021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
استاذکامدرسہ کےاصول وضوابط کی خلاف ورزی کرنا
74509جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

کیافرماتےہیں فقہاء کرام ومفتیان عظام درج ذیل مسئلہ کےبارےمیں کہ

۱۔ایک دینی ادارےمیں اساتذہ کرام ودیگرعملےکوکسی کام سےروکاجائےاوران سےتحریری طورپردستخط لیےجائیں مثلا پڑھائی کےاوقات میں موبائل فون کااستعمال کرناوغیرہ

۲۔ادارےکےکسی استادکاباہرسےکسی شاگردکوادارےکےعلم میں لائےبغیربطورمعاون اپنے ساتھ رکھناکیساہے؟ادارےکومعلوم ہواتوادارےوالوں نے اس شاگردکوخاموشی سےگھربھیج دیا اورادارےکےاستاذکےاحترام اورعزت کی وجہ سےدرگزرکیا،لیکن استادحاکمانہ اندازمیں ادارےسےسوال کرتاہےکہ جب میں نےاس شاگردکواپنی کلاس میں رکھاہےتوآپ نےا س کیوں نکالا؟کسی استاد کی طرف سےاس طرح کےالفاظ کہناشرعاکیساہے؟

۳۔اساتذہ کاطلباء سےاپنی گاڑیاں صاف کرواناکیساہے؟جبکہ ادارےوالےاس سےمنع بھی کرتےہیں،جب ادارےکی طرف سےمنع کیاجائےتوکہتےہیں کہ ان کےوالدین اگراعتراض کریں گےتوہم خودجواب دیں گے۔

۴۔طلباء کےوالدین سےبدتمیزی اورغصہ میں بات کرنا؟جس کی وجہ سےوالدین پرادارےکےبارےمیں غلط تاثرات پیداہوتےہیں۔

۵۔خودکوادارےکےقوانین سےآزادسمجھنا؟اگروالدین بذات خوداستادسےبچےکی چھٹی طلب کریں توچھٹی دینا،اورجب دفترکی طرف سےکسی کورخصت دیدی جائےتوبچےکی پٹائی کرناکیساہے؟

۶۔اگرکبھی ادارےوالےاستادسےکسی معاملہ پرسوال کریں توجواب دینےکی بجائےیہ کہناکہ میں چھوڑکرجارہاہوں،برائےکرم ان مسائل کےشرعاتسلی  بخش جوابات اورحل کی طرف راہنمائی فرمادیں۔

 

o

مذکورہ بالاسوالات کااصولی جواب یہ ہےکہ ادارےکی طرف سےطےشدہ اصول وضوابط جوخلاف شرع نہ ہوں،ادارےکےتمام ملازمین، اساتذہ اوردیگرعملہ کاان اصول وضوابط پرعمل کرناشرعابھی لازم ہے،اس کی خلاف ورزی کرناجائزنہیں،کسی ادارےمیں رہتےہوئےاس کےقوانین کی مستقل خلاف ورزی کرتےرہناشرعاجائزنہیں،اس سےادارےکانظم بھی خراب ہوتاہے،اوراس پرگناہ بھی ہوگا۔ہاں کبھی کبھارخلاف ورزی ہوجائےتوادارےکی طرف سےبھی کسی حدتک مناسب رویہ رکھاجائےاورنرمی اختیارکی جائے۔

اس اصولی جواب کےتناظرمیں کسی ادارےکی طرف سےانتظامی طورپراصول وضوابط پرعمل کروانےکےلیےتحریری طورپردستخظ لینےکاحکم یہ ہےکہ یہ شرعاجائزہے،اورمعاملات کی صفائی اورمستقبل میں ممکنہ تنازعات سےبچنےکےلیے ضروری بھی  ہے۔

موجودہ صورت میں کسی استاذ کاکسی شاگردکواپنےطورپررکھنا،طلباء سےگاڑی صاف کروانا،طلبہ کےوالدین سےبدتمیزی سےبات کرنا،جبکہ ادارےکی طرف سےان سب چیزوں کی اجازت نہ ہو،ایک محترم اورمعززاستاذکااپنےادارےکےساتھ یہ رویہ رکھناکسی صورت جائزنہیں،مذکورہ بالااموراگربہت ہی ضروری ہوں اوراستاذکرناہی چاہتاہےتوادارےکےذمہ دارحضرات کواعتمادمیں لےکرکیاجائےتوادارےکانظم خراب نہیں ہوگا۔

ادارےکی انتظامیہ کوبھی چاہیےکہ اگرکوئی استاذاس طرح کرتاہےاورمذکورہ بالاامورمیں استاذکےساتھ خیرخواہی،تعاون اوررعایت کی گنجائش ہوتوادارےکےنظم کوبرقراررکھتےہوئےاس کی اجازت دیدی جائے،اس سےاستاذبھی خوش ہوجائےگااورنظم بھی بہترطریقےسےچلتارہےگا۔

حوالہ جات

قال اللہ تعالی فی  سورۃ المائدہ :آیت 01: یاایہاالذین آمنواوفوبالعقود۔
وقال اللہ تعالی فی سورۃ  بنی اسرائیل: آیت نمبر 34 :واوفوبالعہدان العہدکان مسئولا۔
"تفسير ابن كثير " 5 /  74:وقوله [تعالى] (3) : { وأوفوا بالعهد } أي الذي تعاهدون عليه الناس والعقود التي تعاملونهم بها، فإن العهد والعقد كل منهما يسأل صاحبه عنه { إن العهد كان مسئولا } أي: عنه۔
"تفسير الألوسي"10 /  448:وأوفوا بالعهد } ما عاهدم الله تعالى عليه من التزام تكاليفه وما عاهدتم عليه غيركم من العباذ ويدخل في ذلك العقود .وجوز أن يكون المراد ما عاهدكم الله تعالى عليك وكلفكم به ، والإيفاء بالعهد والوفاء به هو القيام بمقتضاه والمحافظة عليه وعدم نقضه ۔۔۔
"صحیح البخاری" 1/303:قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم: المسلمون عندشروطہم ۔
نوٹ: مذکورہ جواب مدرسہ کی انتظامیہ اورادارےکی طرف  سےاستفتاء کےجواب کےطورپردیاگیاہے،اگرمتعلقہ استاذکی طرف سےمذکورہ بالاصورت حال کےخلاف بیان ہوتودوبارہ کسی قریبی دارالافتاء سےفریقین مسئلہ حل کروالیں۔
اس طرح کےمسائل میں بہتریہ ہےکہ انتظامیہ اورمتعلقہ استاذمل بیٹھ کرمشاورت  اورمصالحت کرکےاس معاملہ کوحل فرمائیں۔

محمدبن عبدالرحیم

دارالافتاءجامعۃالرشیدکراچی

13/ربیع الثانی  1443 ھج

n

مجیب

محمّد بن حضرت استاذ صاحب

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔