021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
منعِ حمل کیلئے آپریشن یا ادویات کا استعمال
71222جائز و ناجائزامور کا بیانخاندانی منصوبہ بندی

سوال

عورتیں بچوں کی بندش کے لیے آپریشن کرواتی ہیں ،کیا یہ اسلام میں جائز ہے؟ یا بعض عورتیں گولیاں وغیرہ کھاتی ہیں جس سے تین چار مہینے تک حمل نہیں ٹھہرتا ، کیا یہ جائز ہے؟

o

۔ اضطراری حالت کے علاوہ آپریشن کروا کر بچوں کی پیدائش کی صلاحیت کا بالکل ختم کرنا ناجائزو حرام ہے۔

 (2)۔مانع حمل ادویات  استعمال کرنا بھی عام حالات میں جائز نہیں ،یہ بھی اشد ضرورت کے وقت استعمال  کی جا سکتی ہیں  جیسا کہ حمل ٹھہرنے کی صورت میں ماں کی جان کو  ممکنہ خطرہ ہو،یا زیر حمل بچہ کا کسی مرض میں مبتلا ہونے کاخوف ہو۔اس سلسلہ میں  اسپیشلسٹ، دیندار ڈاکٹر کا قول معتبر ہو گا۔

حوالہ جات

[النساء: 119]                   
{وَلَأُضِلَّنَّهُمْ وَلَأُمَنِّيَنَّهُمْ وَلَآمُرَنَّهُمْ فَلَيُبَتِّكُنَّ آذَانَ الْأَنْعَامِ وَلَآمُرَنَّهُمْ فَلَيُغَيِّرُنَّ خَلْقَ اللَّهِ}       
الكشاف (1/ 463)
وتغييرهم خلق الله : فقء عين الحامي وإعفاؤه عن الركوب . وقيل : الخصاء ، وهو في قول عامة العلماء مباح في البهائم . وأما في بني آدم فمحظور.
صحيح البخاري (6/ 53)
 عن عبد الله رضي الله عنه، قال: " كنا نغزو مع النبي صلى الله عليه وسلم وليس معنا نساء، فقلنا: ألا نختصي؟ فنهانا عن ذلك،
المبسوط للسرخسي (30/ 51)
إن كان نطفة في الرحم عند موت المورث فإنه يكون من جملة الورثة ولا حياة في النطفة قلنا نعم تلك النطفة في الرحم ما لم تفسد فهي معدة للحياة ولأن يكون منها شخص حي فيعطى لها حكم الحياة باعتبار المآل كما يعطى للبيض حكم الصيد في وجوب الجزاء على المحرم إذا كسره، وإن لم يكن فيه معنى الصيدية.
 

محمد عبدالرحمن ناصر

دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی

10/06/1442

n

مجیب

محمد عبدالرحمن ناصر بن شبیر احمد ناصر

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔