021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
نکاح کے وقت لڑکے کی ولدیت غلط بیان کرنا
74640نکاح کا بیاننکاح کے منعقد ہونے اور نہ ہونے کی صورتیں

سوال

مسئلہ یہ ہے کہ ایک نکاح ہوا جس میں لڑکے کے شناختی کارڈ میں  ولدیت تبدیل  شدہ تھی اور نکاح کے وقت بھی اصل والد کے نام سے ایجاب وقبول نہیں کرایا گیا ۔ایسا لڑکے والوں نے جان بوجھ کر کیا۔ معلوم یہ کرنا تھا کہ اس طرح کیا نکاح ہو گیا یا نہیں ؟دوسری بات یہ کہ سارا معاملہ جھوٹ پر مبنی تھا ،تو اس بات سے نکاح پر کوئی فرق تو نہیں پڑتا ؟ برائے مہربانی قرآن وسنت کی روشنی میں واضح کریں۔

توضیح از طرفِ سائل:لڑکا خود عقد نکاح کے وقت موجود تھا۔

o

اگر عقد نکاح کے وقت لڑکا خود موجود ہو اور گواہ اسے جانتے  ہوں تو نکاح صحیح ہے، والد کا نام غلط لینے سے  نکاح پر کوئی اثر نہیں ہوگا، البتہ ولدیت کوغلط بیان کرنا اور لکھوانا دھوکااورجھوٹ ہے ،لہذا ایسا کرنا جائز نہیں  ،اس میں جھوٹ بولنے اور غیر کی طرف نسبت  کا سخت گناہ ہوگا۔

حوالہ جات

قال العلامۃ ابن عابدین رحمۃ اللہ علیہ: لو غلط في اسمها (قوله: إلا إذا كانت حاضرة إلخ) راجع إلى المسألتين: أي فإنها لو كانت مشارا إليها وغلط في اسم أبيها أو اسمها لا يضر لأن تعريف الإشارة الحسية أقوى من التسمية، لما في التسمية من الاشتراك لعارض فتلغو التسمية عندها، كما لو قال اقتديت بزيد هذا فإذا هو عمرو فإنه يصح. (ردالمحتار:3/26)
قال العلامہ الحصکفی رحمۃ اللہ علیہ: الكذب ‌مباح ‌لإحياء ‌حقه ‌ودفع ‌الظلم ‌عن ‌نفسه والمراد التعريض لأن عين الكذب حرام قال: وهو الحق قال تعالى - {قتل الخراصون}
وعلق علیہ ابن عابدین رحمۃ اللہ علیہ: «كل كذب مكتوب لا محالة إلا ثلاثة الرجل مع امرأته أو ولده والرجل يصلح بين اثنين والحرب فإن الحرب خدعة» ، قال الطحاوي وغيره هو محمول على المعاريض، لأن عين الكذب حرام. قلت: وهو الحق قال تعالى - {قتل الخراصون} [الذاريات: 10]- وقال - عليه الصلاة والسلام - «الكذب مع الفجور وهما في النار»(ردالمحتار:6/427)

محمد طلحہ شیخوپوری

دار الافتاء ،جامعۃ الرشید،کراچی

  22ربیع الثانی/1443ھ

n

مجیب

محمد طلحہ بن محمد اسلم شیخوپوری

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔