021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
پیشاب کے قطروں کے مریض کے لیے وضو اور نماز کا حکم اور طریقہ
74282پاکی کے مسائلمعذور کے احکام

سوال

پیشاب کے قطروں کے مریض کے لیے وضو اور نماز کا حکم اور طریقہ ایک شخص کو چھوٹے پیشاب کا مسئلہ ہے، یعنی جب بھی نماز کے لیے وضو کرتا ہے اور نماز میں جب سجدے میں جاتا ہے تو پیشاب کا قطرہ آتا ہے اور کبھی کبھی نماز کے بغیر بھی آتا ہے ۔ 1-ایسا شخص جب نماز میں قطرے کا شکار ہو تو کیا وہ نماز پوری کرے یا درمیان میں چھوڑ دے؟ 2-کیا وہ شخص ہر نماز کے لیے نیا وضو کرے اور کپڑے دھوئے؟ اور کپڑے کس مقدار تک دھوئے؟ کیوں کہ اسے علم نہیں کہ قطرہ کون سی جگہ لگا ہے۔ 3-اور کیا نماز کے بعد تلاوت کے لیے نیا وضو بنائے؟ 4-اور کیا یہ شخص نمازیں یا تراویح پڑھا سکتا ہے ،جبکہ اس مر ض کا شکار ہے؟ 5-اگر تلاوت پہلے کرے اور تلاوت سے پہلے قطرہ آجاے تو تلاوت اور نماز کے لیے کیا کرے؟ تنقیح:سائل سے وضاحت طلب کرنے پر معلوم ہوا کہ مذکورہ شخص کو قطروں کا مسئلہ استنجاء کرنے کے بعد بیس تیس منٹ تک پیش آتا ہے اور اس دوران اگر سجدہ کرے تو پہلے سجدے میں قطروں کا شکار ہو جاتا ہے ، اس کے بعد مزید کوئی قطرہ نہیں آتا ۔

o

صورت مسئولہ میں چونکہ کچھ دیر تک پیشاب کے قطرے آنے کے بعد بند ہوجاتے ہیں یا درمیان میں اتنا وقفہ ہوجاتا ہے کہ جس میں فرض نماز ادا کی جاسکتی ہے تو یہ شخص شرعاً معذور نہیں ہے۔ان کو درج ذیل ہدایات پر عمل کرنا چاہیے: 1-نماز سے کم از کم آدھا گھنٹہ پہلے استنجاء کر لیا کریں۔ 2-استنجاء کے بعد زیر جامہ میں ٹشو رکھ لیں،تاکہ قطرہ نکلے تو کپڑے ناپاک نہ ہوں۔ 3-جب اطمینان ہوجائے کہ مزید قطرے نہیں نکلیں گے تو ٹشو پھینک کر وضو کرلیں۔دوبارہ استنجاء نہ کریں۔ اس طرح کرنے سے بالعموم قطروں کی وجہ سے کوئی مسئلہ پیش نہیں آئے گا اور نہ ہی استفتاء میں ذکر کردہ سوالات کی نوبت آئے گی ان شاء اللہ،لیکن کبھی ایسی صورت پیش آبھی سکتی ہے، لہذا سوالات کے ترتیب وار جوابات بھی دیے جاتے ہیں: 1-نماز میں قطرہ نکل آئے تو کپڑے پاک کر کے وضو کریں۔ پھر اگر جماعت چل رہی ہو تو نئے سرے سے شریک ہوجا ئیں۔اگر جماعت ہو چکی ہو تو منفردا نماز پڑھ لیں۔ 2-جب بھی قطرہ نکل آئے تو نیا وضو کرنا ہوگا۔ اگر قطرہ نہ نکلے تو ایک وضو سے نماز، تلاوت سب درست ہوں گے۔ 3- جواب نمبر2 میں جواب آگیا ہے۔ 4-اگر اطمینان ہو کہ احتیاط کر سکوں گا تو پڑھا سکتا ہے۔ 5-کپڑے پاک کرکے وضو کر لیں۔

حوالہ جات

قال في شرح التویر: يجب الاستبراء بمشي أو تنحنح أو نوم على شقه الايسر، ويختلف بطباع الناس.(شرح التنویر:1/50) قال العلامة ابن عابدین رحمہ اللہ:أما نفس الاستبراء حتى يطمئن قلبه بزوال الرشح فهو فرض وهو المراد بالوجوب، ولذا قال الشرنبلالي: يلزم الرجل الاستبراء حتى يزول أثر البول ويطمئن قلبه. وقال: عبرت باللزوم لكونه أقوى من الواجب؛ لأن هذا يفوت الجواز لفوته فلا يصح له الشروع في الوضوء حتى يطمئن بزوال الرشح. اهـ. قلت: ومن كان بطيء الاستبراء فليفتل نحو ورقة مثل الشعيرة ويحتشي بها في الإحليل فإنها تتشرب ما بقي من أثر الرطوبة التي يخاف خروجها، وينبغي أن يغيبها في المحل لئلا تذهب الرطوبة إلى طرفها الخارج.(ردالمحتار:1/344) قال العلامةالکاساني رحمہ اللہ: "ولو أن ثوبا أصابته النجاسة وهي كثيرة - فجفت، وذهب أثرها، وخفي مكانها؛ غسل جميع الثوب وكذا لو أصابت أحد الكمين ،ولا يدري أيهما هو؛ غسلهما جميعا). بدائع الصنائع: 1/81) قال العلامةابن نجیم (قوله وطاهر بمعذور) أي وفسد اقتداء طاهر بصاحب العذر المفوت للطهارة؛ لأن الصحيح أقوى حالا من المعذور والشيء لا يتضمن ما هو فوقه والإمام ضامن بمعنى تضمن صلاته صلاة المقتدي، وقيد المعذور في المجتبى بأن يقارن الوضوء الحدث،او یطرا علیہ للاحتراز عما اذا توضا علی الانقطاع و صلی کذالک فانہ یصح،)البحر الرائق:1/381)

عبدالمنعم بن سونا

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی

1443.2.22

n

مجیب

عبدالمنعم بن سونا

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔