021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
سینما پر مشتمل عمارت کی تعمیر میں انویسٹمنٹ کا حکم
74672خرید و فروخت کے احکامخرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل

سوال

کیا ایسی عمارت کے بنانے میں بطور انوسٹر شریک ہونا جائز ہے،جس میں شاپنگ مال اورسینیما بھی بنے گا،انوسٹر ایسی عمارت کے لئے خریدی گئی زمین میں شراکت دار ہوتے ہیں؟

عمارت کانقشہ اور  تين يا چار سالہ construction plan متعلقہ  اداروں سے approve کروانےکے بعد اس کو خریداروں کے لئے advertise کیا جاتا ہے ۔ جو رقم خریدار جمع کروا کے اپنےلئے دوکان یا فلیٹ کی booking کرواتے ہیں اس رقم سےعمارت  تعمیر کی جاتی ہے،عمارت مكمل ہونے پر انوسٹر کو اس کے حصے کا منافع یا نقصان رقم کی صورت میں دے دیا جاتا ہے۔

o

اس مجموعی عمارت میں انویسٹر کے طور پر شریک ہونے  کا حکم یہ ہے کہ

(۱)اگراس عمارت میں سینما کی جگہ خاص سینماکے طرزپراس طور بنائی جائےکہ اس میں سینما کے لیے استعمال ہونے والےمخصوص آلات ومشینری کی فراہمی کے ساتھ تیار کیا جائے تو ایسی صورت میں  سینما کے بقدرانویسٹمنٹ جائز نہیں اور اگر شراکت پہلے کرچکا ہے توفی الحال حتی الامکان اس سے براءت اور لا تعلقی کا اظہار اس پر لازم ہے۔

(۲)اگرآلات وسامان تو فراہم نہ ہو،لیکن اس کو سینما کے لیے استعمال کرنے میں مزید کسی قسم کی تبدیلی کی ضرورت نہ ہوتوایسی صورت میں اس کے لیےاس میں سینما کےبقدر حصہ کے تعمیر میں شرکت مکروہ ہے،البتہ چونکہ اس عمارت یامتعلقہ آلات کا درست استعمال بھی ممکن ہے،اگرچہ غالب استعمال ناجائز ہے،لہذاصورت مسؤولہ میں انویسٹمنٹ کامعاملہ  اصل مسئلہ سےلاعملی یاحقیقت حال سے ناواقفیت کی بناء پرہونے  کی وجہ سےاس کے آگے بیع و آمدن کو حرام تو نہیں کہا جاسکتا،لیکن مجموعی منافع میں سے سینما کے حصہ کے بقدر نفع کا استعمال کراہت سے خالی بھی نہیں،لہذابلا نیت ثواب اس کا صدقہ کرنا پہلی صورت میں لازم اور دوسری صورت میں مبنی بر احتیاط ہوگا۔

(۳) اگرکوئی متعین عمارت خاص سینما طرز پرنہ ہو،لیکن اس کو سینما کے لیے استعمال کرنے کے لیے اضافی آلات وسامان کے ساتھ واضح تبدیلی کی بھی ضرورت ہوتو ایسی صورت میں بطور انوسٹر شریک کے لیے اپنے سرمایہ کے مکمل منافع کا استعمال جائز ہوگا۔

واضح رہے کہ ایسی صورت میں انویسٹمنٹ میں اگرچہ کوئی قباحت نہیں،لیکن کسی کو سینما کے لیےعمارت دینا بہر حال( خواہ عمارت کسی بھی صورت میں کیوں نہ ہو) کراہت سے خالی نہیں۔

حوالہ جات

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (5/ 144)
ويجوز بيع آلات الملاهي من البربط، والطبل، والمزمار، والدف، ونحو ذلك عند أبي حنيفة لكنه يكره وعند أبي يوسف، ومحمد: لا ينعقد بيع هذه الأشياء؛ لأنها آلات معدة للتلهي بها موضوعة للفسق، والفساد فلا تكون أموالا فلا يجوز بيعها ولأبي حنيفة - رحمه الله - أنه يمكن الانتفاع بها شرعا من جهة أخرى بأن تجعل ظروفا لأشياء، ونحو ذلك من المصالح فلا تخرج عن كونها أموالا، وقولهما: إنها آلات التلهي، والفسق بها قلنا نعم لكن هذا لا يوجب سقوط ماليتها كالمغنيات، والقيان، وبدن الفاسق، وحياته، وماله، وهذا؛ لأنها كما تصلح للتلهي تصلح لغيره على ماليتها بجهة إطلاق الانتفاع بها لا بجهة الحرمة،
الفتاوى الهندية (5/ 131)
إذا كسر بربط إنسان أو طنبوره أو دفه أو ما أشبه ذلك من آلات الملاهي فعلى قولهما لا ضمان على قول أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - يجب الضمان وذكر في الجامع الصغير أن على قول أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - يضمن إلا إذا فعل بإذن الإمام قال القاضي الإمام صدر الإسلام: الفتوى على قولهما لكثرة الفساد فيما بين الناس وذكر الشيخ الإمام فخر الإسلام في شرح الجامع الصغير أن قول أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - قياس وقولهما استحسان
الفتاوى الهندية (4/ 450)
وإذا استأجر الذمي من المسلم دارا يسكنها فلا بأس بذلك، وإن شرب فيها الخمر أو عبد فيها الصليب أو أدخل فيها الخنازير ولم يلحق المسلم في ذلك بأس لأن المسلم لا يؤاجرها لذلك إنما آجرها للسكنى. كذا في المحيط.
الفتاوى الهندية (4/ 449)
إذا استأجر الذمي من المسلم بيتا ليبيع فيه الخمر جاز عند أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - خلافا لهما. كذا في المضمرات.

نواب الدین

دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

۲۴ربیع الثانی۱۴۴۳ھ

n

مجیب

نواب الدین صاحب

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔