021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
لفظ طلاق سے وقوعِ طلاق کا علم ہو اورثلا ثا کے بارے میں معلوم نہ ہوتوکتنی طلاقیں واقع ہوں گی؟
74225طلاق کے احکامتین طلاق اور اس کے احکام

سوال

کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ

    ایک ان پڑھ شخص نے اپنی بیوی کو مخاطب کر کے پشتو زبان میں کہا۔ (طلاق يی په ثلاثاً  سره)  یعنی  تمہیں ثلاثاًطلاق ہو،اس شخص کو جب بتایا گیاکہ طلاق کیساتھ ثلاثاٌ کا لفظ استعمال کرنے سے تو تین طلاقیں واقع ہوتی ہےتو اس نے کہا کہ میرا تو ہر گز تین کا ارداہ نہیں تھا،کیونکہ مجھے طلاق کا مطلب تو معلوم تھا لیکن ثلاثاًکا مطلب بالکل نہیں جانتا تھا،یعنی کہ ثلاثاً کا لفظ اگر طلاق کیساتھ لگایاتو پھر تین طلاق واقع ہوں گے،خلاصہ یہ کہ  مذکورہ الفاظ استعمال کرتے وقت بقول اس شخص کے کہ وہ ہرگز ہمیشہ کیلئے بیوی چھوڑنے کا ارادہ نہیں رکھتا تھا۔فقط سنا سنایا لفظ استعمال کیا۔اب یہاں کے مقامی مفتیان کرام میں سے بعض  احسن الفتاوی جلد5صفحہ 132 اور فتاوی فریدیہ جلد5صفحہ 381 اور درمختار مع ھامش  ردالمحتار جلد4صفحہ 461 قبیل مطلب فی طلاق المدھوش اور(منحۃ الخالق حاشیۃ علی البحرا لرائق کتاب الطلاق  ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ٣/٢٥٨اور فتاوٰی بزازیہ علی ھامش فتاوی ہندیہ،مسائل الایقاع بلاقصد الخ نورانی کتب خانہ پشاور ٤/١٧٩،کی روشنی میں دیانةًنہیں، صرف قضاءً تین طلاق کی وقوع کا فتوی دیتے ہیں اورثلاثاً کی قید مذکورہ فقہی حوالہ جات کی روشنی میں لغو قرار دیتے ہیں۔

جبکہ بعض دیگر  مفتیان کرام تین طلاق کے وقوع کا فتوی دیانةً وقضاءً دیتے ہیں اور مبسوط جلد6 صفحہ 104 مکتبہ غفاریہ کے حوالے سے   فرماتے ہیں:الطلاق متی قرن بالعدد  فالوقوع بالعدد ۔۔الخ اور فریقِ ثانی کے مفتیانِ کرام یہ بھی کہتے ہیں کہ جب شوہر کو اتنا معلوم ہے کہ ان الفاظ سے طلاق واقع ہو جاتی ہے توصرف یہ معلوم نہ ہونا کہ کونسی طلاق واقع  ہوتی مضرنہیں،تین طلاق بہرحال اس صورت میں واقع ہوگئی ہیں.اس لیے کہ جیسے یہ ضروری نہیں ہے کہ جو الفاِظ طلاق وہ کہہ رہا ہے ان سے طلاقِ رجعی واقع ہوتی ہے یا بائن ،اسی طرح یہ بھی معلوم ہونا ضروری نہیں کہ میں جو الفاظ کہہ رہا ہوں ان سے مغلظ واقع ہورہی ہےیانہیں۔

تو اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ صورتِ مسؤلہ میں جبکہ  مستفتی ان پڑھ اور جاہل شخص ہے یعنی وہ طلاق کامطلب تو جانتا ہے البتہ ثلاثاًکا مطلب نہیں جانتا۔اُس کی اِس کہنے سے(  طلاق يی په ثلاثاً  سره )یعنی  تمھیں ثلاثاًطلاق ہو۔دیانةً و قضاءً کتنی طلاق واقع ہوئی ہیں؟

خلاصہ یہ کہ اس کو یہ تو معلوم ہے کہ مذکورہ الفاظ طلاق کیلئے استعمال ہوتے ہیں،لیکن یہ معلوم نہیں کہ ان الفاظ سے تین طلاق واقع ہوتی ہیں۔

o

تحقیق کرنے پر معلوم ہوا کہ بعض علاقوں میں اس کا عرفِ عام ہے کہ وہ تین طلاقوں کےلیے اس طرح کا لفظ استعمال کرتے ہیں، اگرشخصِ مذکورکے ہاں بھی یہی عرف ہوتو مسئولہ صورت میں تینوں طلاق واقع ہوکر حرمتِ مغلظہ ثابت ہوگئی ہیں اورشخصِ مذکورکا اس عام عرف کو نہ جاننےکادعوی کرنا قابلِ اعتناء نہیں ہوگا،اوراگر شخصِ مذکورکے ہاں اس کاعرف نہ ہو اوراس کو واقعةً لفظ "ثلاثاً" کے معنی کا پتہ نہ ہو تو پھر مسئولہ صورت میں صرف قضاءً طلاق واقع ہوگی،مگرچونکہ عورت قاضی کی طرح ہے جب اس نے اپنے کانوں سےطلاقِ ثلاثہ کے الفاظ سنے ہے تو اس کے لیے اب حلال نہیں ہے کہ وہ شوہر کو اپنے اوپر قدرت دےاور اس سے ازدواجی تعلقات قائم کرے، بلکہ اس سے بچنے کی ہر ممکن کوشش کرے ، مال دے کر خلع حاصل کرے  یا شرعی قاضی یا شرعی پنچایت کے ذریعہ کوشش کروائیں  ، اگر خدانخواستہ تمام کوششیں بیکار ثابت ہوں ، اور شوہر کسی بات پر آمادہ نہ ہو اور شرعی قاضی یاپنچایت کے سامنے قسم کھاکر طلاق سے انکار کردے تو اس صورت میں اس عورت کے لیے اس شخص کے ساتھ رہنے کا گناہ نہیں ہوگا،بلکہ  پورا گناہ شوہر پر ہوگا۔

حوالہ جات

وفی البزازیة علی الھندیة(4/179)
لقّنہ الطلاق بالعربیة وھولایعلم أو العتاق أو التدبیرأو لقنھا الزوج الإبراء عن المھرونفقة العدة بالعربی وھی لاتعلم قال الفھیة أبو اللیث لایقع دیانة وقال مشائخ اأوجندلایقع أصلاصیانة لأملاک  الناس  عن الإبطال بالتلبیس.
وفی مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر - (ج 3 / ص 214)
فلو لقنه الطلاق بالعربية فطلقها بلا علم به وقع قضاء كما في الظهيرية والمنية .
قال ابن عابدین رحمہ اللہ "
وسيذكر قريبا أن من الألفاظ المستعملة: الطلاق يلزمني، والحرام يلزمني، وعلي الطلاق، وعلي الحرام، فيقع بلا نية للعرف إلخ. فأوقعوا به الطلاق مع أنه ليس فيه إضافة الطلاق إليها صريحا، فهذا مؤيد لما في القنية، وظاهره أنه لا يصدق في أنه لم يرد امرأته للعرف، والله أعلم".
"الفتاوى الهندية "(1/ 380):
"امرأة قالت: " مرا سه طلاق ده " فقال الزوج " دايم " بالياء فإن كان هذا لغة أهل بلدة من البلدان ولم يكن لغة أهل بلدة الزوج ،لا يصدق أنه لم يرد به الجواب وإن لم يكن لغة أهل بلدة من البلدان لم يكن جوابا ،كذا في محيط السرخسي".
وفی احکام القرآن للشيخ ظفر احمد العثماني(رح):(۱/۵۰4)
﴿قوله تعالي: فان طلقها فلا تحل له حتي تنکح زوجا غيره﴾ اي انه اذا طلق الرجل امرأته طلقة ثالثة بعد ما ارسل عليها الطلاق مرتين فانها تحرم عليه حتي تنکح زوجا غيره اي حتي يطأها زوج اخر في نکاح صحيح.
فی سنن ابن ماجة (ج 2 / ص 152)باب من طلق ثلاثا في مجلس واحد 2024
حدثنا محمد بن رمح . أنبأنا الليث بن سعد ، عن إسحاق بن أبى فروة ،عن أبى الزناد ، عن عامر الشعبى  قال : قلت لفاطمة بنت قيس :حدثينى عن طلاقك . قالت : طلقني زوجي ثلاثا ، وهو خارج إلى اليمن فأجاز ذلك رسول الله صلى الله عليه وسلم .
سنن البيهقي الكبرى - (ج 7 / ص 339)
أخبرنا أبو سعد أحمد بن محمد الماليني أنا أبو أحمد عبد الله بن عدي الحافظ نا محمد بن عبد الوهاب بن هشام نا علي بن سلمة اللبقي ثنا أبو أسامة عن الأعمش قال كان بالكوفة شيخ يقول سمعت علي بن أبي طالب رضي الله عنه يقول إذا طلق الرجل امرأته ثلاثا في مجلس واحد فإنه يرد إلى واحدة والناس عنقا وآحادا إذ ذاك يأتونه ويسمعون منه قال فأتيته فقرعت عليه الباب فخرج إلي شيخ فقلت له كيف سمعت علي بن أبي طالب رضي الله عنه يقول فيمن طلق امرأته ثلاثا في مجلس واحد قال سمعت علي بن أبي طالب رضي الله عنه يقول إذا طلق رجل امرأته ثلاثا في مجلس واحد فإنه يرد إلى واحدة قال فقلت له أين سمعت هذا من علي رضي الله عنه قال أخرج إليك كتابا فأخرج فإذا فيه بسم الله الرحمن الرحيم هذا ما سمعت علي بن أبي طالب رضي الله عنه يقول إذا طلق الرجل امرأته ثلاثا في مجلس واحد فقد بانت منه ولا تحل له حتى تنكح زوجا غيره قال قلت ويحك هذا غير الذي تقول قال الصحيح هو هذا ولكن هؤلاء أرادوني على ذلك.
رد المحتار - (ج 10 / ص 448)
وقد ثبت النقل عن أكثرهم صريحا بإيقاع الثلاث ولم يظهر لهم مخالف - { فماذا بعد الحق إلا الضلال}  وعن هذا قلنا لو حكم حاكم بأنها واحدة لم ينفذ حكمه لأنه لا يسوغ الاجتهاد فيه فهو خلاف لا اختلاف.
الفتاوى الهندية - (ج 10 / ص 196)
وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية ولا فرق في ذلك بين كون المطلقة مدخولا بها أو غير مدخول بها كذا في فتح القدير ويشترط أن يكون الإيلاج موجبا للغسل وهو التقاء الختانين هكذا في العيني شرح الكنز .أما الإنزال فليس بشرط للإحلال.
وفی بدائع الصنائع - (3 / 187)
وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له
نكاحها قبل التزوج بزوج آخر لقوله عز وجل { فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره } وسواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدة.
وفی أحكام القرآن للجصاص ج: 5  ص: 415
قوله تعالى: {فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجاً غَيْرَهُ} منتظم لمعان: منها تحريمها على المطلق ثلاثا حتى تنكح زوجا غيره، مفيد في شرط ارتفاع التحريم الواقع بالطلاق الثلاث العقد والوطء جميعا; لأن النكاح هو الوطء في الحقيقة، وذكر الزوج يفيد العقد، وهذا من الإيجاز واقتصار على الكناية المفهمة المغنية عن التصريح. وقد وردت عن النبي صلى الله عليه وسلم أخبار مستفيضة في أنها لا تحل للأول حتى يطأها الثاني، منها حديث الزهري عن عروة عن عائشة: أن رفاعة القرظي طلق امرأته ثلاثا، فتزوجت عبد الرحمن بن الزبير، فجاءت إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقالت: يا نبي الله إنها كانت تحت رفاعة فطلقها آخر ثلاث تطليقات فتزوجت بعده عبد الرحمن بن الزبير وإنه يا رسول الله ما معه إلا مثل هدبة الثوب فتبسم رسول الله صلى الله عليه وسلم وقال: "لعلك تريدين أن ترجعي إلى رفاعة؟ لا حتى تذوقي عسيلته ويذوق عسيلتك".

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید

19/2/1443ھ 

n

مجیب

سید حکیم شاہ صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔