021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
کرایہ دار سے لی جانے والی ایڈوانس رقم کی شرعی حیثیت
73967اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائلکرایہ داری کے متفرق احکام

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام درجِ ذیل صورتِ حال کے بارے میں:

بڑی مسجد ناگپور کے چند وقف کردہ مکانات ہیں۔ ان مکانات میں سے دو مکانوں کی تعمیر ازسرنو کی گئی ہے۔ یہ تعمیر ِنو کرایہ داروں سے لاکھوں روپے ایڈوانس لے کر عمل میں آئی ہے، ٹرسٹی کمیٹی کی سالانہ رپورٹ کے مطابق ایڈوانس کی یہ رقم مبلغ ایک کروڑ دس لاکھ روپے ہے۔ ان میں سے ایک مکان نمبر 647 جو محمد علی روڈ پر واقع ہے، سہ منزلہ ہے، اس میں تمام کرائے دار رہتے ہیں ۔ لیکن دوسرا مکان جو حیدری روڈ مومن پورہ ناگپور میں واقع ہے، وہ دو منزلہ ہے، اس کی میدانی منزل میں کئی دکانیں کرایہ پر دی گئی ہیں، اور دوسری اور تیسری منزل میں پنج وقتہ نماز اور جمعہ کی نماز کا اہتمام ہے۔

 وضاحت: سائل نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ ہمارے ہاں کرایہ داروں کے ساتھ معاہدہ غیر متعین مدت کے لیے نہیں، بلکہ متعین مدت کے لیے ہوتا ہے۔ کرایہ دار سے جو رقم لی جاتی ہے وہ مدت ختم ہونے پر اسے واپس کردی جاتی ہے۔ البتہ اگر مدت مکمل ہونے کے بعد فریقین کرایہ داری کا معاملہ آگے بھی کرنا چاہیں تو پھر نیا معاہدہ کرتے ہیں اور وہی ایڈوانس رقم مالک کے پاس رہتی ہے یا جیسے فریقین راضی ہوں۔ اس رقم کی وجہ سے کرایہ دار کو یہ اختیار نہیں ملتا کہ وہ غیر متعینہ مدت کے لیے کرایہ کی جگہ پر رہے یا اگر چاہے تو اپنا حقِ اجارہ کسی کو بیچ کر اس کے بدلے میں رقم لے تاکہ پھر مالک کے ساتھ اس تیسرے شخص کا معاملہ ہو، بلکہ وہ صرف خود اس جگہ میں رہ سکتا ہے۔ مسجد کی مذکورہ دکانوں کی کرایہ داری کا معاہدہ تین سال کا ہواہے۔ البتہ یہ مدت پوری ہونے کے بعد اگر فریقین معاہدہ باقی رکھنا چاہیں تو اس کی تجدید کرلیں گے۔ ایڈوانس رقم اس وقت واپس ہوگی جب کرایہ دار دکانیں خالی کریں گے۔  

مسجد کی دکانوں کے اوپر  پہلی اور دوسری منزل پر مصلیٰ نہیں، بلکہ مستقل مسجد بنائی جائے گی۔ 

ایڈوانس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ یہ امانت ہے ، قرض ہے یا سود ہے؟ یہ ایڈوانس اس وقت واپس ہوگا جب کرایہ دار جگہ خالی کریں گے۔  

o

کرایہ داری کے معاملات میں کرایہ دار سے دو طرح کی ایڈوانس رقم لی جاتی ہے:

  1.  پگڑی کی رقم: یہ وہ رقم ہوتی ہے جو کرایہ دار، مالک کو (ماہانہ یا سالانہ کرایہ کے علاوہ) اس لیے دیتا ہے کہ وہ غیر متعینہ مدت یا طویل مدت کے لیے کرایہ پر لی ہوئی جگہ کا مستحق ہوگا۔ پھر جب مالک اس سے اپنی جگہ واپس لینا چاہے گا تو جتنی رقم پر وہ دونوں راضی ہوجائیں گے، مالک اتنی رقم لوٹائے گا۔ نیز پگڑی کی رقم دینے کی وجہ سے کرایہ دار کو یہ حق ملتا ہے کہ اگر وہ چاہے تو (اس جگہ پر غیر متعینہ یا طویل مدت تک رہنے کا) اپنا یہ حق کسی اور شخص کو بیچ دے اور درمیان سے نکل جائے، پھر مالک کے ساتھ کرایہ داری کا معاملہ اس تیسرے شخص کا ہوگا۔

پگڑی کا یہ معاملہ ناجائز اور خلافِ شریعت ہے۔ پگڑی کی رقم در حقیقت رشوت ہوتی ہے جس کا لینا دینا حرام ہے۔  

  1. ایڈوانس زرِ ضمانت کی رقم: یہ وہ رقم ہوتی ہے جو آج کل مالک کرایہ کی جگہ کے تحفظ اور اطمینان کی غرض سے کرایہ دار سے لیتا ہے۔ یہ رقم ابتداءً اور اصولی اعتبار سے امانت ہوتی ہے، لیکن چونکہ مالک اسے استعمال کرتا ہے اور عام طور سے کرایہ دار کی طرف سے بھی اسے استعمال کی اجازت ہوتی ہے، اس لیے یہ انتہاءً قرض بن جاتی ہے۔  

کرایہ دار سے زرِ ضمانت کے طور پر ایڈوانس رقم لینا جائز ہے، بشرطیکہ اس کی وجہ سے کرایہ  میں کمی نہ کی جائے۔ اس کی وجہ سے کرایہ میں کمی کرنا سود کے حکم میں داخل ہے۔

آپ نے سوال میں مسجد کی دکانوں کے ایڈوانس رقم کو پگڑی کی رقم لکھا ہے، لیکن آپ کی وضاحت کے مطابق یہ پگڑی نہیں، بلکہ زرِ ضمانت کی رقم بنتی ہے؛ کیونکہ معاہدہ متعین مدت تین سال کا ہے اور کرایہ دار اپنا حق آگے کسی کو بیچ نہیں سکتا، بلکہ معاہدہ ختم ہونے کے بعد صرف اپنی دی ہوئی رقم واپس لینے کا حق دار ہوگا۔

حوالہ جات

بحوث في قضايا فقهية معاصرة (1/103):
   الخلو عبارة عن حق القرار في دار أو حانوت، فربما يؤجر صاحب البناء بناءه لمدة طويلة،
فيأخذ من المستأجر مبلغا مقطوعا عند عقد الإجارة زيادة على أجرته الشهرية أو السنوية، وبدفع هذا المبلغ يستحق المستأجر أن يبقى على إجارته مدة طويلة. ثم ربما ينقل المستأجر حقه هذا إلى غيره، فيأخذ منه مبلغا يستحق به عقد الإجارة مع صاحب البناء، وإذا أراد المالك استرداد بنائه من المستأجر لزمه أن يؤدي إليه مبلغا يتراضى عليه الطرفان.
وإن هذه المبالغ كلها تسمى "خلو" أو "جلسة" في شتى البلاد العربية، و"بكرى" و"سلامي" في ديارنا.   وأصل الحكم في هذا الخلو عدم الجواز، لكونه رشوة أو عوضا عن حق مجرد.
الهداية (3/ 48):
ثم جملة المذهب فيه أن يقال …..وكل شرط لا يقتضيه العقد وفيه منفعة لأحد المتعاقدين أو للمعقود عليه وهو من أهل الاستحقاق يفسده كشرط أن لا يبيع المشتري العبد المبيع؛ لأن فيه زيادة عارية عن العوض فيؤدي إلى الربا أو لأنه يقع بسببه المنازعة فيعري العقد عن مقصوده، إلا أن يكون متعارفا؛ لأن العرف قاض على القياس.
رد المحتار (5/ 166):
 مطلب كل قرض جر نفعا حرام:  قوله ( كل قرض جر نفعا حرام ) أي إذا كان مشروطا .

عبداللہ ولی غفر اللہ لہٗ

  دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

     19/محرم الحرام /1442ھ

n

مجیب

عبداللہ ولی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔