021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
منشیات کی تجارت کاحکم
74480جائز و ناجائزامور کا بیانخریدو فروخت اور کمائی کے متفرق مسائل

سوال

(۱)ایک بندہ چرس اورآئس کاکام کرتا ہے،اس کی آمدن جائز ہے یا نا جائز؟(۲)اوراس کےساتھ حلال کاروبار کرنا(دکان یا فیکٹری) لگانا کیسا ہے؟(۳)پارٹنرشپ کرناجائز ہےیاناجائز؟

o

(۱)چرس اور آئس نشہ آوراور مضر صحت ہونے کی وجہ سے حرام ہیں،لہذاگناہ میں تعاون ہونے کی وجہ سےان کی تجارت سے اجتناب لازم ہے،(فتاوی حقانیہ:ج۶،ص ۴۵)چونکہ ان چیزوں کا کوئی جائز استعمال موجود نہیں، اس لیے ان کی آمدن مکروہ اور ناجائز ہے۔

(۲)نشہ آور اشیاءکےکاروبارمیں شریک ہوناجائز نہیں،حلال کاروبار بہر حال جائز ہے،خواہ نشہ آور اشیاء کے کاروبار کے ساتھ ہو یا کہ نہیں۔

(۳)جائز کاروبار کی حد تک پارٹنر شپ بھی جائز ہے۔

حوالہ جات

۔۔۔۔۔

نواب الدین

دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

۱۱ربیع الثانی۱۴۴۳ھ

n

مجیب

نواب الدین صاحب

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔