021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مسنون طریقہ پر بال رکھنے سے سنّت کا ثواب ملے گا
71620سنت کا بیان (بدعات اور رسومات کا بیان)متفرّق مسائل

سوال

اگر کوئی شخص سر کے بال بڑھا لے اور کہے میں نے سنت سمجھ کر رکھے ہیں ، جبکہ وہ دوسری سنتوں کا پابند نہیں ہے اور اسکے گھر والے کہتے ہیں کہ اور سنتیں تمہیں نظر نہیں آتیں ، کیا صرف لمبے بال رکھنا ہی سنت ہے ،تو کیا اسے اس ایک سنت کے ادا کرنے کا ثواب ملے گا؟

o

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیّبہ سے مردوں کے لیےتین طرح سے بال رکھنا ثابت  ہے:

1.کانوں کی لو تک۔  2. کانوں کی لو اور کندھوں  کے درمیان تک۔  3.کندھوں تک ۔

لہذا اگر کوئی شخص بال بڑھائے تو اسے ان تین طریقوں میں سے کسی ایک  طریقہ کے مطابق بال رکھ لینا چاہیے،یہ تین طرح کے بال رکھنااحادیث میں آپﷺ سے ثابت ہے ۔

اگر کوئی سنّت کی نیت سےبال رکھے گاتو اس کو سنت  پرعمل کرنے کا ثواب ملے گا، لیکن اس کے ساتھ ساتھ دوسری سنتوں پر عمل کرنے کی بھی کوشش کرلے تاکہ گھر والوں کو بولنے کا موقع نہ ملے۔

حوالہ جات

مختصر الشمائل (ص: 34)
عن عائشة قالت:(كنت أغتسل أنا ورسول الله صلى الله عليه وسلم  من إناء واحد وكان له شعر فوق الجمة ودون الوفرة)
الشمائل الشريفة (ص: 33)
(كَانَ شعره دون الجمة وَفَوق الوفرة) ت فِي الشَّمَائِل هـ عَن عَائِشَة،كَانَ شعره دون الجمة وَفَوق الوفرة وَفِي حَدِيث التِّرْمِذِيّ وَغَيره فَلَا يُجَاوز شعره شحمة أُذُنَيْهِ إِذاُھووفره أَي جعله وفرة فَالْمُرَاد أَن مُعظم شعره كَانَ عِنْد شحمة أُذُنه وَمَا اتَّصل بِهِ مسترسل إِلَى المنکب والجمة شعر الرَّأْس المتجاوز شحمة الْأذن إِذا وصل الْمنْكب كَذَا فِي الصِّحَاح فِي حرف الْمِيم وَفِيه فِي بَاب الرَّاء المتجاوز من غير وُصُول وَفِي النِّهَايَة مَا سقط على الْمَنْكِبَيْنِ وَلَعَلَّ مُرَاده بالسقوط التجاوز وَفِي الْقَامُوس الوفرة مَا سَالَ على الْأذن أَو جَاوز الشحمة ۔

وقاراحمد

دارالافتاء جامعۃ الرشیدکراچی

25/06/1442

 

n

مجیب

وقاراحمد بن اجبر خان

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔