03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
سوشل میڈیا کا استعمال
74219جائز و ناجائزامور کا بیانکفار کے ساتھ معاملات کا بیان

سوال

آج کل ٹیکنالوجی کا استعمال ہماری ضرورت بن چکا ہے، جیسے فیس بک، یو ٹیوب، گوگل وغیرہ۔ مگر ان کے مالکان یہود و نصاری ہیں اور وہ آئے دن نبی پاک علیہ اسلام کی شان میں گستاخی کرتے رہتے ہیں۔ ایسا مواد سوشل میڈیا پر بھی شائع کیا جاتا ہے جس سے مسلمانوں کے احساسات مجروح ہوتے ہیں۔ بعض حضرات فرماتے ہیں کہ یو ٹیوب، فیس بک وغیرہ کے اکاونٹس ختم کر دیے جائیں کیونکہ یہ ہماری غیرت ایمانی کا تقاضا ہے۔ اس کے علاوہ میں نے اس بارے میں دارالعلوم کراچی سے بھی فتوی لیا، ان کا فرمانا تھا کہ شدید ضرورت کے وقت استعمال کی گنجائش ہے۔ مگر سمجھ نہیں آتی کہ شدید ضرورت میں کیا شامل ہے؟ لوگ یوٹیوب وغیرہ سے کمائی کر رہے ہیں۔ کیا یہ شدید ضروت ہے؟آن لائن خرید و فروخت ہو رہی ہے،آن لائن مختلف کورسز کرنا،آن لائن ایڈیشل تعلیم حاصل کرنا جبکہ اتنی شدید ضرورت بھی نہ ہو صرف سرٹیفیکیٹس اور تعلیم میں اضافہ مقصود ہو، جیسے مثال کے طور پر مجھے شوق ہے مختلف کورسز کرنے کا تو کچھ یونیورسٹیز آن لائن تعلیم دیتی ہیں۔ان کے لئے ظاہر  ہے ٹیکنالوجی کا استعمال کرنا پڑے گا؟مگر دل میں خیال آتا ہے کہ کہیں یہ میری غیرت ایمانی کے خلاف تو نہیں ؟مفتی صاحب! میرا سوال پوچھنے کا مقصد یہ ہے کہ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ اس ٹیکنالوجی کا استعمال کن چیزوں میں کرنا چاہیے کن میں نہیں۔ کیا ضرورت شدیدہ کے علاوہ جائز کاموں میں اس کا استعمال اخلاقی اور شرعی طور پر درست ہو گا؟کیا ہماری غیرت ایمانی اور آپ ﷺ سے محبت پر کوئی حرف آئے گا؟کیا مسلمان اس ٹیکنالوجی کا استعمال بالکل ترک کر دیں؟قرآن و سنت اور آپ ﷺ کے دور میں اس قسم کے مسائل پر کیا ردعمل تھا؟ برائے مہربانی ضرور رہنمائی فرما دیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

سوال کے جواب سے پہلے بطور تمہید دو باتیں سمجھ لینی چاہئیں:

1.     دار الافتاء، جامعۃ الرشید کے حضرات کی تحقیق اور رائے کے مطابق ذرائع ابلاغ ہونے کی حیثیت سے سوشل میڈیا کا استعمال فی نفسہ ایک مباح عمل ہے یعنی نہ تو اس سے ممانعت ہے اور نہ ہی اس پر کوئی ثواب ہے۔  اگر اس کا ناجائز مقاصد (مثلاً دھوکہ دہی، فحش چیزوں کی اشاعت، جھوٹ پر مشتمل باتوں کی اشاعت وغیرہ) کے لیے یا ناجائز چیزوں (مثلاً فحش تصاویر، میوزک، فلموں وغیرہ)   کے دیکھنے یا سننے کے لیے استعمال کیا جائے تو  یہ باعث گناہ اور ناجائز ہوگا، اور اگر جائز مقاصد کے لیے اور جائز چیزوں  کے دیکھنے اور سننے  کے لیے استعمال کیا جائے تو جائز ہوگا۔

2.     اگر کوئی غیر مسلم ملک، کمپنی یا ویب سائٹ نبی کریم ﷺ کی گستاخی پر مشتمل مواد شائع کرتی ہے تو مسلمانوں کی ایمانی غیرت کا تقاضا  یہ ہے کہ اس کا سوشل بائیکاٹ کریں اور اس کی مصنوعات و خدمات کو استعمال نہ کریں تاکہ وہ گستاخی کرنے سے باز آ جائیں اور مسلمانوں سے علی الاعلان معذرت کر لیں۔ اگر وہ اپنے قبیح عمل سے رک جائیں اور معذرت کر لیں تو ان کی مصنوعات و خدمات کو استعمال کیا جا سکتا ہے۔

اس تمہید کے بعد سوال میں مذکور صورت کا جواب یہ ہے کہ چونکہ ماضی قریب میں ان سوشل میڈیا ویب سائٹس نے ایسی کوئی گستاخانہ حرکت نہیں کی ہے اور اس سے قبل جو حرکت کی تھی اس سے رجوع کر چکے ہیں اور گستاخانہ مواد ہٹانے کا وعدہ کیا ہے اور آئندہ کے لیے گستاخانہ مواد کو رپورٹ کرنے کا سسٹم بھی تیار کیا ہے، لہذا ان سوشل میڈیا ویب سائٹس کا استعمال جائز مقاصد کے لیے اور جائز مواد پر مشتمل چیزوں کے دیکھنے اور سننے کے لیے جائز ہے اور اس میں "شدید دنیاوی ضرورت" ہونے کی قید نہیں ہے۔

حوالہ جات

Facebook administration has been blocking illegal blasphemous content on Pakistan's request and 85 per cent of such material on the social networking site has already been removed.

Interior Secretary Arif Khan said in his report that Facebook had responded to their letter and showed its willingness to remove content deemed blasphemous.

(https://www.dawn.com/news/1323131)

محمد اویس پراچہ     

دار الافتاء، جامعۃ الرشید

17/ صفر المظفر 1443ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد اویس پراچہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب