021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
قرض پر مشروط اضافہ لینے دینے کا حکم
74648خرید و فروخت کے احکامقرض اور دین سے متعلق مسائل

سوال

میرا بیٹریوں کے کباڑ کا کاروبار ہے۔ ہم لوگوں سے بیٹریاں خریدتے ہیں، پھر آگے یا بیوپاری کو فروخت کرتے ہیں یا بلا واسطہ کمپنی کو فروخت کرتے ہیں۔ دونوں صورتوں میں وہ اکثر اس وقت رقم نہیں دیتے، آگے کی تاریخیں دیتے ہیں، جس کی وجہ سے ہم انہیں کہتے ہیں کہ آپ ہماری رقم (کمپنی کے مقررہ کردہ) فلاں ڈیلر کے اکاؤنٹ میں ڈال دیں۔ اس صورت کو ایڈجسٹمنٹ کہتے ہیں۔ پھر ہماری مرضی ہے کہ ہم اس ڈیلر سے اس رقم کے بدلے نئی بیٹریاں لیں یا رقم وصول کریں۔ یہ ایک بات ہوئی۔  

دوسری طرف کمپنی اپنے ڈیلروں کو ایک ٹارگٹ دیتی ہے، مثلا جو ڈیلر مہینے میں 50 لاکھ کی بیٹریاں کمپنی سے لے گا اور رقم کی ادائیگی کرے گا تو کمپنی اسے 5 سے 7 پرسنٹ انعام دے گی۔ ڈیلر کمپنی سے بیٹریاں لیتا ہے اور اسے رقم دیتا ہے۔ اب بسا اوقات ڈیلر کو ٹارگٹ پورا کرنے کے واسطے رقم درکار ہوتی ہے، وہ ہمیں کہتا ہے کہ آپ اپنی رقم کی ایڈجسٹمنٹ میرے اکاؤنٹ میں کرادیں، آپ کی رقم میرے اکاؤنٹ میں آجائے گی، میں پھر آپ کو آپ کی رقم بھی واپس کروں گا اور ٹارگٹ پورا ہونے پر کمپنی کی طرف سے ملنے والے انعام میں سے 2 سے 3 پرسنٹ حصہ بھی دوں گا۔

 اس طرح ہم اس کے اکاؤنٹ میں ایڈجسٹمنٹ کرالیتے ہیں، جس کی وجہ سے اس کے پاس ہماری رقم آجاتی ہے اور اس کے لیے کمپنی سے نئی بیٹریاں خریدنا یا پہلے سے خریدی ہوئی بیٹریوں کی قیمت ادا کرنا آسان ہوجاتا ہے۔ پھر وہ ہمیں ہماری اصل رقم اور اضافہ یا نقد کی شکل میں دیتا ہے یا ہم اس سے اس کے بدلے میں نئی بیٹریاں لیتے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ کیا ڈیلر کو کمپنی کی طرف سے ملنے والے انعام میں سے 2 سے 3 پرسنٹ تک حصہ لینا ہمارے لیے جائز ہے یا نہیں؟

o

صورتِ مسئولہ میں بیوپاری یا کمپنی آپ کی جو رقم ڈیلر کے اکاؤنٹ میں ڈالتی ہے، وہ آپ کا ڈیلر کے ذمے قرض بن جاتا ہے۔ پھر ڈیلر اس قرض پر آپ کو کمپنی کی طرف سے ملنے والی انعامی رقم کا ایک مخصوص حصہ مشروط اضافہ کے طور پر دیتا ہے۔ اور قرض پر مشروط اضافہ سود ہے، جس کا لینا دینا دونوں سخت حرام اور ناجائز ہے۔ لہٰذا ڈیلر کا آپ کو قرض پر یہ اضافہ(نقد رقم کی شکل میں ہو یا نئی بیٹریوں کی شکل میں)  دینا اور آپ کا وصول کرنا جائز نہیں، اس سے بچنا لازم اور ضروری ہے۔

حوالہ جات

القرآن الکریم:
{الَّذِينَ يَأْكُلُونَ الرِّبَا لَا يَقُومُونَ إِلَّا كَمَا يَقُومُ الَّذِي يَتَخَبَّطُهُ الشَّيْطَانُ مِنَ الْمَسِّ ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ قَالُوا إِنَّمَا الْبَيْعُ مِثْلُ الرِّبَا وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا فَمَنْ جَاءَهُ مَوْعِظَةٌ مِنْ رَبِّهِ فَانْتَهَى فَلَهُ مَا سَلَفَ وَأَمْرُهُ إِلَى اللَّهِ وَمَنْ عَادَ فَأُولَئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ (275) يَمْحَقُ اللَّهُ الرِّبَا وَيُرْبِي الصَّدَقَاتِ وَاللَّهُ لَا يُحِبُّ كُلَّ كَفَّارٍ أَثِيمٍ} [البقرة:  276].
السنن الكبرى للبيهقي (5/ 573):
 عن فضالة بن عبيد صاحب النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال: " كل قرض جر منفعة فهو وجه من وجوه الربا " .

عبداللہ ولی غفر اللہ لہٗ

  دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

24/ربیع الثانی /1443ھ

n

مجیب

عبداللہ ولی

مفتیان

مفتی محمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔