021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
والد کو پیسے دینے اور ناشتہ کرنے پر طلاق کی تعلیق
74117طلاق کے احکامطلاق کو کسی شرط پر معلق کرنے کا بیان

سوال

9 ستمبر بروزِ جمعرات رات کے کھانے کے وقت میرے اور میرے ابو کے درمیان لڑائی ہوئی۔ لڑائی کے دوران پیسوں کے حوالے سے تکرار ہوئی تو میں نے کہا کہ آج کے بعد اگر میں نے آپ کو پیسے دئیے تو میری بیوی مجھ پر طلاق۔ میں نے صرف ابو کو مخاطب کر کے پیسے نہ دینے کا کہا تھا۔ گھر کے سارے معاملات والد صاحب کے ذمے ہیں۔ مہینہ کے سارے خرچے بھی والد صاحب لاتے ہیں۔ البتہ میں والد صاحب کو کچھ پیسے دیدیا کرتا تھا۔  کیا (اب) کسی اور کو (پیسے) دے سکتا ہوں یا کوئی خرچہ دے سکتا ہوں؟

پھر صبح ناشتے کے وقت دوبارہ لڑائی ہوئی تو میں نے پھر کہا کہ اگر میں نے اب یہ کھانا کھایا تو میری بیوی کو طلاق، اور کھانا نہیں کھایا، چلا گیا، اور آج تک گھر میں پکا کھانا نہیں کھایا ہے۔ میں نے صرف ناشتے کے وقت قسم اٹھائی تھی کہ یہ کھانا نہیں کھاؤں گا، ناشتہ جو سامنے موجود تھا، کی طرف اشارہ کر کے قسم اٹھائی تھی۔ کیا میں اب گھر کا کھانا کھا سکتا ہوں؟

o

واضح رہے کہ طلاق کو احادیثِ مبارکہ میں جائز کاموں میں سب سے ناپسندیدہ کام قرار دیا گیا ہے۔ شریعت نے شوہر کو اس صورت میں طلاق دینے کا اختیار دیا ہے جب میاں بیوی کا نباہ نہ ہو اور ایک ساتھ زندگی گزارنا مشکل ہو۔ بات بات پر بیوی کو طلاق دینا یا طلاق معلَّق کرنا انتہائی غلط طرزِ عمل ہے جس سے اجتناب لازم ہے؛ اس لیے آئندہ اس حوالے سے مکمل احتیاط کریں۔

اس تمہید کے بعد آپ کے سوال کا جواب یہ ہے کہ جب آپ نے والد کو مخاطب کر کے انہیں پیسے دینے پر طلاق کی تعلیق کی ہے تو اگر آپ نے والد صاحب کو (براہِ راست یا کسی اور کے ہاتھ) پیسے دئیے تو آپ کی بیوی پر طلاق واقع ہوگی۔ اس کے علاوہ  گھر کے کسی اور فرد کو پیسے دینے یا خود خرچہ کرنے کی صورت میں آپ کی بیوی پر طلاق واقع نہیں ہوگی۔

اسی طرح جب دوسری مرتبہ صرف سامنے موجود ناشتے کا کھانا کھانے پر طلاق معلق کی تھی، اور پھر آپ نے وہ کھانا نہیں کھایا تو آپ کی یمین پوری ہوگئی اور آپ کی بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی۔ اب آئندہ گھر کا کھانا کھانے سے آپ کی بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوگی۔

حوالہ جات

سنن أبي داود (3/ 504):
باب في كراهية الطلاق:
حدثنا أحمد بن يونس، حدثنا معرف عن محارب، قال: قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم -: "ما أحل الله شيئا أبغض اليه من الطلاق".
الدر المختار (3/ 761):
( وشرطه للحنث في ) قوله ( إن خرجت مثلا ) فأنت طالق أو إن ضربت عبدك فعبدي حر ( لمريد الخروج ) والضرب (فعله فورا) لأن قصده المنع عن ذلك الفعل عرفا ومدار الأيمان عليه وهذه تسمى يمين الفور تفرد أبو حنيفة رحمه الله بإظهارها ولم يخالفه أحد (و) كذا (في) حلفه (إن تغديت) فهكذا (بعد قول الطالب) تعال (تغد معي) شرط للحنث (تغديه معه) ذلك الطعام المدعو إليه……. الخ
رد المحتار (3/ 762):
قوله ( وهذه تسمى يمين الفور الخ ) من فارت القدر غلت استعير للسرعة أو من فوران الغضب، انفرد الإمام بإظهارها،  وكانت اليمين أولا قسمين: مؤبدة أي مطلقة ومؤقتة، وهذه مؤبدة لفظا مؤقتة معنى تتقيد بالحال، إما بأن تكون بناء على أمر حالي كما مثل، أو أن تقع جوابا بالكلام يتعلق بالحال كما في إن تغديت أفاده في النهر.

     عبداللہ ولی غفر اللہ لہٗ

  دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

  8/صفر المظفر/1443ھ

n

مجیب

عبداللہ ولی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔