021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
اداروں کو زکوۃ کی ادائگی کرنا
74279زکوة کابیانمستحقین زکوة کا بیان

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ  ایک پرائیوٹ ادارہ سکولز، کالجز اور جامعات میں قرآن کی تعلیم کے فروغ میں سرگرم عمل ہے، جو پورے ملک میں سرکاری و نجی تعلیمی  اداروں کے اساتذہ کو تجوید قرآن اور قرآن فہمی کی تدریس میں بلامعاوضہ معاونت فراہم کر رہا ہے۔ ادارہ نے اس مقصد کے لیے "قرآن ایجوکیشن فنڈ" قائم کیا ہے، جس کی مندرجہ ذیل دس مدات/مصارف ہیں:

1۔ قرآن کی تعلیم کے  لیے تحقیق اور نصاب سازی

2۔ قرآن کے معلمین کی تیاری

3۔ تدریس قرآن میں سکولوں کی معاونت

4۔ قرآن کی تعلیمی معاونت کی تیاری

5۔ گورنمنٹ اور نجی سکولوں مین قرآن کی تعلیم کی وسعت

6۔ قرآن ایجوکیشن اکیڈمی

7۔ قرآن ایجوکیشن سینٹر

8۔ قرآن ایجوکیشن کیمپ

9۔ سمجھ کر حفظ کے ادارے

10۔ قرآن ایجوکیشن انڈوومنٹ

پوچھنا یہ ہے کہ آیا زکوۃ کی رقم مندرجہ بالا مصارف میں خرچ کی جا سکتی ہے؟ قرآن و سنت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔

o

زکوۃ کے لیے تملیک شرط ہے،کہ  کسی مستحق کو زکوۃ کی رقم  کا مالک بنا یا جائے، ورنہ زکوۃ ادا نہیں ہوگی۔ سوال میں ذکر کردہ تفصیل کے مطابق چونکہ مستحق کو تملیک نہیں پائی جاتی۔ اس لیے زکوۃ کی رقم مذکورہ مصارف میں  خرچ کرنا درست نہیں ہے۔

حوالہ جات

قال اللہ تعالی:  إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغَارِمِينَ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ وَابْنِ السَّبِيلِ فَرِيضَةً مِنَ اللَّهِ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ (سورۃ التوبۃ:  60)
عن أبي هريرة رضي الله عنه: أن أعرابيا أتى النبي صلى الله عليه وسلم، فقال: دلني على عمل إذا عملته دخلت الجنة، قال: «تعبد الله لا تشرك به شيئا، وتقيم الصلاة المكتوبة، وتؤدي الزكاة المفروضة، وتصوم رمضان، قال: والذي نفسي بيده لا أزيد على هذا، فلما ولى، قال النبي صلى الله عليه وسلم: «من سره أن ينظر إلى رجل من أهل الجنة، فلينظر إلى هذا. (صحیح البخاري،باب وجوب الزکاۃ، رقم الحدیث: 1397 )
قال العلامۃ الکاساني رحمۃ اللہ:  وأما ركن الزكاة فركن الزكاة هو إخراج جزء من النصاب إلى الله تعالى، وتسليم ذلك إليه يقطع المالك يده عنه بتمليكه من الفقير وتسليمه إليه أو إلى يد من هو نائب عنه وهو المصدق والملك للفقير يثبت من الله تعالى وصاحب المال نائب عن الله تعالى في التمليك والتسليم إلى الفقير والدليل على ذلك قوله تعالى: {ألم يعلموا أن الله هو يقبل التوبة عن عباده ويأخذ الصدقات} [التوبة: 104] ، وقول النبي - صلى الله عليه وسلم - «الصدقة تقع في يد الرحمن قبل أن تقع في كف الفقير» وقد أمر الله تعالى الملاك بإيتاء الزكاة لقوله عزو جل: {وآتوا الزكاة} [البقرة: 43] والإيتاء هو التمليك؛ ولذا سمى الله تعالى الزكاة صدقة بقوله عز وجل {إنما الصدقات للفقراء} [التوبة: 60] والتصدق تمليك. (بدائع الصنائع: 2/39)

مجیب: محمد ابراہیم شیخا

دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی

25/صفر/1443ھ

n

مجیب

محمد ابراہیم شیخا بن محمد فاروق شیخا

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔