021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
وکیل بالنکاح کا ایک مرتبہ وکالت رد کرنے کے بعد پھر مؤکل کا نکاح پڑھوانا
73944وکیل بنانے کے احکاممتفرّق مسائل

سوال

کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ

    علی نے اپنےنکاح کا وکیل زاہد کو بنایا اورزاہدنے وکیل بننے سے انکارکردیا تو کیا انکارکرنے کے بعد "زاہد" "علی" کی غیرجودگی میں وکالت کے پرانے قول پر جس کا زائد نے انکارکیاتھاعلی کا نکاح پڑواسکتاہے ؟ جبکہ علی نے نئی  اجازت نہیں دی ۔

o

جب زائد نے وکیل بننے سے انکارکردیا تو وکالت ختم ہوگئی،لہذاب زاہدسابقہ ولالت کی بناء پر علی کا نکاح سے نہیں پڑھواسکتا، اگرپھربھی پڑھوادے تو یہ فضولی کا نکاح ہوگا جسے قبول کرنے یا رد کرنے کا علی کو پوراپورا اختیارہوگا۔

حوالہ جات

تكملة حاشية رد المحتار - (ج 2 / ص 327)
قوله: (لا يرتد بالرد) قد علمت أن من جملة مرجع الضمير الوكالة وهي عقد غير لازم، فكيف لا ترتد بالرد، ويمكن تصويرها فيما إذا وكله بشراء معين وقبل الوكالة فاشتراه بمثل ما عين له من قدر الثمن ثم ادعى أنه رد الوكالة فلا يقبل ط.
حاشية رد المحتار - (ج 3 / ص 266)
 نكاح الفضولي صحيح موقوف على الاجازة بالقول أو بالفعل.
الاختيار لتعليل المختار - (ج 1 / ص 32)
وينعقد نكاح الفضولي موقوفاً كالبيع إذا كان من جانب واحد.                                                       

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید          

19/1/1443ھ

n

مجیب

سید حکیم شاہ صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔