021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
نکاح پر اجرت اور مسجد کے لیے چندہ لینا
74115اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائلملازمت کے احکام

سوال

(1)۔۔۔ ہمارے ہاں بعض گاؤں میں لوگوں نے نکاح پر اجرت مقرر کر رکھی ہے۔ امامِ مسجد کے لیے یہ اجرت حلال ہے یا نہیں؟ اجرت مقرر کرنے کی وضاحت کچھ یوں ہے کہ گاؤں کے با اثر افراد نے یہ طے کر رکھا ہے کہ ہمارے ہاں سے جس لڑکی کا نکاح ہوگا تو امام مسجد کو (5 یا 8 ہزار) دولہا میاں ادا کریں گے۔ امام صاحب اسی اجرت سے نکاح کی فیس بھی ادا کرتے ہیں جو کہ 2100 ہے، اور بقیہ رقم امام صاحب رکھ لیتے ہیں۔ امام صاحب کے لیے یہ بقیہ رقم رکھنا جائز ہے یا نہیں؟ جبکہ اس میں یہ بھی معلوم نہیں کہ انہوں نے رقم طیبِ نفس سے دی ہے یا نہیں؟ بس گاؤں کا رواج ہے، اتنی رقم دینی ہے، سب لوگ دیتے ہیں۔  

سائل نے فون پر بتایا کہ 2100 روپے نکاح کی فیس سے مراد وہ فیس ہے جو نکاح خواں نکاح کے ایک کاغذ کے ساتھ عدالت میں جمع کراتا ہے۔

(2)۔۔۔ اس جزء کی الگ سے وضاحت مطلوب ہے کہ ایک گاؤں میں 5  ہزار بشمول 2100 جوکہ نکاح فیس ہے، پر 1 ہزار مزید مسجد کی تعمیر کے لیے وصول کیا جاتا ہے یعنی ٹوٹل 6 ہزار۔ اب یوں نکاح کے موقع پر مسجد کے لیے رقم لینا درست ہے یا نہیں؟ جبکہ آج سے قبل رواج کے مطابق لوگ ادا کرتے آئے ہیں۔

o

(1)۔۔۔ جس طرح تعلیمِ قرآن اور امامت پر اجرت لینے کی گنجائش ہے، اسی طرح نکاح پر بھی اجرت لینے کی فی نفسہ گنجائش ہے، بشرطیکہ نکاح پڑھوانے والا نکاح خواں کے انتخاب اور اجرت کی مقدار مقرر کرنے میں آزاد ہو۔ اس کو کسی خاص شخص سے نکاح پڑھوانے یا خاص مقدار اجرت دینے پر مجبور نہ کیا جائے۔ لڑکی والوں کا خود نکاح خواں بلا کر دولہا کو اجرت دینے پر مجبور کرنا جائز نہیں، البتہ اگر دولہا کی اجازت اور رضامندی سے نکاح خواں بلائیں اور اجرت بھی اس کی رضامندی سے مقرر کریں تو یہ صورت جائز ہے؛ اس کی رضامندی کے بغیر از خود اجرت مقرر کرنا اور پھر اس سے وصول کرنا جائز نہیں۔  

لہٰذا اگر سوال میں ذکر کردہ تفصیل درست ہے تو اجرتِ نکاح مقرر کرنے کا یہ طریقہ جائز نہیں۔ لڑکی کے گاؤں والوں کو شرعا یہ اختیار نہیں کہ وہ وہاں سے شادی کرنے والے ہر شخص کو اپنے امام سے نکاح پڑھوانے اور اپنی طرف سے مقرر کردہ مخصوص اجرت دینے پر مجبور کریں۔  

 (باستفادۃٍ من امداد الفتاوی:3/288 تا 301)

(2)۔۔۔ نکاح کے موقع پر مسجد کی تعمیر کے لیے چندہ لازم کرنا جائز نہیں جس سے اجتناب لازم ہے۔ البتہ اگر کوئی شخص لوگوں کی ملامت کے ڈر سے نہیں، بلکہ خالص اپنی رضامندی سے مسجد کو چندہ دینا چاہے تو دے سکتا ہے۔

حوالہ جات

الفتاوى الهندية (3/ 345):
وفي فتاوى النسفي إذا كان القاضي يتولى القسمة بنفسه حل له أخذ الأجرة وكل نكاح باشره القاضي وقد وجبت مباشرته عليه كنكاح الصغار والصغائر فلا يحل له أخذ الأجرة عليه وما لم تجب مباشرته عليه حل له أخذ الأجرة عليه، كذا في المحيط.
رد المحتار (7/ 59):
قال في الخلاصة: يحل للقاضي أخذ أجرة على كتبه السجلات وغيره بقدر أجرة المثل هو المختار، ولا يحل أخذ شيء على نكاح الصغار، وفي غيره يحل.

     عبداللہ ولی غفر اللہ لہٗ

  دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

 10/صفر المظفر/1443ھ

n

مجیب

عبداللہ ولی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔