لہذا ایسے نقشے کو عام کرنا چاہیے ۔

حوالہ جات

وفی د المحتار - (ج 3 / ص 338)

فينبغي الاعتماد في أوقات الصلاة وفي القبلة ، على ما ذكره العلماء الثقات في كتب المواقيت ، وعلى ما وضعوه لها من الآلات كالربع والأسطرلاب فإنها إن لم تفد اليقين تفد غلبة الظن للعالم بها ، وغلبة الظن كافية في ذلك ...فإن لم يكن لوجود غيم أو لعدم معرفته بها فبالسؤال من العالم بها.

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی

13/11/1442ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب