021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
شوہر کا اپنی مرحوم اہلیہ کا گھر بچوں میں تقسیم کرنا اور خود حصہ نہ لینا
74546میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

میرے والد نے میری والدہ کو مہر میں ایک گھر دیا تھا اور اب ان کا انتقال ہوگیا ہے۔ ہم دو بھائی اور دو بہنیں تھیں۔ حال ہی میں ایک (غیر شادی شدہ) بہن کا انتقال ہوگیا ہے۔ اب والد صاحب وہ گھر ہم تین افراد میں تقسیم کرنا چاہتے ہیں، وہ اپنا حصہ نہیں لینا چاہتے۔ کیا ایسا کرنا ممکن ہے؟ شریعت کے مطابق اس گھر کی تقسیم کیسے ہوگی؟ ہماری والدہ کے والدین، دادا، دادی اور نانی کا انتقال ان کی زندگی میں ہوچکا تھا۔  

o

آپ کی والدہ مرحومہ نے انتقال کے وقت اپنی ملکیت میں اس گھرسمیت نقدی، سونا، چاندی، جائیداد، مکانات، کاروبار غرض جو کچھ چھوٹا، بڑا ساز و سامان چھوڑا ہے، یا اگر کسی کے ذمہ ان کا قرض تھا، تو وہ سب اس کا ترکہ ہے۔ اس میں سے سب سے پہلے ان کی تجہیز و تکفین کے اخراجات نکالے جائیں، البتہ اگر یہ اخراجات کسی نے بطورِ احسان اٹھائے ہوں تو پھر انہیں ترکہ سے نہیں نکالا جائے گا۔ اس کے بعد دیکھا جائے اگر ان کے ذمے کسی کا قرض ہو تو وہ ادا کیا جائے گا۔ اس کے بعد اگر انہوں نے کسی غیر وارث کے حق میں کوئی جائز وصیت کی ہو تو ایک تہائی ترکہ کی حد تک اس کو پورا کیا جائے گا۔ اس کے بعد جو کچھ بچے، وہ ان کے ورثا میں تقسیم ہوگا، جس کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ بقیہ ماندہ ترکہ کے کل آٹھ (8) حصے بنا کر مرحومہ کے شوہر کو چوتھائی یعنی دو (2) حصے، دو بیٹوں میں سے ہر ایک کو دو، دو (2، 2) حصے، اور دو بیٹیوں میں سے ہر ایک کو ایک، ایک (1، 1) حصہ دیا جائے۔

پھر والدہ کے بعد آپ کی جس غیر شادی شدہ بہن کا انتقال ہوا ہے، اس کو والدہ سے ملنے والے  ایک (1) حصے کا وارث صرف آپ کے والد صاحب ہیں، والد صاحب کی موجودگی میں مرحومہ بہن کے حصے میں آپ دونوں بھائیوں اور زندہ بہن کا حقِ میراث نہیں ہے۔

خلاصہ یہ ہے کہ اب آپ کی والدہ کے ترکہ میں تین (3) حصے آپ کے والد صاحب کے ہیں۔ دو، دو (2، 2) حصے دو بھائیوں میں سے ہر ایک کے ہیں۔ اور ایک (1) حصہ زندہ بہن کا ہے۔  

یہ آپ کی والدہ مرحومہ اور پھر آپ کی ہمشیرہ مرحومہ کے ترکہ کی شرعی تقسیم تھی۔ اگر آپ کے والد صاحب، مذکورہ  گھر میں سے اپنے تین (3) حصے خود لینے کے بجائے اپنی دلی رضامندی سے اپنی اولاد کو دینا چاہتے ہیں تو اس کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ دو بیٹوں اور ایک بیٹی میں سے ہر ایک کو ایک، ایک حصہ دیدے۔ لیکن اگر وہ اپنے تین حصے بھی میراث کے قاعدہ کے مطابق تقسیم کرنا چاہیں یعنی بیٹے کو بیٹی کا دوگنا دینا چاہے تو اس کی بھی گنجائش ہے، اس صورت میں پورا گھر پانچ (5) حصوں میں تقسیم کر کے دو، دو (2، 2) حصے ہر ایک بیٹے کو اور ایک حصہ (1) بیٹی کو دیدیں۔

والد صاحب کا اس طرح اپنا حصہ بچوں کو دینا شرعا ہبہ (گفٹ) کہلاتا ہے۔ لہٰذا اگر یہ گھر قابلِ تقسیم ہو (یعنی تقسیم کے بعد بھی ہر شخص کا حصہ رہائش کے قابل ہو) تو پھر ہبہ مکمل ہونے کے لیے قبضہ ضروری ہے، جب تک والد صاحب اپنے حصے کی عملی تقسیم کر کے ہر ایک بیٹے اور بیٹی کو اس کا حصہ نہیں دے گا، یہ ہبہ مکمل نہیں ہوگا۔

اگر والد صاحب "ہبہ" کے بجائے دونوں بیٹوں اور ایک بیٹی سے کچھ نہ کچھ مالیت (اگرچہ معمولی  ہو، مثلا ہزار، ہزار روپیہ) لے کر اس کے بدلے میں اپنا حصہ ان کے لیے چھوڑنا (تخارج کرنا) چاہے  تو یہ بھی جائز ہے۔ "تخارج" میں والد صاحب کا اپنا حصہ عملا تقسیم کرنا اور ہر ایک کو اس کے حصے پر قبضہ دینا ضروری نہیں۔ اس صورت میں اگر والد صاحب سب سے ایک جتنی مالیت لیتے ہیں تو والد صاحب کا حصہ سب میں برابر، برابر تقسیم ہوگا۔  

اگر والد صاحب مذکورہ بالا تفصیل کے مطابق "ہبہ" اور "تخارج" میں سے کوئی صورت اختیار نہ کرے، بلکہ صرف یہ کہے کہ میں نے اپنا حصہ چھوڑ دیا ہے تو اس سے ان کا حصہ ختم نہیں ہوگا۔

حوالہ جات

القرآن الکریم:
{ يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ} [النساء: 11].
السراجی فی المیراث، ص5:
قال علماؤنا رحمهم الله تعالی:   تتعلق بتركة الميت حقوق أربعة مرتبة: الأول يبدأ بتكفينه وتجهيزه من غیر تبذیر ولاتقتیر، ثم تقضی دیونه  من جمیع ما بقی من ماله،  ثم تنفذ وصایاه من ثلث ما بقی بعد الدین، ثم یقسم الباقی بین ورثته بالکتاب والسنة وإجماع الأمة.
السراجی فی المیراث، ص:28:
و بنو الأعیان و العلات کلهم یسقطون بالابن و ابن الابن و إن سفل، و بالأب بالاتفاق.
الهداية (3/ 200):
 فصل في التخارج: قال وإذا كانت الشركة بين ورثة فأخرجوا أحدهم منها بمال أعطوه إياه والتركة عقار أو عروض جاز قليلا كان ما أعطوه إياه أو كثيرا؛ لأنه أمكن تصحيحه بيعا. وفيه أثر عثمان رضي الله عنه، فإنه صالح تماضر الأشجعية امرأة عبدالرحمن بن عوف رضي الله عنه عن ربع ثمنها على ثمانين ألف دينار.
الدر المختار (5/ 644):
( ولو أخرجوا واحدا ) من الورثة ( فحصته تقسم بين الباقي على السواء إن كان ما أعطوه من مالهم غير الميراث وإن كان ) المعطى ( مما ورثوه فعلى قدر ميراثهم ) يقسم بينهم.
رد المحتار (5/ 644):
قوله ( على السواء ) أفاد أن أحد الورثة إذا صالح البعض دون الباقي يصح وتكون حصته له فقط………….  قوله ( من مالهم ) أي وقد استووا فيه، ولا يظهر عند التفاوت ط.
الأشباه والنظائر (ص: 350):
لو قال الوارث : تركت حقي لم يبطل حقه؛ إذ الملك لا يبطل بالترك، و الحق يبطل به، حتى لو أن أحدًا من الغانمين قال قبل القسمة : تركت حقي بطل حقه، و كذا لو قال المرتهن : تركت حقي في حبس الرهن بطل ، كذا في جامع الفصولين و فصول العمادي.

عبداللہ ولی غفر اللہ لہٗ

  دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

14/ربیع الثانی /1443ھ

n

مجیب

عبداللہ ولی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔