03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
امام صاحب کو بلاوجہ امامت سے معزول کرنے کا حکم
74368وقف کے مسائلمسجد کے احکام و مسائل

سوال

سوسائٹی کی ایک مسجد ہے، جس میں ایک امام صاحب بیس پچیس سال سے امامت کروا رہے ہیں، اب سوسائٹی کا مالک ان کو نکالنا چاہتا ہے، جبکہ امام صاحب کہہ رہے ہیں کہ آپ مجھے کیوں نکال رہے ہیں؟ میں اتنے عرصے سے رہ رہا ہوں، اب امام صاحب لوگوں کے ساتھ مل کر اپنا قانونی دفاع کررہے ہیں ، سوال یہ ہے کہ مذکورہ امام کا زبردستی  امامت پر قائم رہنا جائز ہے؟ نیز اگر وہ امام قائم رہتا ہے تو اس کو چندہ دینے کا کیا حکم ہے؟ کیونکہ محلے کے لوگ  کمیٹی بنا کر امام  صاحب کے اخراجات برداشت کرنا چاہ رہے ہیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

بطورِ تمہید درج ذیل امور جاننا ضروری ہیں:

نمبر1: امامت کے اجارہ کی مدت کی تصریح عربی اور اردو فتاوی میں تلاش کے باوجود کہیں نہیں ملی،البتہ چونکہ امامت دینی اعتبارسے بہت اعلی منصب ہے، چنانچہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین خود امامت کافريضہ سر انجام دیتے تھے اور امامت کا مقصد لوگوں کو صرف پانچ وقت کی نماز پڑھانا نہیں ہوتا، بلکہ شرعی حوالے سے لوگوں کی رہنمائی کرنا  اور ان کی خبر گیری کرنا  بھی مقصود ہوتا ہے،گویا کہ امام مسجد دینی امور میں ایک پیشوا اور رہنما کی حیثیت رکھتا ہے،اس لیے اس کو عام اجارہ پر قیاس کرنا مشکل ہے، لہذا اگر معاہدہ کے وقت امامت کی کوئی خاص مدت طے کی گئی ہوتو اسی کے مطابق عمل کیا جائے گا اور اگر کوئی خاص مدت طے نہ کی گئی ہواورمعاشرے میں بھی کوئی خاص مدت معروف نہ ہوتو  درج ذیل  قرائن سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ معاہدہ تاحیات شمار ہو گا،جس کو بغیر کسی معتبرشرعی وجہ کے فسخ کرنا درست نہ ہو گا، جس کی تفصیل یہ ہے:

  1. شافعیہ كے مشہور عالم سليمان بن عمر بن منصور (المتوفى: 1204ھ) نے علامہ نورالدین سندھی رحمہ اللہ کے حوالے سے امامتِ صغری کو امامتِ کبری کے وظائف میں سے نقل کیا ہے، اسی طرح عرب کے عالم احمد بن محمد بن حسن خلیل نے اپنی کتاب شرح زاد المستقنع میں لکھا ہے کہ حضور اکرم صلی للہ علیہ وسلم کے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو امامتِ صغری کا منصب سپرد کرنے میں امامتِ کبری کا منصب سنبھالنے کی طرف اشارہ ہے اور یہ دونوں اپنی اہمیت اور عظمت کے پیشِ نظر ایک دوسرے کے قریب قریب ہیں اور نماز کا امام خلیفہ ٴوقت کے قائم مقام ہوتا ہے،  لہذا  اس سے اشارہ ملتا ہے کہ امامتِ کبری کی طرح امامتِ صغری کا معاہدہ بھی وقت کی تحدید نہ ہونے کی صورت میں تاحیات رہے گا۔

حاشية الجمل على شرح المنهج (2/ 58) دار الفكر، بيروت:

وفي السندي على البخاري، قوله «مروا أبا بكر فليصل بالناس» استدل به أهل السنة على خلافة أبي بكر، ووجهه أن الإمامة في الصلاة التي هي الإمامة الصغرى كانت من وظائف الإمامة الكبرى فنصبه - صلى الله عليه وسلم - أبا بكر إماما في الصلاة في تلك الحالة من أقوى أمارات تفويض الإمامة الكبرى إليه۔

شرح زاد المستقنع للخليل (2/ 58):

أن النبي - صلى الله عليه وسلم - أراد أن يشير إلى الخلافة فكأنه يشير بالإمامة الصغرى إلى الإمامة الكبرى لأن الذي يخلف النبي - صلى الله عليه وسلم - في ذلك الوقت بأمره ففيه إشارة إلى الخلافة الكبرى.

شرح زاد المستقنع للخليل (2/ 67):

الدليل الثاني: ما جاء في صحيح البخاري أن النبي - صلى الله عليه وسلم - قال: (لا يفلح قوم ولو أمرهم امرأة) ومن أعظم وأشرف وأهم الولايات ولاية إمامة الناس فإنه يقال الإمامة الصغرى والإمامة الكبرى فتقارن بالإمامة الكبرى لشرفها وأهميتها في الإسلام فكيف نوليها امرأة.

شرح زاد المستقنع للشنقيطي (84/ 7) :

والمعنى الثاني للإمام: الإمام الخاص، وهي التي يسميها العلماء الإمامة الصغرى، وهي إمامة الصلاة، ولا شك أن الإمام الراتب وإمام الحي ينزل منزلة الإمام العام.

  1. اردو فتاوی مثلا فتاوی دارالعلوم دیوبند، فتاوی محمودیہ، کفایت المفتی، فتاوی مفتی محمود اور فتاوی فریدیہ وغیرہ میں امامت کی مدت  کا ذکر کیےبغیر تصریح کی گئی ہے کہ امام کوکسی شرعی عذر کے بغیر معزول کرنا درست نہیں، اگرچہ اس کو امامت کرتے ہوئے کافی عرصہ گزر چکا ہو، چنانچہ مفتی کفایت اللہ صاحب رحمہ اللہ ایک امام (جس کی امامت کو سات آٹھ سال کا عرصہ گزر چکا تھا) کو معزول کرنے سے متعلق سوال کے جواب میں فرماتے ہیں:

"صورتِ مسئولہ میں اگر کوئی وجہ شرعی کراہت کی موجود ہو جب تو لوگوں کو اختیار ہے، بلکہ مناسب یہی ہے کہ اس کو علیحدہ کرکے دوسرا امام مقرر کرلیں اور اگر اختلاف کا باعث صرف نفسانیت ہے تو دوسرے لوگوں کے لیے ایسا کرنا ناجائز ہے۔ "(کفایت المفتی: ج:3ص:74)

اسی طرح مفتی محمود صاحب رحمہ اللہ  ایک سوال کے جواب میں فرماتے ہیں:

 "جس امام كو جماعت كے زياده اشخاص مقرر كريں وہی امام رہے گا، لأن الاعتبار للأكثر فإن اختلفوا اعتبر أكثرهم پس جبکہ سابق امام پر تمام محلہ والے راضی ہیں تو وہی امام رہے گا، نیز بغیر کسی شرعی وجہ کے امام کو معزول کرنا درست نہیں۔" (فتاوی مفتی محمود: ج:2ص:216)

اور فتاوی فریدیہ میں مفتی فرید اللہ صاحب رحمہ اللہ نے آٹھ نو سال سے مقرر شدہ امام کو بغیر کسی شرعی وجہ کے معزول کرنے اور دوسرا امام مقرر کرنے کو امامتِ کبری پر قیاس کیا ہے، دیکھیے عبارت:

"بلاوجہ شرعی امام کو امامت سے معزول کرنا اگرچہ گناہ ہے، لیکن نافذ ہو گا، جبکہ اہلِ حل وعقد کی طرف سے ہو، نظیرہ عن الإمامة الكبرى بالتغلب من الاشباه النظائر۔"

  (فتاوی فریدیہ: ج:2،ص:350)

  1. عرب کے شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ نے اپنے ایک فتوی میں لکھا ہے کہ امام کو بیت المال کی طرف سے جو تنخواہ دی جاتی ہے وہ امامت کا عوض اور اجرت نہیں، بلکہ دینی امور میں اعانت کی وجہ سے دیا جانے والا رزق ہے۔

رقم الفتوى: 441097 ، تاريخ النشر:الخميس 9 شوال 1442 ھ- 20-5-2021 م

السؤال:

هل يجوز لإمام المسجد أن يأخذ ما تصرفه الدولة له من راتب على الإمامة، مع أنه موظف في جهة أخرى، ولديه ما يكفيه؟

الإجاب:

الحمد لله، والصلاة والسلام على رسول الله، وعلى آله، وصحبه، أما بعد:

فقد بينا في الفتوى: 120106 جواز أخذ راتبٍ على الإمامة من الدولة، وذكرنا أن ما

يؤخذ من بيت المال على الإمامة ليس عوضًا وأجرة، وإنما رزق؛ للإعانة على الطاعة.[1]

  1. امامت کے معاہدہ میں عام عرف یہی ہے کہ معاہدہ کے وقت کوئی خاص مدت طے نہیں کی جاتی، بلکہ آزمائشی مدت گزرنے کے بعد  جب ایک امام کو حتمی طور پر مقرر کر لیا جاتا ہے تو وہی مستقل امام سمجھا جاتا ہے اور مدت مقرر نہ ہونے کی وجہ سے فریقین کے درمیان کسی قسم کا جھگڑا اور نزاع بھی نہیں ہوتا، چنانچہ بعض اوقات ائمہ کرام چالیس چالیس تک ایک جگہ امامت کرنے کے بعد اسی مسجد کی ہی خدمت انجام دیتے ہوئے دنیا سے رخصت ہوتے ہیں اوراس طرح کی مثالیں کثیر ہیں۔

نمبر2: فقہائے کرام رحمہم اللہ نے واقف کو ابتدائے وقف میں شریعت کی حدود کے اندر رہتے ہوئے شروط طے کرنے اور اس کی تولیت کا مکمل اختیار دیا ہے، لہذا واقف کی موجودگی میں کسی کو تولیت حق حاصل نہیں، امام کے عزل ونصب میں بھی اصولی اعتبار سے واقف یا اس کے قائم کردہ متولی کو ہی حق حاصل ہے، البتہ امامت کے مسئلہ میں فقہائے کرام رحمہم اللہ نے تصریح کی ہے کہ اگر اہلِ محلہ واقف کی بنسبت اصلح اور بہتر شخص کو امام مقرر کریں تو ان کی رائے کو ترجیح حاصل ہو گی اور علامہ شامی رحمہ اللہ نے اس کی وجہ یہ لکھی ہے کہ چونکہ امامت کا تعلق اہلِ محلہ سے ہوتا ہے، اس لیے  ایسی صورت میں ان کی رائے کےمطابق عمل ہو گا۔(ديكھيے عبارات:1تا5) اس سے یہ نتیجہ بھی نکلتا ہے کہ اگر اہلِ محلہ یا واقف نے صالح اور دیندار شخص امام مقرر کیا ہو تو واقف بغیر کسی معتبر شرعی وجہ کے اس کو امامت سے معزول  کرکے علم وعمل میں اس سے کم درجے کا امام مقرر نہیں کر سکتا اور شرعی وجہ کی تفصیل یہ ہے:

  1. امام فسق یعنی گناہ کبیرہ کا ارتکاب کرنے لگے۔

  2. امامت کے فرائض میں کوتاہی اور سستی سے کام لے۔

  3. کسی عذر کی وجہ سے امامت کی اہلیت ختم ہو جائے، جیسے معذوری وغیرہ۔

  4. وقف کے مال میں خیانت اور دھوکہ دہی کا ارتکاب کرے۔

  5. معاہدہ کے وقت طے کی گئی شرائط کی خلاف ورزی کرے۔

اس تمہید کے بعد سوال کا جواب یہ ہے کہ صورتِ مسئولہ میں سوسائٹی کے مالکان نے اگر امامت سے متعلق معاہدہ کے وقت اجارہ کی کوئی خاص مدت مقرر  کی تھی تو اسی کے مطابق حکم لگے گا، (کیونکہ اصولی اعتبار سے یہ اجارہ کا معاملہ ہے، جس میں مدت کا اعتبار ضروری ہے) اور مدت مکمل ہونے سے پہلے بغیر کسی شرعی وجہ کے امام صاحب کو معزول کرنا درست نہیں  اور اگر معاہدہ کے وقت کوئی مدت مقرر نہیں کی گئی تھی  تو ایسی صورت میں لوگوں کے عرف اور تعامل کیوجہ سے امامتِ کبری پر قیاس کرتے ہوئے  یہ معاہدہ تاحیات سمجھا جائے گا، اورتمہید میں ذکر کیے گئے اصول کے مطابق اگر امام صاحب میں معزول کرنے کی کوئی شرعی وجہ  موجود نہ ہو تو امام صاحب کو  بلاوجہ امامت کے عہدے سے معزول کرنا درست نہیں ہے، جیسا کہ اردو فتاوی میں تصریح گزرچکی ہے، خصوصاً جبکہ امام صاحب کو امامت کرواتے ہوئے تقریباً پچیس سال کا عرصہ گزر چکا ہے اور اہلِ محلہ بھی اس کی امامت پر راضی ہیں اور اس کے اخراجات برداشت کرنے کو بھی تیار ہیں، لہذا  ایسی صورت میں اہلِ محلہ کا امام صاحب کا قانونی دفاع کرنا اور مذکورہ  امام  کا مالی تعاون کرنا بھی درست ہے۔

 البتہ اگر معزولی کی کوئی معتبروجہ موجود ہوتو سوسائٹی پیش امام کومعزول کر سکتی ہے اور پھر دوسرا امام مقرر کرنے میں اصولی اختیار سوسائٹی کے مالکان(جنہوں نے مسجد کے لیے جگہ وقف کی ہے)   کو ہو گا، البتہ  اگر اہلِ محلہ سوسائٹی کے متعین  کردہ امام سے بہتر اور زیادہ صالح شخص کو امام بنانا  چاہیں تو اس صورت میں فقہائے کرام رحمہم اللہ کی تصریح کے مطابق اہلِ محلہ کو ترجیح حاصل ہو گی اور ان کی رائے کے مطابق امام  کا تقررکیا جائے گا ۔

[1] /https://www.islamweb.net/ar/fatwa/441097

حوالہ جات

۔الدر المختار وحاشية ابن عابدين (4/ 430) دارالفكر، بيروت:

’’(الباني) للمسجد (أولى) من القوم (بنصب الإمام والمؤذن في المختار إلا إذا عين القوم أصلح ممن عينه) الباني.

2۔قال ابن عابدين: (قوله الباني أولى) وكذا ولده وعشيرته أولى من غيرهم أشباه (قوله: بنصب الإمام والمؤذن) أما في العمارة فنقل في أنفع الوسائل أن الباني أولى (قوله: إلا إذا عين القوم أصلح ممن عينه) لأن منفعة ذلك ترجع إليهم أنفع الوسائل۔

3۔تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي (6/ 146) المطبعة الكبرى الأميرية   بولاق، القاهرة:

وعن ابن سلام باني المسجد أولى بالعمارة والقوم أولى بنصب الإمام والمؤذن، وعن الإسكاف الباني أحق بذلك. قال أبو الليث - رحمه الله - وبه نأخذ إلا أن ينصب والقوم يرون من هو أصلح لذلك والله أعلم۔

4۔ العناية شرح الهداية (10/ 318) دار الفكر،بيروت:

وقوله (كنصب الإمام) يعني إذا لم يكن الباني موجودا، أما إذا كان فنصب الإمام إليه وهو مختار الإسكاف - رحمه الله -: قال أبو الليث - رحمه الله -: وبه نأخذ إلا أن ينصب شخصا والقوم يريدون من هو أصلح منه، ويجوز أن يكون المصنف - رحمه الله - اختار قول ابن سلام إن القوم أولى بنصب الإمام والمؤذن، والباني أولى بالعمارة.

5۔ الدر المختار وحاشية ابن عابدين (4/ 459) دار الفكر-بيروت:

لا يجوز الرجوع عن الوقف إذا كان مسجلا، ولكن يجوز الرجوع عن الموقوف عليه المشروط كالمؤذن والإمام والمعلم وإن كانوا أصلح اهـ جوهرة.

قال ابن عابدين: (قوله وإن كانوا أصلح) الذي رأيته في فتاوى مؤيد زاده إذا لم يكونوا أصلح أو في أمرهم تهاون فيجوز للواقف؟ الرجوع عن هذا الشرط اهـ وهكذا نقله عنها في شرحه على الملتقى. ثم قال بحذف في ثم نقل عن الخلاصة: لا يجوز الرجوع عن الوقف إذا كان مسجلا، ولكن يجوز الرجوع عن الموقوف عليه وتغييره وإن كان مشروطا كالمؤذن والإمام والمعلم إن لم يكونوا أصلح أو تهاونوا في أمرهم، فيجوز للواقف مخالفة الشرط اهـ.

قال ط: أقول وبالله تعالى التوفيق: إن ما ذكره من المؤذن والإمام إن لم يكونوا أصلح ليس من الرجوع، وإنما هو مخالفة للشرط لكونها أنفع للوقف بنصب غيرهم ممن يصلح، فهو كما إذا شرط أن لا ينزع من الولاية فخان فإنه ينزع ولا يعتبر هذا الشرط ويولى غيره، وكما إذا شرط أن لا يؤجر

أكثر من سنة ولا رغبة فيما عينه فإنه يخالف، وما كان ينبغي للشارح أن يفرد هذا بفرع مستقل لأنه يوهم أنه يجوز له الرجوع في جميع الشروط وليس كذلك اهـ۔

قلت:۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔قوله الباني أولى بنصب الإمام والمؤذن في المختار إلا إذا عين القوم أصلح ممن عينه، وبه ظهر الجواب عما نقله الشارح عن الأشباه من قوله ولم أر حكم عزله لمدرس وإمام ولا هما، وهو أنه جائز للمصلحة إذا كانا مشروطين في أصل الوقف فبدونه بالأولى، وقد ظهر أنه ليس المراد أنه يجوز للواقف الرجوع عن شروط الوقف كما فهمه الشارح، حتى تكلف في شرحه على الملتقى للجواب عما قدمه عن الدرر قبيل قول المصنف اتحد الواقف والجهة من أنه ليس له إعطاء الغلة لغير من عينه لخروج الوقف عن ملكه بالتسجيل. اهـ.

6۔الدر المختار وحاشية ابن عابدين (4/ 427) دار الفكر-بيروت:

وفيها للواقف عزل الناظر مطلقا، به يفتى، ولم أر حكم عزله لمدرس وإمام ولاهما۔

قال ابن عابدين:(قوله: ولم أر حكم عزله لمدرس وإمام ولا هما) أقول: وقع التصريح بذلك في حق الإمام والمؤذن ولا ريب أن المدرس كذلك بلا فرق. ففي لسان الحكام عن الخانية: إذا عرض للإمام والمؤذن عذر منعه من المباشرة ستة أشهر للمتولي أن يعزله ويولي غيره، وتقدم ما يدل على جواز عزله إذا مضى شهر بيري. أقول: إن هذا العزل لسبب مقتض والكلام عند عدمه ط. قلت: وسيذكر الشارح عن المؤيدة التصريح بالجواز لو غيره أصلح، ويأتي تمام الكلام عليه، وقدمنا عن البحر حكم عزل القاضي المدرس ونحوه، وهو أنه لا يجوز إلا بجنحة وعدم أهلية‘‘.فقط۔

7۔الدر المختار وحاشية ابن عابدين (4/ 382) دار الفكر-بيروت:

[مطلب لا يصح عزل صاحب وظيفة بلا جنحة أو عدم أهلية] [تنبيه] قال في   البحر واستفيد من عدم صحة عزل الناظر بلا جنحة عدمها لصاحب  وظيفة في وقف بغير جنحة وعدم أهلية۔

8۔الدر المختار وحاشية ابن عابدين (6/ 42) دار الفكر-بيروت:

قوله فالعبرة لعادتهم) أي لعادة أهل السوق، فإن كانوا يعملون بأجر يجب أجر المثل وإلا فلا. (قوله اعتبر عرف البلدة إلخ) فإن كان العرف يشهد للأستاذ يحكم بأجر مثل تعليم ذلك العمل، وإن شهد للمولى فأجر مثل الغلام على الأستاذ درر۔

محمدنعمان خالد

دارالافتاء جامعۃ الرشیدکراچی

06/ربیع الاول 1443ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

مفتی محمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب