03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
کیا والد کے ذمے بچوں کے اسکول کے تعلیمی اخراجات لازم ہے؟
74532علم کا بیانعلم کے متفرق مسائل کابیان

سوال

پہلے زمانے میں اپنے بچوں کو تعلیم دینے کا یہ سسٹم نہیں تھا جو آج کل رائج ہے،مثلا پرائیویٹ اسکول میں داخلہ فیس،ماہانہ فیس،اسکول کی وین فیس،اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ آیا والد کے ذمے بچوں کے یہ سارے اخراجات برداشت کرنا لازم ہے یا نہیں؟

بندہ کو اس بارے میں کتب فقہ میں کوئی صریح جزئیہ نہیں ملا،براہِ کرم اس بارے میں راہنمائی فرمائیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

بنیادی طور پر والد کے ذمے بچے کے نان نفقہ کے طور پر کھانے،پینے،پہننے اور رہائش کے اخراجات لازم ہوتے ہیں،ان کے علاوہ اولاد کی اچھی تربیت کی کوشش کرنا والد کے ذمے اخلاقا لازم ہے، جس میں اولاد کی تعلیم کا انتظام بھی شامل ہے،لیکن اس کی کوئی متعین حد مقرر نہیں،بلکہ اس کا تعلق والدین کی استطاعت سے ہوگا،جس طرح نان نفقہ کے معیار کا مدار والدین کی مالداری اور فقر پر رکھا گیا۔

لہذا والد کے ذمے اپنی مالی حیثیت اور استطاعت کے مطابق بلوغت تک اپنے بچوں کے تعلیمی اخراجات برداشت کرنا اخلاقی طور پر لازم ہے،چنانچہ اگر کوئی والد مالی استطاعت نہ ہونے کی وجہ سے بچوں کے پرائیویٹ اسکولوں کے تعلیمی اخراجات نہ برداشت کرسکتا ہو تو اس کے ذمے یہ اخراجات برداشت کرنا لازم نہیں ہوں گے،جبکہ استطاعت ہونے کی صورت میں والد کو یہ اخراجات اخلاقی طور پر برداشت کرنے چاہیے،لیکن اگر والد یہ اخراجات برداشت کرنے پر آمادہ نہ ہو تو شرعا اسے ان اخراجات کو برداشت کرنے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا۔

حوالہ جات

"صفوة التفاسير "(3/ 378):

"{لِيُنفِقْ ذُو سَعَةٍ مِّن سَعَتِهِ} هذا بيانٌ لقدر الإِنفاق والمعنى: لينفقْ الزوج على زوجته وعلى ولده الصغير، على قدر وسعة وطاقته، قال في التسهيل: وهو أمرٌ بأن ينفق كل واحد على مقدار حاله، فلا يكلف الزوج ما لا يطيق، ولا تُضيَّع الزوجة بل يكون الحال معتدلاً، وفي الآية دليلٌ على أن النفقة تختلف باختلاف أحوال الناس يسراً وعسراً {وَمَن قُدِرَ عَلَيْهِ رِزْقُهُ} أي ومن ضُيّق عليه رزقه فكان دون الكفاية {فَلْيُنفِقْ مِمَّآ آتَاهُ الله} أي فلينفق على مقدار طاقته، وعلى قدر ما آتاه الله من المال {لاَ يُكَلِّفُ الله نَفْساً إِلاَّ مَآ آتَاهَا} أي لا يكلف الله أحداً إِلا قدر طاقته واستطاعته، فلا يكلف الفقير مثل ما يكلف الغني قال أبو السعود: وفيه تطييبٌ لقلب المعسر، وترغيبٌ له في بذل مجهوده، وقد أكد ذلك الوعد بقوله {سَيَجْعَلُ الله بَعْدَ عُسْرٍ يُسْراً} أي سيجعل الله بعد الضيق الغنى، وبعد الشدة السعة والرخاء، وفيه بشارة للفقراء بفتح أبواب الرزق عليهم".

"الدر المختار " (3/ 571):

باب النفقة:هي لغة: ما ينفقه الإنسان على عياله وشرعا: (هي الطعام والكسوة والسكنى) وعرفا هي: الطعام

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (4/ 38)

وأما بيان مقدار الواجب من هذه النفقة فنفقة الأقارب مقدرة بالكفاية بلا خلاف؛ لأنها تجب للحاجة فتتقدر بقدر الحاجة وكل من وجبت عليه نفقة غيره يجب عليه له المأكل والمشرب والملبس والسكنى والرضاع إن كان رضيعا؛ لأن وجوبها للكفاية والكفاية تتعلق بهذه الأشياء فإن كان للمنفق عليه خادم يحتاج إلى خدمته تفرض له أيضا؛ لأن ذلك من جملة الكفاية.

محمد طارق

دارالافتاءجامعۃالرشید

11/ربیع الاول1443ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد طارق غرفی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب