021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بھائیوں کابہنوں کومیراث سے محروم کرنے کا حکم
74520تقسیم جائیداد کے مسائلمتفرّق مسائل

سوال

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ والد صاحب کے انتقال کے بعد بھائیوں نے بہنوں سے جائداد کے حصے میں انگوٹھے  لگوا لیے،بہنوں نے اس خوف کی وجہ سے انگوٹھے لگوائے کہ بھائی ہمارے اوپر اپنے گھروں  کے دراوازے بند نہ کریں اور رشتہ داری ختم نہ کریں۔

بھائیوں نے کچھ کچھ حصہ :جیسا کہ کسی بہن کو بچھڑا دے دیا،کسی کو گائے دے دی یا یہ کہا کہ آپ کی شادی میں جہیز کا سامان ہم نے کیا ہے ۔

جبکہ یہ جائداد کی مالیت کے مطابق جائداد کاعشر عشیر بھی نہیں۔

بہنوں نے انگوٹھے تولگا دیےہیں ،لیکن ان مین سے ایک بہن کا ابھی بھی یہ کہنا ہے کہ مجھے بھائیوں نے حصہ نہیں دیا ہے۔

o

واضح رہے کہ والدین  کے ترکہ میں جس طرح نرینہ اولاد کاحصہ ہوتا ہے اسی طرح  بیٹیوں کابھی شرعی حصہ ہوتا ہے،والدین کے  انتقال کے بعد بھائیوں کا  تنہاقبضہ  کرلینا اور بہنوں کوان کے شرعی حصہ سے حیلہ وجبر کر کےمحروم کرنا سخت گناہ ہے۔

کیونکہ اللہ تعالی نے واضح طور پر اپنے کلام پاک میں میراث کے احکام کو بیان فرمایا ہے۔ان پر عمل کرنے  کے لیےبشارت اور ابدی سعادت اور ان احکام پرعمل نہ کرنے والوں کے لیےعذاب کو بھی بیان فرمایا ہے۔

چنانچہ سورہ نساء میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے:یہ اللہ کی مقرر کی ہوئی حدودہیں، جوشخص اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا،وہ اس کو ایسے باغات میں داخل کرے گا،جن کےنیچے نہریں   بہتی ہوں گی،ایسے لوگ ہمیشہ ان(باغات) میں  رہیں گے،اور یہ زبردست کامیابی ہے۔اور جوشخص اللہ تعالی  اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا اور اس  کی مقرر کی ہوئی حدود سے تجاوزکرے گا اسے اللہ تعالی دوزخ میں داخل کرے گا ،جس میں وہ ہمیشہ رہے گا اور اس کو ایسا عذاب ہوگا جو ذلیل کرکے رکھ دے گا۔

 احادیث طیبہ میں بھی دوسرے کا مال ناحق استعمال کرنے پر سخت وعیدیں آئی ہیں،ذیل میں چید احادیث طیبہ ملاحظہ ہوں:

حوالہ جات

فقال اللہ تعالی: { یوصیکم اللہ  فی أولادکم للذکر مثل حظ الأنثیین } ۔۔۔۔۔۔(سورۃ النساء:آیت نمبر11)
وعن أنس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من ‌قطع ‌ميراث ‌وارثه ‌قطع ‌الله ‌ميراثه ‌من ‌الجنة يوم القيامة.(ابن ماجۃ:2/926،رقم حدیث  3078)
(قال - رحمه الله -) اعلم أن الابن الواحد يحرز جميع المال ثبت ذلك بإشارة النص فإن الله تعالى قال {للذكر مثل حظ الأنثيين} [النساء: 11]، ثم جعل للبنت الواحدة النصف بقوله تعالى {وإن  كانت واحدة فلها النصف} [النساء: 11] وثبت أن للذكر ضعف هذا وضعف النصف الجميع. وثبت ذلك استدلالا بآية الإخوة فإن الله تعالى قال {وهو يرثها إن لم يكن لها ولد} [النساء: 176] أي يرثها جميع المال.(المبسوط للسرخسی:29/146)
فقال اللہ تعالی: { یوصیکم اللہ  فی أولادکم للذکر مثل حظ الأنثیین } ۔۔۔۔الآیات وقال تعالی: {  لاتدرون أیہم أقرب لکم نفعا }  فنبہ سبحانہ   بافتتاح الآیات بلفظ الوصیۃ علی وجوب استئصال ما کانوا علیہ واجتثات بدون من اصل، وجعل للصغار مع الکبار نصیبا، وکذا للإناث مع الذکور ولا غرو إن کان ھذا الحکم مما تحار العقول فی حسن  ماانطوی علیہ من الحکم المبالغۃ فسوی بین الصغیر والکبیر، لأن الصغیر إلی المال والإعانۃ أحوج، ونظر إلی الإناث لضعفھن ترغیبا فی نکاحھن.(ردالمحتار:10/490)

سہیل جیلانی

دارالافتاء، جامعۃ الرشید، کراچی

12/ربیع الثانی/1443ھ

n

مجیب

سہیل جیلانی بن غلام جیلانی

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔