021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
چاربیٹے،تین بیٹیوں میں تقسیم میراث
75084میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

سوال:السلام علیکم!جناب میرانام سیدمحمدجنیدہے،میرےناناسیدشمیم احمدمرحوم کاانتقال18-04-2007کوہواتھا،اس وقت میرےنانا سیدشمیم احمدمرحوم کی جائیداداپنے چاربیٹوں اورتین بیٹیوں میں شرعی طورپر تقسیم کرناچاہتی ہیں،میری آپ سےمؤدبانہ گزارش ہےکہ اسلامی بنیادپرجائیدادکی تقسیم کاطریقہ کاراور حصےتحریری بیان فرمادیں۔

ورثہ کی تفصیل درج ذیل ہے:

۱۔ترافعہ بانو زوجہ سیدشمیم احمد       (والدہ)

۲۔سیدنوشادزاہدی                    (بیٹا)

۳۔سیدشاہنواززاہدی                 (بیٹا)

۴۔نسرین حیدر            (بیٹی)بیوہ

۵۔تبسم بانو                             (بیٹی )بیوہ

۶۔سیدشہزادحسین                    (بیٹا)

۷۔رضوانہ ناہید                       (بیٹی)غیرشادی شدہ

۸۔سیدمشتاق زاہدی                   (بیٹا)

جائیدادکی تفصیلات :

۱۔مکان (80گز)                      قیمت (38 لاکھ کم وبیش)

۲۔پلاٹ(120گز)                  قیمت (70 لاکھ کم وبیش )

۳۔پلاٹ (400گز)                  قیمت (25 کم وبیش )

درج بالاجائیدادکی فردافرداتقسیم کااسلامی طریقہ کاروضع فرمادیں کہ والدہ،بیٹےاوربیٹیوں کاشرعی طورپرکتناحصہ ہوگا؟اورکتنی رقم ہوگی؟

 

o

صورت مسئولہ میں میراث کی تقسیم کاطریقہ یہ ہوگاکہ مرحوم کی جتنی جائیدادہے،اس کوبیچاجائے،جتنی رقم ہو،اس کومیراث میں تقسیم کیاجائے،اوراگربیچنے پرتمام ورثہ راضی نہ ہوں توپھرموجودہ جگہ کی بازاری قیمت لگوائی جائے(جیساکہ استفتاءمیں قیمت لگائی جاچکی ہے)،اوراس کےاعتبارسےمیراث کےحصےطےکردیےجائیں۔(تفصیل آگےمذکور ہے)

ورثہ میں تقسیم کاطریقہ یہ ہوگاکہ  والدہ(بیوہ)کوکل جائیدادکاآٹھواں حصہ( 12.5 فیصد)ملےگا،باقی 87.5فیصدجائیدادبیٹےبیٹیوں میں اس طرح تقسیم ہوگی کہ ہربیٹےکوبیٹی کےمقابلےمیں دوگناحصہ ملےگایعنی  ہربیٹی کو 7.954545فیصداورہربیٹےکو15.90909فیصدحصہ ملےگا۔

استفتاءمیں مذکورجائیدادکی موجودہ  قیمت کامجموعہ  ( 13300000)ورثہ میں اسی اعتبارسے تقسیم کیاجائےگا۔

والدہ کو                       1662500روپےملیں گے۔

ہربیٹی کو                    1057955 روپےملیں گے۔

اورہربیٹےکو                 2115910روپےملیں گے۔

مذکورہ بالاحصوں کےمطابق موجودہ جائیدادکودیکھاجائےگا،موجودہ جائیداداگربعض ورثہ کےپاس  پہلےسےموجودہےتوجس وارث کےپاس جوجائیدادموجودہے،اس کی قیمت اوراس کےمیراث کےحصےکودیکھاجائےگا،اگرمیراث کاحصہ اورمکان یاپلاٹ(جواس کےپاس پہلےسےموجود ہے)کی قیمت برابرہےاورباقی ورثہ بھی راضی ہوں تووہ وارث اسی مکان یاپلاٹ کامالک بن سکتاہے۔

اوراگروارث کاحصہ زیادہ بنتاہے،مکان یاپلاٹ کی  قیمت کم ہےتووہ باقی ورثہ سےاپنےحصےکےبقدرپیسےوصول کرسکتاہے۔

اوراگراس کاحصہ بنتاکم ہے،لیکن مکان یاپلاٹ کی قیمت زیادہ ہےتواس پرلازم ہوگاکہ جتنی اضافی قیمت بنتی ہےوہ باقی ورثہ کوان کےحصوں کےمطابق دے۔

حوالہ جات

قال اللہ تعالی فی "سورۃ النساء" آیت 11:یوصیکم اللہ فی اولادکم للذکرمثل حظ الانثیین۔
"تفسير ابن كثير" 2 /   225 : فقوله (6) تعالى: { يوصيكم الله في أولادكم للذكر مثل حظ الأنثيين } أي: يأمركم بالعدل فيهم، فإن أهل الجاهلية كانوا يجعلون جميع الميراث للذكور دون الإناث، فأمر الله تعالى بالتسوية بينهم في أصل الميراث، وفاوت بين الصنفين، فجعل للذكر مثل حظ الأنثيين؛ وذلك لاحتياج الرجل إلى مؤنة النفقة والكلفة ومعاناة التجارة والتكسب وتجشم المشقة، فناسب أن يعطى ضعفي ما تأخذه الأنثى۔

محمدبن عبدالرحیم

دارالافتاءجامعۃالرشیدکراچی

22/جمادی الاولی   1443 ھج

n

مجیب

محمّد بن حضرت استاذ صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔