021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
عید کے غلط اعلان پر روزہ ٹوڑنے والوں پر صرف قضاء ہے یا قضاءمع الکفارہ؟
73551روزے کا بیانرمضان کا چاند دیکھنے اور اختلاف مطالع کا بیان

سوال

کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ

        میرے گاؤں حیدر خیل شمالی وزیر ستان میں سال 2020 ،12مئی بروز بدھ کو عید منائی گئی، جبکہ ولادتِ قمر 12مئی رات بارہ بجے ہوئی تھی ،حیدرخیل کے چند غیر معتبرعلماء کرام نے شہادت کی بنیاد پر عید کا اعلان کیا تھا جس کی وجہ سے بعض لوگوں نے 12مئی کو عید منائی، جبکہ معتمد علماء کرام کی کمیٹی نے 12مئی کو روزہ رکھنے کا علان کیا جس کی بناء پر بعض لوگوں نے روزہ رکھا، لیکن حیدر خیل میں عید کا اعلان جب بعض علماء نے کیا  تو بعض روزہ دارحضرات نے یہ سمجھ کر روزہ توڑٕدیا کہ عید کے دن شیطان کا روزہ ہوتاہے ،اب طلب امر یہ ہے کہ آیاجن حضرات نے روزہ رکھ کر توڑ دیاتھا ان کے  ذمہ صرف قضاء ہے یا قضاء مع الکفارہ ہے ؟ یادرہے کہ بعض لوگوں نے 12 مئی کے دن کو کسی عالم یاا می کے کہنے پر روزہ توڑ دیا تھا، دلیل یہ دی تھی کہ آج گاؤں حیدرخیل میں عیدہے ۔

o

        صورتِ مسئولہ میں جن لوگوں نے روزہ توڑا تھا وہ چونکہ شبہہ کی وجہ سے تھا اورشبہہ کی وجہ سے کفارہ ساقط ہوجاتاہے، لہذامذکورہ صورت میں روزہ توڑنے والوں پر صرف اس روزے کی قضاء ہے،کفارہ نہیں ۔

حوالہ جات

البحر الرائق شرح كنز الدقائق للنسفي - (ج 5 / ص 207)
فليس له﴿للوالی﴾ أن يخرج إلى العيد برؤيته وحده وله أن يصوم وحده إذا رآه والوالي إذا أخبر صديقه صام إن صدقه ولا يفطروإن أفطر لا كفار عليه، كذا في البزازية. وفي فتاوي قاضيخان.
المحيط البرهاني في الفقه النعماني - (ج 5 / ص 1)
ولو شهد هذا الرائي عند صديق له سراً، فصدقه وأفطر لا كفارة عليه، والله أعلم.
البحر الرائق شرح كنز الدقائق للنسفي - (ج 5 / ص 207)
ومن رأى هلال رمضان في الرستاق وليس هناك وال وقاض، فإن كان ثقة يصوم الناس بقوله، وفي الفطر إن أخبر عدلان برؤية الهلال لا بأس بأن يفطروا ا ه‍.
رد المحتار - (ج 7 / ص 357)
وكذا﴿لاتجب الکفارة﴾ لو لم يشهد عند الإمام وصام ثم أفطر كما في السراج.
وفی الجوهرة النيرة - (ج 2 / ص 36)
 الكفارة عقوبة تؤثر فيها الشبهة.
العناية شرح الهداية - (ج 3 / ص 294)
الكفارة تندرئ بالشبهات.
المصنف لإبن أبي شيبه - (ج 3 / ص 401)
عن علي بن حنظلة عن أبيه قال شهدت عمر بن الخطاب في رمضان وقرب إليه شراب فشرب بعض القوم وهم يرون أن الشمس قد غربت ثم ارتقى المؤذن فقال يا أمير المؤمنين والله للشمس طالعة لم تغرب فقال عمر منعنا الله من شرك مرتين أو ثلاثة يا هؤلاء من كان أفطر فليصم يوما مكان يوم ومن لم يكن أفطر فليتم حتى تغيب الشمس .

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

 دارالافتاء جامعۃ الرشید

 26/11/1442ھ

n

مجیب

سید حکیم شاہ صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔