021-36880325,0321-2560445

بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
نصف منافع پر جانور چرانے کے معاہدے کا حکم
74342اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائلکرایہ داری کے فاسد معاملات کا بیان

سوال

مثلا ایک شخص 50000 کی گائے یا بھینس خرید کر دوسرے آدمی کو دے دیتا ہے اوردوسرا آدمی اس کو پالتا ہے۔پھر کچھ عرصہ بعد وہ گائے یا بھینس 100000 کی فروخت ہوتی ہے ۔اور نفع دونوں کے درمیان نصف تقسیم ہو جاتا ہے، جبکہ اصل قیمت(یعنی 50000جتنے کی گائے یا بھینس خریدی گئ تھی ) وہ پہلے شخص کی ہی رہتی ہے ۔اور اسی طرح اگر گائے یا بھینس بچہ دیتی ہے تو وہ بھی دونوں کے درمیان نصف مشترک ہوتا ہے ۔کیااسطرح جائز ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

یہ معاملہ قفیز طحان کی علت کی وجہ سے ناجائز ہے۔البتہ اگر مالک اس جانور کانصف حصہ معمولی یا علامتی قیمت پر اس شخص کو فروخت کرکے اس کی قیمت معاف کردے یا نصف حصہ ہبہ کردے اور اس کے بعد اس کے ساتھ نصف حصہ منافع پر یا بچے میں اشتراک پر معاملہ  کریں تو یہ درست ہوگا۔(فتاوی عثمانی:ج۳،ص۳۸۲)

حوالہ جات
۔۔۔۔۔۔

نواب الدین

دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

۲۸صفر۱۴۴۲ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

نواب الدین صاحب

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب