021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
اجتماعی قرآن خوانی اور برسی کا حکم
74690جنازے کےمسائلایصال ثواب کے احکام

سوال

کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کسی گاوں میں قرآن خانی  کا رواج ہو ، اور بہت سے لوگوں کو جمع کر کے قرآن خانی کرواتے ہیں،اوربعض لوگوں کا یہ نظریہ ہوتا ہے کہ سال میں ایک مرتبہ وہ ضرور دعوت کا اہتمام کرتےہیں، ختم اور قرآن خانی ضرور کراتے ہیں۔

برائے کرم مکمل راہنمائی فرمائیں۔

تنقیح:دعوت کا اہتمام  اور قرآن خانی اپنے مردوں   کے ایصال ثواب کے لیے ہوتا ہے،اور سال میں  ایک دفعہ دعوت  وقرآن خانی کا اہتمام بطور برکت کے کراتے ہیں۔

o

میت کے لیے ایصال ثواب  تومستحب ہے۔اس کے لیے میت کے گھر جانا لازمی نہیں، اپنے گھر پر بھی کر سکتے ہیں،نہ اس کے لیے کسی وقت کی قید ہے۔ بلکہ ہر وقت ایصال ثواب کیا جا سکتاہے۔اس طرح کااجتماع منعقد کرنابدعت ہے جوکہ واجب الترک ہے۔لیکن  برکت کےلیے دعوت طعام اور قرآن خوانی جائز ہے۔

حوالہ جات

الأصل أن كل طاعة يختص بها المسلم لا يجوز الاستئجار عليها عندنا لقوله عليه الصلاة والسلام اقرءوا القرآن ولا تأكلوا به وفي آخر ما عهد رسول الله - صلى الله عليه وسلم  إلى عمرو بن العاص «وإن اتخذت مؤذنا فلا تأخذ على الأذان أجرا» ولأن القربة متى حصلت وقعت على العامل ولهذا تتعين أهليته، فلا يجوز له أخذ الأجرة من غيره كما في الصوم والصلاة هداية.
مطلب تحرير مهم في عدم جواز الاستئجار على التلاوة والتهليل ونحوه مما لا ضرورة إليهفالحاصل أن ما شاع في زماننا من قراءة الأجزاء بالأجرة لا يجوز؛ لأن فيه الأمر بالقراءة وإعطاء الثواب للآمر والقراءة لأجل المال؛ فإذا لم يكن للقارئ ثواب لعدم النية الصحيحة فأين يصل الثواب إلى المستأجر ولولا الأجرة ما قرأ أحد لأحد في هذا الزمان بل جعلوا القرآن العظيم مكسبا ووسيلة إلى جمع الدنيا ،إنا لله وإنا إليه راجعون.  )ردالمحتار:976)
ونقل العلامة الخلوتي في حاشية المنتهى الحنبلي عن شيخ الإسلام تقي الدين ما نصه: ولا يصح الاستئجار على القراءة وإهدائها إلى الميت؛ لأنه لم ينقل عن أحد من الأئمة الإذن في ذلك. وقد قال العلماء: إن القارئ إذا قرأ لأجل المال فلا ثواب له فأي شيء يهديه إلى الميت، وإنما يصل إلى الميت العمل الصالح، والاستئجار على مجرد التلاوة لم يقل به أحد من الأئمة، وإنما تنازعوا في الاستئجار على التعليم.(ردالمحتارایضا)
عن ابی ھریرۃ رضی اللہ عنہ قال:قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم :إذا مات الانسان انقطع عملہ إلامن ثالث: صدقۃ جاریۃ،أوعلم ینتفع بہ،أو ولد صالح یدعولہ .إسنادہ حسن وقال الترمزی حسن صحیح .(السنن الترمذی:رقم حدیث:1430)
 الأصل فی ھذا الباب إن إلانسان لہ أن یجعل ثواب عملہ لغریہ عند أھل السنۃ والجماعۃ، صلاۃکان ،أو صوما، أو حجا،أو صدقۃ،أو قراءۃ القرآن،أو الأذکار،أو غیرہ ذلک من الأنواع یصل إلی المیت، وینفعہ).البدایۃ مع الھدایۃ:1/296،البحر الرائق:1/105)
 ویکرہ اتحاذ الضیافۃ ثلاثۃأیام،وأکلھا؛لأنھامشروعۃ للسرورولا فی الشرورویکرہ باتحاذ الطعام فی الیوم الأول والثالث وبعد الأسبوع،والأعیاد.(الفتاوی البزازیۃ:4/81)
 الأفضل لمن تصدق نفلا أن ینوی لجمیع المؤمنین المؤمنات؛لأنھایصل إلیھم،ولاینقض من  أجرہ شئی (التاتارخانیۃ:2/319(
قال ابن عابدین سی مجموعۃ الرسائل:ومن استعجل جعلا علی عمل یعملہ لغیرہ من رقیۃ او غیرھا وان کانت بقرآناو علاج او بما اشبہ ذلک ،فذلک جائز،والاستجعال علیہ حلال فیصح.(مجموعۃ رسائل ابن عابدین:1 /156)

 سہیل جیلانی

دارالافتاء،جامعۃ الرشید،کراچی

27/جمادی الثانیۃ/1443ھ

n

مجیب

سہیل جیلانی بن غلام جیلانی

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔