021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
تحریرا تین طلاق دینے کے بعد اکٹھے رہنے کا حکم
74505طلاق کے احکامتین طلاق اور اس کے احکام

سوال

محمد سلیم نے شبانہ سے اپریل 2014 میں شادی کی۔ چونکہ شبانہ نفسیاتی مریض ہے، اس وجہ سے سلیم نے 2020 میں اس کو واپس والدہ کے گھر چھوڑ دیا۔ اس کے چھ مہینے کے بعد (محمد سلیم نے) دوسری شادی کی۔ دوسرے نکاح کے وقت قاضی نے پہلی شادی کا پوچھا تو اس نے کہا کہ میں نے طلاق دیدی ہے۔ قاضی نے پیپر مانگے تو سلیم نے لف شدہ طلاق نامہ بنواکر قاضی کو دیا۔ کچھ عرصہ بعد دوسری بیوی بھی سلیم کو چھوڑ کے چلی گئی تو سلیم اس کے جانے کے بعد تھانہ اور کورٹ کے ذریعے شبانہ کو واپس لے گیا۔ کورٹ اور تھانے والوں کو اس نے طلاق نامہ کے یہ پیپر نہیں دکھائے۔ اب شبانہ اس کے ساتھ رہ رہی ہے۔ لہٰذا شریعت کی روشنی میں راہنمائی فرمائیں کہ ان دونوں کا ساتھ رہنا درست ہے یا نہیں؟

o

اگر سوال میں ذکر کردہ تفصیل اور منسلکہ طلاق نامہ درست ہے تو اس کے مطابق محمد سلیم نے 14 ستمبر 2020 کو اپنی بیوی شبانہ کو تین صریح طلاقیں دی ہیں۔ تین طلاقیں ایک ساتھ دینا سخت حرام اور ناجائز ہے، تاہم اگر کوئی شخص ایسا کرے تو تینوں طلاقیں واقع ہوجاتی ہیں۔

لہٰذا صورتِ مسئولہ میں تین طلاقیں دینے کی وجہ سے محمد سلیم اور شبانہ کا نکاح ختم ہوگیا تھا اور ان دونوں کے درمیان حرمتِ مغلظہ ثابت ہوچکی تھی جس کے بعد رجوع یا دوبارہ نکاح جائز نہیں ہوتا۔ اس کے بعد اب محمد سلیم کا شبانہ کو واپس گھر لانا اور ان دونوں کا آپس میں اکٹھے رہنا سخت ناجائز اور حرام ہے، ان دونوں پر لازم ہے کہ فورا ایک دوسرے سے الگ ہوجائیں۔ اب تک جو اکٹھے رہے ہیں، اس کی وجہ سے یہ دونوں سخت گناہ گار ہوئے ہیں، ان پر لازم ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حضور گڑگڑا کر توبہ و استغفار کریں اور آئندہ ایسے سنگین گناہ کا ارتکاب نہ کرنے کا پکا عزم کرلیں۔  

14 ستمبر 2020 کے بعد سے اگر شبانہ کو تین ماہواریاں آئی ہیں تو اس کی عدت مکمل ہوگئی ہے، وہ کسی بھی دوسری جگہ نکاح کرسکتی ہے۔

 

حوالہ جات

الفتاوى الهندية (1/ 349):
أما البدعي فنوعان: بدعي لمعنى يعود إلى العدد، وبدعي لمعنى يعود إلى الوقت، فالذي يعود إلى العدد أن يطلقها ثلاثا في طهر واحد أو بكلمات متفرقة أو يجمع بين التطليقتين في طهر واحد بكلمة واحدة أو بكلمتين متفرقتين فإذا فعل ذلك وقع الطلاق وكان عاصيا، والبدعي من حيث الوقت أن يطلق المدخول بها وهي من ذوات الأقراء في حالة الحيض أو في طهر جامعها فيه وكان الطلاق واقعا.

عبداللہ ولی غفر اللہ لہٗ

  دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

 12/ربیع الثانی/1443ھ

n

مجیب

عبداللہ ولی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔