021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
تین طلاق والے نکاح نامے پر دستخط کرنا
73872طلاق کے احکامتین طلاق اور اس کے احکام

سوال

جناب میرا مسئلہ یہ ہے کہ میں سید محمد دانش نے 5 اپریل کو شادی کی تھی،شادی کے چند دن بعد میرے گھر والوں نے میری بیوی کو گھر سے نکال دیا تھا یہ بول کر کہ اس کا نکاح نہیں ہوا،میری اور میری بیوی کی یہ دوسری شادی تھی،اس کے پہلے شوہر نے اسے 2021۔01۔21 کو طلاق دی تھی،پھر طلاق کے بعد میں نے 5 اپریل کو اس سے نکاح کیا،میرے گھر والوں نے کہا کہ اس کی عدت پوری نہیں ہے،اس لیے اس کا نکاح شرعا درست نہیں ہوا اور اسے گھر سے نکال دیا،پھر اس کے بعد سب لوگوں نے مجھے اس بارے میں بہت برا بھلا کہا،یہاں تک کہ اس کے کردار پر بھی الزام لگایا،مجھے میرے گھر والوں نے بہت مجبور کردیا تھا کہ اس کو طلاق دوں اور کورٹ کے ذریعے مجھ سے زبردستی اسے طلاق دلوائی،ہم دونوں نے پسند کی شادی کی تھی،میں یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا کوئی حل ہے کہ میں اس سے حلالہ کے بغیر دوبارہ رجوع کرپاؤں،مہربانی کرکے کے کوئی حل بتائیں کہ میں بہت پریشان ہوں۔

تنقیح: فون پر تنقیح سے معلوم ہوا کہ لڑکی کا کہنا یہ ہے کہ پانچ اپریل کو جب اس کا دوسرا نکاح ہوا تو اس کی عدت گزرچکی تھی اور لڑکے کے گھر والوں نے اسے کوئی دھمکی وغیرہ نہیں دی تھی،بلکہ سب نے لڑکی کے کردار کے مشکوک ہونے کی وجہ سے یہ مشورہ دیا تھا کہ اس لڑکی کو طلاق دے دو،جو لڑکے کو اس وقت مناسب لگا اور اس نے طلاق دے دی۔

o

اگر لڑکی کے بیان کے مطابق آپ سے دوسرا نکاح کرنے سے پہلے حقیقت میں اس کی عدت گزرچکی تھی،یعنی اسے تین ماہواریاں آچکی تھیں تو پھر مذکورہ صورت میں تین طلاقیں واقع ہوچکی ہیں،جس کے بعد اب موجودہ حالت میں آپ کا اس سے دوبارہ نکاح ممکن نہیں۔

حوالہ جات

{فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَنْ يَتَرَاجَعَا إِنْ ظَنَّا أَنْ يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ وَتِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ يُبَيِّنُهَا لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ} [البقرة: 230]
"صفوة التفاسير" (1/ 131):
"{فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} أي فإن طلق الرجل المرأة ثالث مرة فلا تحل له بعد ذلك حتى تتزوج غيره وتطلق منه، بعد أن يذوق عسيلتها وتذوق عسيلته كما صرح به الحديث الشريف، وفي ذلك زجر عن طلاق المرأة ثلاثا لمن له رغبة في زوجته لأن كل شخص ذو مروءة يكره أن يفترش امرأته آخر .
{فإن طلقها فلا جناح عليهمآ أن يتراجعآ إن ظنآ أن يقيما حدود َﷲ} أي إن طلقها الزوج الثاني فلا بأس أن تعود إلى زوجها الأول بعد انقضاء العدة إن كان ثمة دلائل تشير إلى الوفاق وحسن العشرة".
"البحر الرائق " (3/ 257):
"ولا حاجة إلى الاشتغال بالأدلة على رد قول من أنكر وقوع الثلاث جملة لأنه مخالف للإجماع كما حكاه في المعراج ولذا قالوا: لو حكم حاكم بأن الثلاث بفم واحد واحدة لم ينفذ حكمه؛لأنه لا يسوغ فيه الاجتهاد لأنه خلاف لا اختلاف".

محمد طارق

دارالافتاءجامعۃالرشید

07/محرم1442ھ

n

مجیب

محمد طارق صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔